کورونا وائرس اور مالی بحران

کورونا وائرس اور مالی بحران
کورونا وائرس اور مالی بحران

  

کورونا وائرس کے عفریت نے عالمی سطح پر جو بحران پیدا کئے ہیں، ان سے پوری دنیا کی ترجیحات تبدیل اور اولین ترجیح انسانی بقاء بن چکی ہے۔ چین کے ایک شہر سے پھوٹنے والی اس وباء نے دنیا کے تمام طاقتور ممالک کو ان کی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔ اب وہ خود بھی مدد کے طلب گار ہیں۔ چند صدیاں پہلے لوگ ہیضے کی وباء کا شکار ہوئے تھے اور نہ جانے کتنے لوگ موت کا شکار ہوئے، لیکن آج ہیضہ ایک معمولی مرض بن گیا ہے جس سے جان جانے کا خدشہ بالکل بھی نہیں۔ اسی طرح ٹی بی ایسا خطرناک مرض تھا، جس کا علاج شروع میں ممکن نہیں تھا اور ٹی بی کی وباء جب لوگوں میں بھی پھیلی تو جان لیوا ثابت ہوئی، لیکن آج دیکھیں تو ٹی بی قابل علاج ہے اور مہلک بیماریوں کی فہرست میں بہت نیچے نظر آ تی ہے۔ انسان نے بے شک بہت کچھ کر لیا ہے، لیکن اپنے سامنے دم توڑتے انسانوں کے لئے کورونا وائرس کی ویکسین نہیں بنا سکا۔ قدرتی آفات اور وبائیں دنیا کے امیر ترین اور مفلوک الحال لوگوں میں کوئی امتیاز نہیں رکھتیں، کورونا وائرس نے یہ بات ثابت بھی کر دی ہے۔ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات اور متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے پوری دنیا سہمی ہوئی ہے۔ ایسی ہی صورت حال سے متعلق امریکی ٹی وی پر ایک براہ راست رپورٹ پیش کی جارہی تھی، جہاں ایک اسلحہ فروخت کرنے والے سٹور کے باہر ایک لمبی قطار تھی۔ لوگوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ عنقریب خوراک کی عدم دستیابی کے باعث لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں گے، اس لئے حفاظتی اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلحہ خریدا جارہا ہے۔

سعودی وزارت تجارت کے مطابق وزارت کے افسر، غلہ جات کے سرکاری اور غیر سرکاری گوداموں اور ذخیروں کا دورہ کر کے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملک میں کھانے پینے کی چیزیں وافر مقدار میں موجود ہیں بھی کہ نہیں؟ مشرق وسطیٰ میں خوراک کا سب سے بڑا ذخیرہ اس وقت سعودی عرب کے پاس ہے۔ ایسی خبروں کے بعد ترقی پذیر ملکوں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، کے عوام کا کیا مستقبل ہوگا؟ اب ایک طرف تو کورونا وائرس کے خوف سے نظام زندگی معطل ہو چکا ہے، ہر شعبے میں پیش رفت نصف سے بھی کم رہ گئی ہے، تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے، کھیلوں کے میدان سنسان ہوگئے، سڑکیں ویران ہوگئی ہیں اور زندگی کے شور شرابے سمٹ کر افواہوں اور قیاس آرائیوں میں بدل گئے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ رواں سال میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں معیشت اور سماجی حالات کا برا حال ہوگا، جس کی زد میں پاکستان بھی آئے گا، جہاں ملکی معیشت صرف کاغذات میں ہی ترقی کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں اگر کچھ شعبوں میں بظاہر بہتری آئی بھی ہے تو اس کے مقابلے میں بیروزگاری اور کسادبازاری بھی دوگنا بڑھی ہے۔

امریکہ میں کہا جا رہا ہے کہ موجودہ صورت حال کی وجہ سے بیروزگاری 20 فیصد تک بڑھ جائے گی تو پاکستان میں حالات اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ اب ایک بہت بڑا بین الاقوامی معاشی بحران آنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے، جس سے ساری دنیا دو چار ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی درآمدات و برآمدات کا توازن خراب ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے والا ہے۔ اس حوالے سے ہارورڈ سکول آف بزنس کے ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ چھ ماہ میں حالات صحیح نہ ہوئے تو دنیا میں ایک نیا معاشی بحران جنم لے سکتا ہے، جس سے دنیا واپس بارٹر ٹریڈ کی طرف جا سکتی ہے۔ مال کے بدلے مال کی تجارت سے بینکاری اور جدید ٹریڈ سسٹم بری طرح متاثر ہوں گے۔

اس بحران سے نکلنے کے لئے وزیراعظم کو بین الاقوامی اداروں سے قرضے معاف کرانے کی باتیں کرنے کے بجائے 30 سے 40 سال تک ری شیڈول کرانے کی بات کرنی چاہئے۔ سعودی عرب اور روس کی لڑائی میں تیل سستا ہوا، تمام ممالک نے بڑی مقدار تیل درآمد کیا اور انتہائی سستے داموں بیچا، مگر پاکستان میں تیل کی قیمت میں صرف 5 روپے کی کمی آئی۔ باقی سارا پیسہ کہاں گیا؟ اس کا کوئی جواب نہیں۔ عالمی برادری سے ملنے والی امداد کا درست استعمال یقینی بنانے کے لئے حکومت کو تمام خبریں واضح کرنا ہوں گی۔ کورونا وائرس کے حوالے سے وزیر اعظم نے جو بھی بیانات دیئے ہیں، ان سے پوری قوم کو کوئی نئی چیز سننے کو نہیں ملی۔ اپوزیشن جماعتیں اور فلاحی تنظیمیں اس بحران میں جتنا بھی متحرک ہو جائیں، حکومت کی مدد اور واضح لائحہ عمل کے بغیر ان کا کردا+ر محدود رہے گا۔ سندھ کے بعد پنجاب حکومت نے 14 دنوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ فوجی جوانوں کے تعینات ہونے سے کم سے کم یہ فائدہ تو ہوگیا ہے کہ اب کوئی باہر نہیں نکلے گا۔ وزیر اعظم کے ریلیف پیکیج کے اعلانات نے بھی بہت سے لوگوں کوامید دے دی ہے۔اگرچہ یہ فیصلے دیر سے کئے گئے ہیں، پھربھی انہیں سراہا جانا چاہیے۔اس حکومت کے دور میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ یہ پہلے ہر صحیح کا م کو ماننے سے انکار کرتی، لیکن جب حالات قابو سے باہر ہونا شروع ہوں تو پھر یو ٹرن لے لیا جاتا ہے۔لاک ڈاؤن کے معاملے میں بھی ایسے ہی ہوا،پاکستانیوں کی جان بچانے کے لئے لاک ڈاؤن ضروری ہو گیا ہے۔یہ بات درست ہے کہ ا س سے معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوگا، مگر انسانی زندگی سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -