کورونا اور ہمارے رویے

کورونا اور ہمارے رویے
کورونا اور ہمارے رویے

  



کورونا کی بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں نے لوگوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ دھوئیں،جبکہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ صحت عامہ، صفائی ستھرائی، اور احتیاط سے متعلق اسلام کا جو موقف ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ دین اسلام میں صفائی اللہ کے قرب کا ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہے۔ہر مسلمان کے لئے فرض ہے، وہ نماز سے قبل وضو کرے، وہ تمام اعضاء دھوئے جہاں گندگی، مٹی، دھول اور پسینے کا گمان ہوتا ہے۔ عبادت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کپڑے اور بدن پاک صاف ہوں اور وہ جگہ بھی پاک صاف ہو، جہاں عبادت کی جا رہی ہو۔اللہ تعالیٰ صفائی کے متعلق قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس کے علاوہ متعدد احادیث میں جذامی شخص سے بچنے کا کہا گیا ہے۔وباء والی جگہوں یا جہاں طاعون پھیلا ہو وہاں جانے سے اور اگر وہاں موجود ہوں تو نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔ اپنے گزشتہ کالم میں ایک حدیث بیان کی تھی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جذام یا کوڑھ کے مریض سے ایسے بھاگو، جیسے شیر سے بھاگتے ہو، اس کے علاوہ بخاری شریف میں آیا ہے کہ اپنے بیمار اونٹ کو تندرست اونٹوں میں نہ لے کر جاؤ۔ بعض احادیث کے مطابق،جس شخص کو کوڑھ کی بیماری ہو، اس سے ایک نیزے کے فاصلے سے گفتگو کرنے کا حکم بھی آیا ہے۔کورونا کی بیماری میں بھی ڈاکٹر اور سائنسدان کہتے ہیں کہ کورونا کے مریض سے ایک میٹر کے فاصلے پر رہیں،ہجوم والی جگہوں پر مت جائیں،عام لوگ ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر رہ کر گفتگو کریں تو اس کا مقصد بھی بیماریوں سے بچنا ہے، لیکن ابھی بھی ہمارے کچھ عاقبت نا اندیش علما ء حضرات ان پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔

مندرجہ بالا احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں، جن سے احتیاط برتنا ضروری ہے۔بیماری کے متعدی ہونے اور اس سے بچنے کے لئے مندرجہ بالا تمام حدیثوں کی تاکید کے باوجود بھی آج بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بیماری کے متعدی ہونے کے قائل نہیں ہیں اور بیماریوں سے احتیاط برتنا ان کے نزدیک گویا ایک غیر شرعی عمل ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہربیماری اللہ ہی کی جانب سے ہوتی ہے اور کوئی بیماری اگر کسی انسان سے دوسرے انسان کو لگتی ہے تو اس میں بھی اللہ ہی کی مرضی ہوتی ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں احتیاط کا بھی حکم دیا ہے، یعنی ایک جانب عقیدے کی اصلاح بھی فرما دی کہ کوئی اس بات پر یقین نہ کرے کہ بیماریاں انسان کی وجہ سے لگتی ہیں تو دوسرا بیماریوں سے بچنے کی ترغیب بھی دی ہے۔ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر کام اللہ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے، اس لئے ہمارے بعض بھائی بیماری کے دوران احتیاط کو غیر اسلامی سمجھ رہے ہیں، جبکہ اللہ کے نبی ﷺ نے ہی ہمیں بیمار پرسی کرنے کا طریقہ اور اس طرح کی بیماریاں، جو پھیلنے والی ہیں، جیسے جذام، کوڑھ، یا طاعون اس میں کیسا رویہ اختیار کرنا ہے، وہ بھی بتا دیا ہے۔

دنیا چونکہ اسباب کی دنیا ہے یہاں ہر چیز کسی نہ کسی سبب کے تحت ہی موجود ہے۔اب کورونا وائرس کو ہی لے لیں، یہ بھی کسی جانور سے پھوٹا یا حضرت انسان کی کسی کارستانی سے، لیکن اس وقت یہ متعدی مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کے پھیلنے کے اسباب ہیں، جن سے ہمیں بچنا چاہئے۔ ہمارا دین بھی ہمیں جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کرتا ہے،اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اپنے آپ کو مرض سے بچانے کے لئے الگ تھلگ رہیں، کیونکہ ہمیں کوئی بیماری لگنی ہے تو وہ اللہ ہی کی مرضی سے لگنی ہے اور اگر بچانا ہے تو وہ اللہ ہی کی ذات نے بچانا ہے، اس لئے جو ڈاکٹر کہتے ہیں ان پر عمل کیا جائے، تاکہ ایک تو ہمارا عقیدہ بھی درست رہے اور دوسرا ہماری صحت بھی۔ اب ہم آتے ہیں عمومی رویوں کی جانب کہ ہم بطور قوم کس طرح بیماریوں اور آفات کو اپنے لئے فائدہ مند بناتے ہیں اور انسانیت اور اسلام کے اصولوں کو بھول جاتے ہیں۔ ابھی پاکستان میں کورونا وائرس اتنا پھیلا نہیں تھا کہ ہمارے دکاندار بھائیوں نے لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا(یہاں تمام دکاندار نہیں، صرف ان کی جانب اشارہ ہے جو اس وائرس کو بھی اپنے کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں) ہاتھ دھونے والا سینی ٹائزر جس کی قیمت اس وائرس سے قبل پچاس روپے سے لے کر سو روپیہ فی بوتل تھی، اب وہی سینی ٹائزر دکانوں پر کمیاب ہو چکا ہے اور اگر ملتا بھی ہے تو اس کی قیمت بھی سینکڑوں روپے ہو چکی ہے۔

پاکستان کی اکثر یت غریب لوگوں پر مشتمل ہے اور پاکستان کی تقریباً پچاس فیصد آبادی یا تو غریب ہے یا لوئر مڈل کلاس ……ان لوگوں میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اتنے مہنگے سینی ٹائزر خرید کر خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکیں۔ ایسے عناصر جو اس آفت کے دوران بھی اپنی جیبیں بھرنے سے باز نہیں آتے، ان کے لئے آخرت میں اللہ کی جانب سے وعید تو ہے ہی، لیکن موجودہ حکومت کو بھی چاہئے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس طرح کے عناصر کو عبرت کا نشان بنائے، تاکہ یہ کسی مظلوم اور مجبور کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے اشیائے خورو نوش کا بھی ذخیرہ کر لیا ہے اور اس کو مہنگے داموں بیچ رہے ہیں۔ہمارا دین ہمیں اس چیز سے منع فرماتا ہے۔اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے، اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں …… ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ ایسے میں ہمارے وہ بھائی جو اس عمل کے مرتکب ہو رہے ہیں، انہیں اس حدیث کی روشنی میں احسن عمل کرنا چاہئے اور اس آفت کو موقع غنیمت جاننے کی بجائے اپنے پاکستانی و مسلمان بھائیوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا چاہئے۔اس ضمن میں حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور لاک ڈاؤن کے دوران ایسے غریب اور دیہاڑی دار افراد، جو دو وقت کی روٹی کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں، ان کا بھی خیال کرنا چاہئے اور انہیں کھانا یا راشن مہیا کرنا چاہئے، تاکہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں رہ کر روزی روٹی کی فکر سے آزاد ہو سکیں۔

مزید : رائے /کالم