کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی تیاری

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی تیاری
کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی تیاری

  



پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم خان ایک جید فارماکالوجسٹ،منتظم اور شعبہ جاتی علم و ہنر میں طاق اور دردِ دِل رکھنے والے ذمہ دار شہری ہیں۔ سینئر سرکاری پوزیشن سے ریٹائر ہونے کے بعد ایک غیر ملکی قومی یونیورسٹی میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے بانی و سربراہ کے طور پر مصروفِ عمل ہیں۔مختلف قومی و بین الاقوامی امور پر ان سے بصیرت افروز گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ گزشتہ دِنوں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ملیریا کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی دوائی کلوروکین کونوول کورونا ائرس کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے بھی ایسا ہی کہا ہے…… تو دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے ملک میں بھی ایک لہر اُٹھی کہ بس اب کورونا کا علاج آ گیا ہے……ہم نے ڈاکٹر عبدالحلیم خان صاحب سے رابطہ کیا اور رہنمائی طلب کی تو انہوں نے بتایا ملیریا اور کورونا دو الگ الگ بیماریاں ہیں،دونوں کے جرثومے الگ الگ نوعیت کے ہیں،اِس لئے ملیریا کی دوائی سے کورونا وائرس کو مارنا بادی النظر میں ممکن نہیں ہے۔ہم نے مارکیٹ سے یہ دوا لینے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ یہ دوائی مارکیٹ سے ایسے ہی غائب ہو چکی ہے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ، کلورو کین ایک عام اور سستی سی ہمہ وقت دستیاب رہنے والی دوائی ہے،

اس کا فوری طور پر مارکیٹ سے غائب ہونا عجیب لگا،لیکن پھر اطمینان بھی ہو گیا کہ ہمارا قومی شعار ہی ایسا ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انکشاف ہوا اور حیران کن بات بھی سامنے آئی کہ ہمارے ہاں قومی سطح پر نہ تو ایسا کوئی میکانزم موجود ہے جو اس طرح ادویات کی اچانک کمیابی پر کنٹرول کر سکے اور نہ ہی عوام کی رہنمائی کے لئے کوئی بندوبست ہے،جو انہیں درست گائیڈ کر سکے۔عوام ایک بھیڑ چال چل رہے ہیں …… کورونا کیا ہے،کیسے ہوتا ہے، اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟اس حوالے سے بھی ہمارے ہاں درجنوں آراء پائی جاتی ہیں۔ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اتائی ماہرین سے بھرا پڑا ہے،جو کلونجی سے لے کر عربی کلمات تک مختلف علاج تجویز کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی تو بات ہی نرالی ہے، اس پر تو کسی کا بھی کنٹرول نہیں ہے،بلکہ سب کا کنٹرول ہے، جو چاہے جیسے چاہے اسے اپنی عقل و دانش کے مطابق استعمال کر رہا ہے۔ ہمیں ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ ماسک کس کو استعال کرنا چاہئے؟ کون سا ماسک کس مقصد کے لئے ہوتا ہے؟اس کی مدت استعمال کتنی ہوتی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ایسے ہی کلوروکین ہے۔ڈاکٹر عبدالحلیم خان نے بتایا کہ کلوروکین ملیریا کے لئے ایک تیر بہدف دوا ہے لیکن اس کا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال انتہائی نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ مرض کی شدت کے مطابق ہر مریض کو کلوروکین کی مختلف مقدار ایک مخصوص مدت تک دی جاتی ہے،جس کا تعین ڈاکٹر کرتا ہے، وگرنہ معاملات میں بگاڑ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

اب امریکی ایف ڈی اے کی طرف سے کلوروکین کے کورونا کے علاج کے لئے استعمال کی تردید بھی آ چکی ہے،لیکن ہم نے تو اسے مارکیٹ سے یوں غائب کیا ہے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ہمارے ہاں رہنمائی تو دور کی بات ہے،درست معلومات عوام تک پہنچانے اور غلط انفارمیشن کے پھیلاؤ کو روکنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ہمارے ہاں شعبہ طب، قومی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتا،عام حالات میں بھی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جا سکا ہے، ہنگامی حالات میں تو ضروریات کی فراہمی کا خیال کرنا بھی عبث ہے۔ڈاکٹر ہمارے قومی ہیلتھ سیکٹر میں ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں، صحت عامہ کی خدمات کے شعبے میں انہیں بنیادی پتھر نہیں،بلکہ ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہی جب یہاں مسلمانوں کی حکمرانی کا قلع قمع ہو گیا تو عیسائی مشنریوں نے عوام تک رسائی اور تبلیغ کے لئے تعلیم کے شعبے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے شعبے کا انتخاب کیا۔برطانیہ سے چھوٹے بڑے مبلغین استادوں اور ڈاکٹروں کے روپ میں یہاں برصغیر کے طول و عرض میں مصروف عمل ہوئے، اس طرح انہوں نے تعلیم و تدریس اور طبی سہولتوں کی فراہمی کو ایک تقدس عطا کیا۔ پاکستان کے چھوٹے بڑے کئی نامور مسیحی سکول اور کالج اس دور کی یاد گار ہیں۔ کئی ہسپتال بھی اس دور میں قائم کئے گئے ہیں، جن کی باقیات ہمیں اس ”سنہری دور“ کی یاد دلاتی ہیں …… کیونکہ تقسیم ِ ہند کے بعد یہاں مشنریز کی تبلیغی سرگرمیاں اس طرح جاری رکھنا ممکن نہیں تھا، اِس لئے وہ واپس چلے گئے۔ ہیلتھ سیکٹر میں اس دور کی یاد گار کے طور پر نرسنگ کے شعبے میں کرسچن خواتین آج بھی شاندار خدمات سرانجام دے رہی ہیں، خلق خدا کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر ان کا یہ جذبہ ئ خدمت آج بھی نظر آتا ہے۔

حقوق العباد کے حوالے سے اسلام بہت زور دیتا ہے۔ متوازن سماج اور فلاحی معاشرے کے قیام میں حقوق العباد کلیدی اہمیت رکھتے ہیں،لیکن ہمارے ہاں زیادہ زور حقوق اللہ کی ادائیگی پر دیا جاتا ہے،جس کے باعث حقوق العباد کی اہمیت کم محسوس ہوتی ہے۔عوامی خدمات کے شعبے میں نیکی اور خدمت خلق کا جذبہ کم اور نوکری کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ویسے تو اگر نوکری کے حقیقی جذبے کے تحت بھی کام کیا جائے اور ڈاکٹر شعبہ طب کی مروجہ اخلاقیات کے مطابق ہی کام کریں تو اچھے نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں،لیکن ہمارے ہاں معاملات درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔اولاً تو میڈیکل کے شعبے میں قومی ضروریات کے مطابق ماہرین بشمول ڈاکٹر، نرسیں، پیرا میڈیکس اور دوسرے شعبہ جاتی سکلڈ موجود ہی نہیں ہیں۔بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق ضروریات دیکھتے ہوئے نجی شعبے نے اس طرف سرمایہ کاری کی ہے،لیکن ان کا مقصد منافع اندوزی ہے، اس لئے وہ معیار پر کم ہی توجہ دیتے ہیں، جس کے باعث اس شعبے میں آنے والے ”ماہرین“ کا معیار روز بروز گرتا چلا جا رہا ہے۔ تعلیمی و تربیتی معیار کے ساتھ ساتھ طبی شعبے کی اخلاقیات کے حوالے سے بھی اس نئی کھیپ کا اللہ ہی حافظ ہے۔

گزرے چند سالوں میں ینگ ڈاکٹروں کے رویوں کے بارے میں جان کر انتہائی تکلیف ہوتی ہے، اپنے مطالبات منوانے کے لئے آئے روز کی ہڑتالیں،ہڑتالوں کے دوران مریضوں کے ساتھ رویے اور پھر عامتہ الناس کے ساتھ ان کے ٹکراؤ اور بُرے سلوک کی باتیں پڑھ اور دیکھ کر دِل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی یورپ اور چین سے بھی ڈاکٹر تیار ہو کر ہمارے نظام میں شامل ہونے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ پاکستان سے ایسے نوجوان، جنہیں یہاں سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں مل پاتا،وہ ایسے ہی غیر ملکی اور غیر مستند اداروں کا رُخ کرتے ہیں اور پھر جب وہاں سے جیسے تیسے بھی گریجویٹ بن کر آتے ہیں تو یہاں ملکی نظام طب میں کھپنے کی کوشش کرتے ہیں،اس طرح ہمارے ملک کا پہلے سے ہی کمزور نظام، مزید کمزوریوں اور پیچیدگیوں کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہم سب،بلکہ پوری دُنیا ایک خدائی قہرو غضب کے خطرناک دور سے گزر رہی ہے۔ وباء نے ہر ایک پر حملہ کر رکھا ہے، جدید ترقی یافتہ اقوام بھی اس کا شکار ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومتوں کا کلیدی اور قائدانہ رول ہے،جبکہ شعبہ طب نے اس عفریت کا مقابلہ کرنے کے لئے حتمی کردار ادا کرنا ہے۔ ہمارے شعبہ طب کی حالت انتہائی پتلی ہے، ابھی تک اس وباء سے نمٹنے کے حوالے سے سٹینڈرڈ آپریشنگ پروسیجر بھی قوم کے سامنے نہیں لایا جا سکا۔ سنی سنائی باتوں اور ٹوٹکوں پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا،ہمارے سماجی رویے بھی عجیب و غریب ہیں۔ مرکزی طور پر کوئی ایسی پالیسی سامنے نہیں آ سکی،جس پر عمل درآمد کر کے اس وباء کا مقابلہ کرنے کے لئے عامتہ الناس کو تیار کیا جا سکے۔ لاک ڈاؤن یا نو لاک ڈاؤن پر ہمارے پالیسی ساز،ماہرین اور دانشور اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے ہیں۔ فیصلہ سازی کے علاوہ غورو فکر اور تدبر کا بھی فقدان نظر آ رہا ہے۔وائرس اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو چکا ہے اور ہم ابھی تک اس کا مقابلہ کرنے کے لئے صف بندی میں مصروف ہیں،اللہ خیر کرے۔

مزید : رائے /کالم