پورا ملک لاک ڈاؤ ن، شہرو ں کے داخلی، خارجی راستے بند، ٹرین سروس معطل، لاہور میں کرونا کا ایک مریض چل بسا، مریضوں کی کل تعداد 975ہو گئی

پورا ملک لاک ڈاؤ ن، شہرو ں کے داخلی، خارجی راستے بند، ٹرین سروس معطل، لاہور ...

  



اسلام آباد، لاہور، کراچی، مظفر آباد(جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 972 ہوگئی، سندھ میں 407، پنجاب میں 281، خیبرپختونخوا میں 78 افراد کرونا کا شکار ہوئے جبکہ بلوچستان میں 110، اسلام آباد میں 15، گلگت میں 80 اور آزاد کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔پاکستان میں جب کہ لاہور میں گزشتہ روز ایک مریض کے جاں بحق ہونے سے کرونا سے مرنے والوں کی تعداد7ہو گئی 6۔ جاں بحق ہونے والوں میں 3 کا تعلق پشاور، ایک کا کراچی، ایک کا بلوچستان اور ایک کا گلگت بلتستان سے ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 249 کنفرم مریض ہیں، 176 زائرین، 51 لاہور، 2 ملتان، 2 راولپنڈی، 5 گجرات، 3 جہلم، 6 گوجرانوالہ، 1 فیصل آباد، 1 مں دی بہاوالدین، 1 رحیم یار خان، 1 سرگودھا کے مریض میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔پنجاب میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے جس کے بعد سرکاری اعداد و شمار کے تحت کورونا وائرس سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جب کہ 6 افراد صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ٹوئٹ میں کورونا وائرس سے لاہور میں ایک مریض کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کا لاہور میں ایک مریض چل بسا، 57 سالہ افراسیاب میوہسپتال میں زیر علاج تھا تاہم آج افراسیاب مرض کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں کیے گئے لاک ڈان کا گزشتہ روز دوسرا روز ہے، شہر میں لاک ڈان کی وجہ سے سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب جب کہ پولیس کا مختلف علاقوں میں گشت کرتی رہی، اس کے علاوہ پولیس اور رینجرز کی نفری شہر کے مختلف مقامات پر بھی تعینات ہے۔دوسری جانب لاک ڈان کے دوران دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث محکمہ داخلہ کی جانب سے کراچی سمیت سندھ بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔آزاد کشمیر حکومت نے بھی 3 ہفتوں کے لئے لاک ڈان کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے غیر ضروری سفر اور باہر نکلنے پر پابندی ہے، ہر قسم کی ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ کورونا سے نمٹنے کیلئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن، پنجاب میں عملدرآمد کا آغاز ہوگیا، سرکاری اور نجی دفاتر، شاپنگ مالز، تفریحی مقامات بند ررہے۔ پنجاب میں لاک ڈاؤن کا آغاز صبح 9 بجے ہوا جس کے دوران اندرون شہر اور ایک سے دوسرے شہر میں نقل و حمل ممنوع ہے۔ سماجی، مذہبی اور دیگر اجتماعات پر بھی پابندی ہو گی، شہر کی چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے، میٹرو سروس بھی تاحکم ثانی بند ہے، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی ہے۔ لاک ڈاؤن 7 اپریل صبح 9 بجے تک جاری رہے گا۔پنجاب میں جزوی لاک ڈاؤن کے دوران میڈیکل سٹور، فار ما فیکٹریاں، کریانہ سٹور کھلے رہیں گی، دودھ، دہی، فروٹ اور سبزی کی دکانوں سے بھی لوگ خریداری کرسکیں گے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق جزوی لاک ڈاؤن کے دوران سیکیورٹی اداروں، محکمہ صحت کے ملازمین اور صحافیوں کو استثنیٰ دیا گیا، سیکیورٹی ایجنسیز بھی پابندی سے مستثنٰی ہوں گی۔کال سینٹرز میں 50 فیصد عملے کے ساتھ اور بغیر پبلک ڈیلنگ کی اجازت ہوگی، ایسے سرکاری ملازمین جن کے پاس مصدقہ اجازت نامہ ہو گا، وہ گھروں سے باہر آ سکیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فیملی سے ایک شخص ضروری اشیا کی خریداری کیلئے گھر سے باہر آسکیں گے، صرف 2 افراد ضروری ادویات اور گراسری خریدنے کیلئے گھر سے باہر آسکیں گے۔ ایمرجنسی میں مریض کیساتھ 2 تیمارداروں ہسپتال جانے کی اجازت ہوگی، مذہبی رسومات نماز جنازہ یا تدفین کیلئے گھر سے باہر آ سکیں گے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق فلاحی ادارے جیسے ایدھی، سیلانی اور مفت دستر خوان بند نہیں کیے جائیں گے، معذور فرد کی مدد کیلئے 2 افراد بمعہ ایک ڈرائیور باہر آسکیں گے۔صوبے میں جزوی لاک ڈاؤن کے دوران ملک میں تمام بینکوں کی شاخیں کھلی رہیں گی، تاہم اوقات کار میں تبدیلی کی گئی ہے، ریلوے انتظامیہ نے ملک بھر میں ٹرین آپریشن 31 مارچ تک بند کر دیا،، وزارت ریلوے نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔بتایا گیا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ٹرین آپریشن بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سندھ میں لاک ڈاون کے سبب ٹرین آپریشن جزوی طور پر معطل کیا گیا تھا اور 34 ٹرینیں بند کی گئی تھیں چستان حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلا ؤکے خطرے کے پیش نظر صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیامحکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کے نوٹیفکیشن کے مطابق منگل 24 مارچ کو دوپہر 12 بجے سے 7 اپریل تک بلوچستان بھر میں شہریوں کی ہر قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی عائد ہوگی۔ لوگ گھروں تک محدود رہیں گے میڈیکل اسٹور، تندور، گوشت، آٹا، گھی سمیت بنیادی ضروریات کی اشیا فروخت کرنے والی دکانوں کے سوا باقی تمام مارکیٹیں اور دکانیں مکمل طور پر بند رہیں گی۔ دفعہ 144کے تحت لوگوں کی شہر کے اندر، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی آمدروفت پر پابندی ہوگی اسکے علاوہ نجی اور عوامی مقامات پر سماجی، مذہبی سمیت ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ تمام نجی و سرکاری دفاتر مکمل طورپر بند ہوں گے تاہم میڈیکل سروسز فراہم کرنے والے ادارے مثلا اسپتال، لیبارٹریاں اور میڈیکل اسٹورز کھلے ہوں گے۔ شہریوں کو صرف ضروری اشیااور ادویات کی خریداری یا ایمرجنسی میں گھر سے باہر جانے کی اجازت ہوگی ضروری مذہبی رسومات مثلا نماز جنازہ اور تدفین کی اجازت ہوگی مگر اس کیلئے بھی حفاظتی انتظامات کرنا ضروری ہوں گے۔ تین فٹ کا فاصلہ رکھنا ہوگا اور صرف قریبی رشتہ داروں کو شرکت کی اجازت ہوگی۔

لاک ڈاؤن

مزید : صفحہ اول