امریکہ نے افغانستان کی امداد کم کر دی، تعاون میں کمی کی دھمکی

  امریکہ نے افغانستان کی امداد کم کر دی، تعاون میں کمی کی دھمکی

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) افغان امن معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے امریکہ کابل انتظامیہ سے مطمئن ہے جبکہ اس نے طالبان کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاہدے کی خاصی حد تک پابندی کر رہے ہیں اس تاثر کا اظہار امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 23 مارچ کو افغانستان اور قطر کا ہنگامی دورے کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے جہاز میں موجود میڈیا سے بریفنگ کے دوران کیا اس دورے کا مقصد اس امر کا جائزہ لینا تھا کہ تمام فریق طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کے وعدے میں کس حد تک دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں شدید افسوس کا اظہار کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کابل میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ 23 مارچ کو الگ الگ ملاقاتوں میں بتایا کہ وہ تمام افغانیوں کو شامل کر کے ایک قومی نمائندہ حکومت پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں معاہدے کے مطابق ایسی حکومت کے قیام کیلئے کوششیں ضروری ہیں جو گورننس، امن اور سکیورٹی کے چیلنجوں پر پورا اتر سکے اور افغان شہریوں کو صحت اور فلاح و بہبود کی سہولتیں فراہم کر سکے۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر قومی نمائندہ حکومت کے قیام کیلئے کام نہیں ہو گا تو اس سے امریکہ کے موجودہ افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ رویہ افغانیوں، امریکیوں اور اتحادیوں کی توہین کے مترادف ہے جنہوں نے اس ملک کے نئے مستقبل کی تعمیر کیلئے جان و مال کی قربانیاں دی ہیں امریکہ نے کابل انتظامیہ کے رویے سے مایوس ہونے کے بعد فوری طور پر رواں برس کی امداد میں سے ایک ارب ڈالر کم کر دیا ہے اور آئندہ برس کیلئے بھی ایک ارب ڈالر کم کرنے کیلئے تیار ہے امریکہ نے کابل انتظامیہ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کئے جانے والے سکیورٹی آپریشنز کی حمایت نہیں کرے گاور نہ ہی ان سیاسی لیڈروں کی حمایت کرے گا جو ایسے آپریشنز کا حکم دیتے ہیں اور جو متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تا ہم امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کے مطابق مرحلہ وار اپنی افواج کا انخلاء جاری رکھے گا اگر تمام فریق تمام افغانیوں کو شامل کر کے ایک نمائندہ حکومت کے قیام کیلئے کوشش کرتے ہیں تو پھر امریکہ اس کی بھرپور حمایت کرے گا اور اپنے موجودہ فیصلے کو تبدیل بھی کر سکتا ہے امریکہ فی الحال افغانستان کے ساتھ اپنی شراکت ختم نہیں کر رہا اور افغان سکیورٹی فورسز کی حمایت سے بھی دست کش نہیں ہوا۔ امریکی وزیر خارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی طالبان لیڈر ملا برادر کے ساتھ ملاقات بہت سودمند رہی جن کے رویے سے وہ بہت مطمئن ہیں طالبان نے امن معاہدے کے مطابق امریکی افواج یا تنصیبات پر حملہ نہیں کیا انہوں نے امید ظنہر کی کہ وہ قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ بھی جلد شروع کر دیں گے جس کے وہ پابند ہیں امریکی وزیر خارجہ نے ایک بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ معاہدے کے مطابق افغانستان میں تشدد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

دفتر خارجہ

مزید : صفحہ اول