کرونا وائرس کے مسئلے پر نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس کا مطالبہ

  کرونا وائرس کے مسئلے پر نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس ...

  



کراچی (آئی ا ین پی) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر آپ 14 دن کے لیے گھروں میں نہ رہ کر ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہو تو ساری محنت ضائع ہوجائے گی۔ وفاقی حکومت اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سندھ حکومت کی مدد کرے۔ جانتا ہوں کہ اگر ہم سب ایک ہوجائیں تو کرونا وائرس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔کرونا وائرس کا کوئی علاج ہے اور نہ ہی کوئی ویکسین ہے، کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر سندھ حکومت سے تعاون کریں۔ سوشل میڈیا پراپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی اہم ذمہ داری اپنے عوام کی صحت اور زندگی کا تحفظ ہے، اسی لیے عوام کے تحفظ کے لیے سندھ حکومت نے سخت فیصلے لئے ہیں، لاک ڈاؤن سے بہت سے لوگ پریشان ہوں گے کہ وہ کیسے گزارہ کریں گے، سندھ حکومت کوشش کرے گی کہ آپ کو راشن پہنچائے۔بلاول بھٹو نے مخیر حضرات سے درخواست کی کہ وہ غریبوں کا خیال رکھیں، سندھ حکومت کا ساتھ دیں تاکہ غریبوں کا خیال کیا جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ جانتا ہوں نوکری پیشہ طبقے کو خدشہ ہوگا کہ کہیں وہ لاک ڈاؤن کے دوران بیروزگار نہ ہوجائیں، یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیاہے کہ کسی کو بیروزگار نہیں کیا جا سکتااور ملازمین کوپوری تنخواہیں بھی دی جائیں۔ اگر کوئی سندھ حکومت کے فیصلے کو نہیں مان رہا تو آپ حکومت سے رابطہ کریں، اگرملازمین کو نہیں نکالا جائے گا، تنخواہیں دی جائیں گی توسندھ حکومت بعد میں تعاون کرے گی۔

بلاول بھٹو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے صدر، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت بذریعہ ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس ہوئی۔اے پی سی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پرقائد حزب اختلاف مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ پہلے ہی کافی غلطیاں اورتاخیر ہوچکی ہے، مزید تاخیرناقابل معافی جرم ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں اپنی قومی تاریخ کے عظیم ترین چیلنج کا سامنا ہے، آج صحیح معنوں میں ہم حالت جنگ میں ہیں اور یہ تیسری عالمی جنگ ہے جس میں ایک طرف پوری دنیا ہے اور دوسری جانب انسانوں کی جان لینے والی کورونا کی عالمی وبا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے متفقہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، کرونا وائرس کا مسئلہ کسی ایک جماعت یا ایک صوبے کا نہیں، اس سے نمٹنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیشنل ایکشن پلان وفاقی حکومت کا اگلا قدم ہونا چاہیے مگر اس وقت وفاق گھبراہٹ کا شکار ہے، جبکہ اپوزیشن وفاق کا کردار نبھارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا وفاق کی ذمہ داری ہے اور اس مشکل وقت میں وفاق اپنی ذمہ داری نبھائے گا کیونکہ عمران خان صرف اسلام آباد کے نہیں پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے کہا کہ اتحاد کیذریعے ہی اس آفت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کوتمام جماعتوں کے ساتھ مل کرقومی پالیسی بنانا چاہیے تھی، یہ ہر طرح کیسیاسی اختلاف کو بالائیطاق رکھ کر قوم کو بچانیکا وقت ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کورونا وائرس کا مقابلہ سیلف آئسولیشن اورلاک ڈاؤن سے ہی ہوسکتا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ منفی پروپیگنڈا کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔جمعیت علمائے اسلام ے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سندھ حکومت نے بروقت اقدامات اْٹھائے جو قابل تعریف ہیں۔

اے پی سی مطالبہ

مزید : صفحہ اول