پاکستان کی کرونا سے نمٹنے کیلئے سارک وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کی تجویز

  پاکستان کی کرونا سے نمٹنے کیلئے سارک وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کی تجویز

  



اسلام آباد (آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)پاکستان نے خطے میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے سارک وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کی تجویز دیدی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بنگلہ دیشی ہم منصب اے کے عبدالمومن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کا ہر ممکن خیال رکھا جا رہا ہے۔بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش بھی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اٹھا رہا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے سارک کو انتہائی اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے،کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کیلئے اور سارک ممبر ممالک کے مابین اس موضوع پر جامع مشاورت کیلئے پاکستان "سارک وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کا متمنی ہے،دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات کے تناظر میں،اس امر پر زور دیا کہ" سارک کووڈ 19 ایمرجنسی فنڈ" کا قیام سیکرٹری جنرل سارک کی سربراہی میں عمل میں لایا جائے اور اس فنڈ کے قاعدو ضوابط سے متعلقہ امور مشاورت سے جلد طے کئے جائیں۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ایران کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے ہزاروں لوگ اس وباء سے متاثر ہو چکے ہیں ایران کو معاشی پابندیوں کے باعث اس صورت حال سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس وبا سے نبرد آزما ہونے کیلئے استعمال کر سکیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس عالمی وبا کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے اس لئے ہم نے درخواست کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ ہم اپنے وسائل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بروئے کار لا سکیں بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ اس تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو معاشی سہولت کی فراہمی اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کی طرف سے اس اہم معاملے کو جی 77 کے فورم پر اٹھانے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کا اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔علاوہ ازیں پاکستان ایران پر پابندیاں اٹھانے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم ہوگیا، فرانس سے رابطہ کر کے کرونا وبا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایران پر پابندیاں ختم کرنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جان ایو لودریان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وبا پھوٹنے کی وجہ سے ایران کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، ایران میں تیزی سے پھیلتی اس وبا کو نہ روکا گیا تو پورے خطے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران پر عائد پابندیوں کا معاملہ آئی ایم ایف اور جی 20 میں اٹھانے کا عندیا دیا۔شاہ محمود نے فرانس میں مقیم کرونا وائرس سے متاثرہ 13 پاکستانیوں کی بروقت طبی امداد پر فرانسیسی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں اٹلی کے سفارت خانے گئے جہاں تعینات اٹلی کے سفیر آندریاس فراریزے سے کروناکے باعث اٹلی میں ہونیوالے کثیر جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اظہار تعزیت کیا۔اطالوی سفیر نے سفارت خانے آمد اور اس مشکل گھڑی میں اظہار یکجہتی کرنے پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔مزید برآں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا عالمی وبا کے حوالے سے وزارت خارجہ میں قائم کیے گئے کرائسز مینجمنٹ سیل کا دورہ کیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔۔ وزیر خارجہ نے ڈی جی کرائسز مینجمنٹ کو ہدایت کی کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں نامزد فوکل پرسنز کے ساتھ مستقل رابطے کے ذریعے معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔وزیر خارجہ نے کرونا عالمی وبا کے پیش نظر، پاکستانی سفارتخانوں کو دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ترکی کے وزیرِ خارجہ میولوت چاوش اولو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ ترکی میں موجود پاکستانیوں کی دیکھ بھال اور جلد وطن واپسی کا معاملہ اٹھایا، دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پاکستان اور ترکی میں کیے گئے حفاظتی اقدامات پر بھی گفتگو کی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کرونا عالمی وبا کے پھیلاؤ کے خلاف ترکی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ترک وزیر خارجہ اور ترک عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم پاکستانی شہریوں کا، اپنے شہریوں کی طرح خیال رکھ رہے ہیں جنہیں فلائٹس بحال ہونے پر جلد پاکستان روانہ کر دیا جائے گا۔

پاکستان/شاہ محمود

مزید : صفحہ اول