خانہ جنگی و بیماریوں کے شکار ممالک یمن و لیبیا کورونا سے اب تک محفوظ

خانہ جنگی و بیماریوں کے شکار ممالک یمن و لیبیا کورونا سے اب تک محفوظ

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اس وقت کورونا وائرس دنیا کے کئی چھوٹے جزائر اور انتہائی چھوٹی ریاستوں تک نہیں پہنچا، وہیں کورونا سے متاثر ممالک چین، قازقستان اور روس جیسے ممالک کے ساتھ زمینی سرحد رکھنے والا ملک منگولیا اور میانمار، چین، تھائی لینڈ, ویتنام و کمبوڈیا جیسے ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں رکھنے والے ملک لاؤس تک بھی کورونا 24 مارچ کی شام تک نہیں پہنچا تھا۔منگولیا اور لاؤس جیسے ممالک میں تاحال کورونا وائرس کے کیس رپورٹ نہ ہونے پر کئی ممالک اور عالمی ماہرین صحت نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عین ممکن ہے کہ وہاں کی حکومت یا تو حقائق کو خفیہ رکھ رہی ہو یا پھر وہاں وبا کو تشخیص کرنے کا طریقہ ہی موجود نہ ہو۔تاہم منگولیا اور لاؤس کی طرح دیگر کئی ممالک بھی ایسے ہیں جہاں تک تاحال کورونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور ایسے ممالک میں خانہ جنگی، قحط سالی، بھوک اور کئی بیماریوں کا سامنا کرنے والے ممالک یمن اور لیبیا بھی ہیں، جہاں 24 مارچ کی شام تک ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا تھا۔خانہ جنگی کی وجہ سے یمن میں ماضی میں ہیضے کی وبا سمیت بھوک، بخار، نزلے و زکام کئی بیماریاں پھوٹ چکی ہیں اور ان بیماریوں میں لاکھوں یمنی افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔صرف 2017 میں یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑنے سے ہی 5 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ وہاں تاحال کورونا وائرس کا کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔یمن کی زمینی سرحدیں اہم ترین اسلام ملک اور کورونا وائرس سے متاثرہ سعودی عرب اور عمان سے ملتی ہیں، تاہم اس کے باوجود یمن میں کوئی بھی کورونا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اسی طرح لیبیا میں بھی 24 مارچ کی شام تک کورونا وائرس کا ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا تھا تاہم وہاں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح حفاظتی انتظامات شروع کردیے گئے ہیں جن کے تحت اسکولوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی