کرونا آنہیں رہا، کرونا آگیا ہے!

کرونا آنہیں رہا، کرونا آگیا ہے!
 کرونا آنہیں رہا، کرونا آگیا ہے!

  



ملک میں تبدیلی آئی یا نہیں آئی لیکن کرونا وائرس کے بارے میں بچہ بچہ کہتا پایا جارہا ہے کہ کرونا آنہیں رہا، کرونا آگیا ہے، تبدیلی کی طرح کرونا بھی یہی پیغام دے رہا ہے کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا، ایک ایک کو چن چن کر آئی سی یو میں ڈالے گا، کسی کو مونچھوں سے پکڑ کر گھسیٹے گا تو کسی کو ٹانگوں سے!

اب وہ زمانے گئے جب گھر کے بچے سے کہلوادیا جاتا تھا کہ ابا گھر پر نہیں ہیں، ادھر گھنٹی بجی اور ادھر کرایہ مکان مانگنے والے کو اندر سے ہی کہہ دیا جاتا تھا۔ اسی طرح بڑے گھروں کے نوکر چاکر فون پر بھی یہی بتایا کرتے تھے کہ صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ اب جب کہ صاحب گھر پر ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اب تو بیگمات بھی فون کرکے نہیں پوچھتیں کہ گھر کب آنا ہے اور خطوں میں نہیں لکھاجاتا کہ گھر کب آؤ گے؟ اب تو بس ہر طرف میرا گھر میری جنت کا سماں ہے!

جہاں تک وزیر اعظم کی یہ کی تقریر میں یہ منطق دی گئی تھی کہ حکومت اس لئے لاک ڈاؤن نہیں کرے گی کہ اسے غریبوں کی روزگار کا خیال ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ ایسی بات انہوں نے تب تو نہیں کی تھی جب وہ اسلام آباد کا لاک ڈاؤن کرنے جا رہے تھے، تب تو باہر سے آنے پانامہ سکینڈل کی بڑی آؤ بھگت کی جا رہی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ ملک میں لاک ڈاؤن اس نہیں کرنا چاہتے کہ اس سے غریبوں اور دیہاڑی دار لوگوں کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ حالانکہ 2017ء میں وہ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے لئے بنی گالا میں پش اپ لگاتے دکھائی دیتے تھے۔ وزیر اعظم نے یہاں بھی یو ٹرن لے لیا اور صوبوں نے وفاق کی منظوری کے بغیر ہی صوبوں کو لاک ڈاؤن کردیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن وفاقی حکومت سوچتی رہی اورصوبوں نے کردکھایا، ایسا ہی رویہ وفاقی حکومت کا تھا جب آئی ایم ایف کے پاس جانا تھا۔

پاکستان میں خط غربت سے نیچے ہر وہ شخص ہے جس کی تنخواہ دس ہزار روپیہ ماہانہ ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ میں کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے مقرر ہے۔ یار لوگوں کا کہنا ہے اس بات میں کوئی خاص منطق نہ تھی کہ حکومت غریب لوگوں کی کی وجہ سے لاک ڈاؤن نہیں کر رہی۔ ان کا خیال ہے وزیر اعظم عمران خان ایسا کرکے دراصل سیاست کر رہے تھے اور کل کو یہ کریڈٹ لینا چاہتے تھے کہ انہوں نے غریبوں کے لئے لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ اس کی بجائے انہیں کہنا چاہئے تھا کہ امیر لوگ غریب لوگوں کی مدد کریں، فیکٹری والے فیکٹری بند ہونے کے باوجود تنخواہیں دیں، ان کو پہنچنے والا نقصان ٹیکسوں کی مد میں ریلیف دیا جا سکتا تھا، قرضوں کی مد میں ریلیف دیا جا سکتا تھا۔ اس کے بجائے ملک کو کرونا وائرس بچانے کے لئے لاک ڈاؤن نہ کرنا نااہلی کے مترادف ہے، کیونکہ اگر ان ایک ماہ کی تنخواہ مل گئی اور اس کے ایک ماہ بعد سارے غریب بیمار پڑ گئے تو حکومت کیا کرے گی؟

پہلے ہی کہا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باجوود اگلے پندرہ دن میں ایک لاکھ مریض سامنے آجائیں گے، یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ زیادہ اموات 65برس سے اوپر کے افراد کی ہوں گی۔

پاکستان میں 65برس سے اوپر افراد کی تعدا ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ملک کو لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس کی افزائش پر قابو پایا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ ہیلتھ کے شعبے سے وابستہ افراد کو وقت مل جاتا کہ وہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے ہسپتالوں کی سہولتوں کو بہتر بنالیں گے اور بھرپور تیاری کرلیں۔ لاک ڈاؤن کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس سے تیاری کاوقت مل جاتا ہے۔ یہ کرفیو نہیں ہوتا بلکہ اس میں حکومتی کنٹرول نرم ہوتا ہے، گھروں میں بند نہیں کیا بلکہ رفتار کو سست کردیا ہے، کرفیو بھی ہو تو بھی ایک وقت ہوتا ہے جب لوگ باہر نکل سکتے ہیں۔ اہلیت تو ہے مگر عزم چاہئے، اسلام آباد کی کنفیوژن ہر طرف معلوم ہو گئی ہے۔ وفاق کو سندھ سے سیکھنے کی ضرورت ہے، اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر میں کچھ نئی بات نہ تھی کیونکہ ساری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی ہے اور ہم بتار ہے ہیں غریبوں کے غم میں نہیں کر رہے ہیں۔ اب ہم سب کو سمجھنا ہے کہ کرونا وائرس ہم نے ڈرنا نہیں لڑنا ہے لیکن دنیا کی یہ پہلی لڑائی ہوگی جو گھر میں بیٹھ کر کی جائے گی، ہمیں گھات لگا کر اس کو شکست دینا ہوگی، اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھئے!

مزید : رائے /کالم