کرونا نیا نہیں،جنیاتی تبدیلیوں سے خطرناک تر ہو گیا

کرونا نیا نہیں،جنیاتی تبدیلیوں سے خطرناک تر ہو گیا

  



اس خطرناک وائرس کی اطلاع تھی،متعلقہ طبی حلقوں نے توجہ نہ دی

پاکستان پر حملہ،قومی وحدت ہی سے قابو پایا جا سکتا ہے، متحد ہوں

سیاسی ڈائری اسلام آباد

دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی کورونا وائرس کے عذاب سے گزر رہا ہے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہے اگرچہ یہ وائرس کئی سال سے دنیا میں موجود تھا اور اس نے محدود پیمانے پر بعض ممالک کے لوگوں کو متاثر کیا لیکن دنیا نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ یہ وائرس اپنی شکل اور نسل از خود تبدیل کرتا رہا حتی کہ دنیا کے بعض طبی ماہرین اور سائنس دان اپنی تحقیق اور مقالہ جات میں کورونا وائرس کی حالیہ تبدیل شدہ نسل کے امکانات کے خطرات سے بھی آگاہ کرتے رہے لیکن یہ خطرناک وائرس طبی سائنس دانوں کی مجموعی توجہ سے محروم رہا اور بالآخر کورونا وائرس ایک جنیاتی تبدیلی کے بعد ایک تباہ کن اور مہلک شکل میں انسانی نسل کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر آ گیا۔ اگرچہ کورونا وائرس چین میں ظہور کے بعد فوری طور پر تو پاکستان کے لئے بڑے خطرے کے طور پر نہیں آیا۔ چین، یورپ اور امریکہ کورونا کے مہلک اثرات کی لپیٹ میں آئے، جس کی بنا پر بظاہر یہ امر اطمینان بخش لگتا تھا کہ پاکستانی حکومت کو اس خطرے سے نپٹنے کے لئے مناسب مہلت مل گئی۔ وفائی وزیر ہیلتھ ریگولیشنز ڈاکٹر ظفر بھی بار بار پریس کانفرنسوں میں کورونا وائرس سے نپٹنے کے حوالے سے انتظامات کے بارے میں کافی یقین دہانیاں کراتے رہے اب جبکہ کورونا وائرس ایک عملی شکل میں عفریت بن کر پاکستانی قوم کے سامنے آ گیا ہے تو اس نے حکومتی دعوؤں کے سامنے حقیقی چیلنج کی صورت اختیار کر لی ہے۔ چونکہ پاکستان پر کورونا وائرس کا حملہ قدرے دیر سے ہوا بظاہر لگتا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ارباب اختیار نے اس ملنے والی مہلت اور دنیا کے حالیہ تلخ تجربوں سے چنداں استفادہ نہیں کیا۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے صحت کے وزیر ڈاکٹر ظفر نے متعدد اجلاس منعقد کئے اور بہت سارے اقدامات کا بھی اعلان کیا لیکن اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا دیگر عوامی با شعور حلقے بھی اپوزیشن جماعتوں کی مانند ڈو مور کا مطالبہ کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اگرچہ یہ بات واضح ہے وزیراعظم عمران خان پوری طرح چوکس اور صورت حال کی طرف متوجہ ہیں لیکن حکومت فیصلہ کن اقدامات کے حوالے سے بعض امور پر تذبذب کا شکار نظر آتی رہی ہے۔ شاید اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپوزیشن رہنما میاں محمد شہباز شریف نے وطن واپسی کی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دعوے داروں کے مطابق شہباز شریف کورونا وائرس سے لڑنے کی صلاحات رکھتے ہیں کیونکہ ڈینگی کے خلاف ان کی مہم اور جدوجہد مثالی تھی۔اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے وطن واپسی پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بھی رابطہ کیا تاکہ اس مہیب چیلنج سے نمٹنے کے لئے پارلیمانی پلیٹ فارم کو بھی موثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ تاہم ایک ایسے وقت میں جب طبی لحاظ سے حکومت کے تمام باشعور طبقے وزیر اعظم عمران خان سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے تھے اور اپوزیشن کی بڑی جماعتیں بھی وزیر اعظم کے قوم سے خطاب میں اس طرح کے اعلان کی توقع کر رہے تھے لیکن جب وزیر اعظم عمران خان غریب عوام اور روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں پر انسانی منفی معاشی اثرات کی بنا پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہ کر سکے تو انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ اس فیصلہ میں وزیراعظم عمران خان کا غریب عوام کے لئے درد نمایاں تھا شاید وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کوئی ایسا معاشی پیکیج اور میکانزم بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں روزانہ کی بنیاد پر روزی روٹی کمانے کا ازالہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقوں کا دعوی تھا کہ غریب عوام لاک ڈاؤن سے کورونا سے پہلے غربت سے ہی مر جائیں گے۔ تاہم عین اس وقت جب وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کر رہے تھے تو اس وقت وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس سے سندھ میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا جبکہ حکومت میں ایسا تاثر چل رہا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ شاید وفاقی حکومت سے لیڈ لے گئے ہیں۔

سندھ میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مشکل لیکن درست فیصلہ کر ڈالا جس کے بعد دیگر صوبے بھی وزیراعلیٰ سندھ کے فیصلے کی کلی یا جزوی پیروی کرتے نظر آئے وفاقی دارالحکومت میں یہ تاثر مل رہا ہے کہ وفاق نے صوبوں کو اپنے حالات اور صورت حال کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا ہے یا پھر صوبوں نے از خود ہی اس اختیار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن رہنما نے ایک پریس کانفرنس میں اتفاق رائے سے اس وبا سے نبٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن شاید غیر رسمی طور پر ایک شیڈو گورنمنٹ کے طور پر فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے تاہم نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور ایک قومی ادارے کے طور پر پاک فوج پوری طرح متحرک ہے اور سویلین حکومت کے ساتھ بظاہر شانہ بشانہ لیکن عملی طور پر اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک لیڈنگ کردار ادا کرنے کے لئے پوری طرح چوکس اور متحرک ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈرز کانفرنس میں کورونا وائرس سے نبٹنے کے لئے پاک فوج کے انتظامات کا جائزہ لیا جبکہ آئی ایس پی آر درست اور بر وقت اطلاعات فراہم کرنے میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ ہم آہنگ ہے ملک کو درپیش مہیب چیلنج کے پیش نظر اس بار 23 مارچ بھی انتہائی سادگی سے منایا گیا۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفرا نے اپنے اپنے مشنر میں لوگوں کو جمع کئے بغیر قومی پرچم لہرایا۔ موجودہ صورت حال میں صدر مملکت عارف علوی کا دورہ چین بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ چین پاکستان کی موجودہ صورت حال میں بھرپور مدد کر رہا ہے اس موقع پر چین کی قیادت نے اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے حکومت سے تعاون کی مکمل یقین دہانی کراتے ہوئے اپنے مطالبات اور تجاویز کی ایک جامع فہرست پیش کی ہے کہ جن میں سے بہت سی ایسی تجاویز ہیں جن پر حکومت باآسانی عمل درآمد کر سکتی ہے۔جس سے کورونا وائرس کے خطرے سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری قوم اور حکومت و اپوزیشن یکجا ہو کر سرخرو ہو سکتی ہے۔

دارالحکومت کے پوش حلقوں میں عوام حکومتی مشوروں پر کافی حد تک عمل کر رہے ہیں۔ لیکن دارالحکومت مضافاتی اور کم آمدن والے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے کام لینا پڑ رہا ہے۔ کورونا وائرس کی سہولت دنیا سمیت پاکستان میں دی گورنس اور ای کامرس میں قدرے اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف سرکاری و نجی ادارے اس حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔ ایس ای سی پی کے احکامات کی روشنی میں سٹاک مارکیٹ میں بھی تمام کاروبار گھر بیٹھ کر کرنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ ورک فراہم ہوم کا تصور؟؟؟ کرنے لگا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1