"قانون کے مطابق دلائل دیں سیاسی باتیں نہ کریں" میرشکیل الرحمان کی پیشی کے موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کیا باتیں شروع کردیں کہ عدالت کو ٹوکنا پڑا؟

"قانون کے مطابق دلائل دیں سیاسی باتیں نہ کریں" میرشکیل الرحمان کی پیشی کے ...

  



لاہور (ویب ڈیسک) لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمٰن کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق دلائل دیں سیاسی باتیں نہ کریں۔لاہور کی احتساب عدالت میں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمٰن کے خلاف نیب کی درخواست پر ڈیوٹی جج جواد الحسن سماعت کر رہے ہیں۔

میر شکیل الرحمٰن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ میر شکیل الرحمٰن سے مشاورت کرنی ہے، جس کے لیے عدالت کچھ وقت فراہم کرے۔عدالت نے کہا کہ آپ کو مشاورت کرنےکا حق حاصل ہے۔عدالت نے مہلت فراہم کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔کچھ دیر کے توقف کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا کہ میر شکیل الرحمٰن کو جو زمین فراہم کی گئی وہ غیر قانونی طور پر ٹرانسفر کی گئی، ایل ڈی اے نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب نواز شریف کے حکم پر یہ زمین دی۔نیب پراسیکیوٹر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایل ڈی اے سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے بیک وقت زمین میر شکیل الرحمٰن کے نام کرنے کا حکم دیا، ایل ڈی اے کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں جن کا خیال نہیں رکھا گیا۔نیب پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا کہ میر شکیل الرحمٰن کو زمین تین مختلف جگہ پر الاٹ کی گئی، میر شکیل الرحمٰن نے غیر قانونی طور پر یہ زمین ایک جگہ پر الاٹ کروائی۔

اس پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ آپ قانون کے مطابق دلائل دیں سیاسی باتیں نہ کریں۔نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ سابق ڈی جی ایل ڈی کو بلوایا تھا، جنہوں نے کہا کہ انہیں تمام ریکارڈ فراہم کر دیں، وہ تمام ریکارڈ دیکھ کر تفصیلی جواب دیں گے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کو اب جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور میر شکیل الرحمٰن کے ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے۔

عدالت نے نیب تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ پٹواری نے ایل ڈی اے کو قبضہ کب دیا؟ پہلے ایل ڈی اے کو قبضہ ملے گا تب ہی ایل ڈی اے آگے زمین منتقل کرے گا۔عدالت نے نیب تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ ریکارڈ دکھائیں اور عدالت کو بتائیں کہ کب قبضہ ملا۔احتساب عدالت میں نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہو گئے۔

میر شکیل الرحمٰن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نیب کی تاریخ میں پہلی بار ایسا کیس سامنے آیا ہے کہ چیئرمین نیب نے ذاتی طور پر میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے اپنے ہی بنائے گئے قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں، میر شکیل الرحمٰن تمام ریکارڈ نیب کو فراہم کر چکے ہیں، انہیں جب بھی نیب نے بلوایا وہ پیش ہوئے۔

میر شکیل الرحمٰن کے وکیل نے کہا کہ نیب نے قانون سے آگے جا کر کارروائی کی، تفتیش کے دوران گرفتاری کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟ یہ واحد کیس ہے جس میں چیئرمین نیب کو اتنی جلدی تھی۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری بادی النظر میں غیر قانونی تھی، برصغیر کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انکوائری پر گرفتار کر لیا جائے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے 12 مارچ کو آزادی صحافت پر حملہ اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ جیو گروپ کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمٰن کو پرائیوٹ پراپرٹی کیس میں انکوائری مکمل ہونے سے پہلے گرفتار کر لیا تھا۔

میر شکیل الرحمٰن کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے گزشتہ پیشی کے موقع پر عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ نیب کے پاس میرشکیل الرحمٰن کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں، نیب کے چیئرمین نے وارنٹ گرفتاری پردستخط کیے، جبکہ ہمیں ابھی تک وارنٹ گرفتاری نہیں دیا گیا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 34 سال بعد میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا جو بدنیتی ثابت کرتا ہے، میرشکیل الرحمٰن نے ایل ڈی اے سے زمین نہیں خریدی، زمین تیسرے بندے سے قانون کے مطابق خریدی گئی، میرے موکل کی زمین میں کسی بھی قسم کی دو نمبری نہیں ہے۔لاہور کی احتساب عدالت نے 13 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 25 مارچ (آج) تک کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا تھا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور