کرونا وائرس اور احساس ذمہ داری

کرونا وائرس اور احساس ذمہ داری
کرونا وائرس اور احساس ذمہ داری

  



تحریر: اقراء طارق

''میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا"اگر ہر فرد یہی سوچ کر اپنے فرائض سے غفلت برتے گا تو معاشرہ بے سکونی اور بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔

کرونا وائرس ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے اور وطن عزیز پاکستان میں بھی کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کروںا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اور عوام کی حفاظت کے پیش نظر ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس عالمگیر وبا کا ابھی تک واحد دفاع اور علاج قرنطینہ اور بھیڑ بھاڑ سے پرہیز ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور طبقہ مالی اور معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

سرکاری سطح پر وزیر اعظم نے معاشی ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 70 لاکھ ڈیلی ویجز ملازمین کو تین ہزار روپے ماہانہ دیئے جائیں گے۔ لیکن اس مشکل گھڑی میں عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انفرادی سطح پر اپنا کردار ادا کریں اور غریب عوام کی مدد کریں چاہے وہ مدد مالی شکل میں ہو یا راشن کی شکل میں۔ ہر علاقے میں صاحب حیثیت لوگ ایسے افراد کی لسٹ بنا لیں جن کی دیہاڑی نہیں ہو پا رہی یا لاک ڈاؤن کی وجہ سے جن کا کام متاثر ہوا ہے اور ان کی نقد رقم  یا راشن سے مدد کر دیں۔ اپنے رشتہ داروں میں بھی سفید پوش لوگوں پر توجہ مرکوز کریں اور خاموشی سے ان کی مدد کر دیں۔

ان حالات میں مخیر حضرات کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صدقہ، زکوۃ اور خیرات سے ایسے افراد کی مدد کریں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ تحقیق نے ملک کے صاحب حیثیت اور صاحب استطاعت افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ رمضان المبارک کا انتظار کیے بغیر کرونا وائرس سے معاشی طور پر متاثر یومیہ اجرت کرنے والے مزدوروں اور دیگر حاجت مندوں کو زکوۃ اور صدقات ادا کریں تاکہ ان کی معاشی ضروریات کی تکمیل میں آسانی ہو۔ شرعی طور پر سال مکمل ہونے سے قبل بھی زکوۃ ادا کی جا سکتی ہے۔ موجودہ کرونا بحران میں تو یہ ایک افضل عمل ہے۔ مزید برآں شعبہ تحقیق نے تجویز پیش کی ہے کہ مناسب ہو گا کہ مختلف صاحب حیثیت افراد گروپ بنا کر فنڈ قائم کریں تاکہ حاجت مندوں کی دیر پا مالی مدد ہو سکے اور ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔

نبی کریم صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا:

اسلام کا بہترین عمل کھانا کھلانا اور سلام کو رواج دینا ہے۔ (صحیح بخاری)

خدمت انسانیت میں مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ مسلم کے ساتھ ہمدردی کرنے کا زیادہ ثواب ہے۔ لیکن اگر غیر مسلم بھی ہمدردی اور مدد کا مستحق ہو تو اس کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ انسان وہ ہے جو اس کے عیال کے لیے سب سے زیادہ نافع ہو۔ (العلل المتاہیتہ)

قرآن مجید میں اللہ پاک نے اس امت کو بہترین امت کا لقب بھی اسی لیے دیا ہے کہ یہ صرف اپنے نفع کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے نفع کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ (صحیح مسلم)

اگر اسلام کی تمام تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ ہو گا۔

اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت۔

خدمت خلق کا کام گناہوں کی بخشش اور رب کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔

ابوداؤد کی روایت ہے:

جو کسی انسان کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو، اللہ اس کی حاجت پوری کر دیتا ہے۔ اور جو کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، اللہ اسے قیامت کے دن بے چینی اور تکلیف سے نجات دے گا۔

ترمذی شریف کی روایت ہے:

تم زمین والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

خدمت خلق ایک مقدس جذبہ ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں فلاحی ادارے، سرکاری ادارے اور فوج اپنا کردار ادا کر رہی ہے، وہیں عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرںا ہو گا۔ اجتماعی مصیبت سے نمٹنے کے لیے سب کو اپنا حصہ مثبت طور پر ڈالنا پڑتا ہے اور اگر ساتھ مل کر ایسا کر لیا جائے تو بڑی سے بڑی مصیبت ہلکی پڑ جاتی ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ