کیا کورونا متاثرین کیساتھ سیلفیز بنوانا گھناونا مذاق نہیں؟

کیا کورونا متاثرین کیساتھ سیلفیز بنوانا گھناونا مذاق نہیں؟
کیا کورونا متاثرین کیساتھ سیلفیز بنوانا گھناونا مذاق نہیں؟

  



صبح صبح ایک خبر پڑھی تو یہ خیال آیا کہ ہم سب تو بحیثیت قوم بالکل بھی ذمہ دار نہیں ہیں، ہم میں عقل تو ہے لیکن شعور نہیں ۔ موقع پرستی تو ہے لیکن موقع شناسی نہیں ۔ شہرت ، خودنمائی ، شوشا  نے ہمیں ہر چیز سے دور کر دیا ہے ، ہمیں انسانیت سے بھی منہ موڑنے پر مجبور کر دیا ہے ۔

 خبر یہ تھی کہ سکھر میں ایک قرنطینہ سینٹر میں کورونا  وائرس کے مریضوں  کے ہمراہ چھ سرکاری ملازمین  نے سیلفیز بنوائیں، اس موقع پر مریضوں کے چہروں پر ماسک بھی تھے اور وہ بھی بہت اطمینان سے تصویریں بنوا رہے تھے ، قصہ مختصر کہ جب یہ واقعہ سوشل میڈیا کےذریعے سے منظرعام پر آیا  تو ڈپٹی کمشنر رانا عدیل نے  نوٹس لیتے ہوئے چھ سرکاری ملازمین  کو معطل کر دیا ۔

 یہ ذمہ داری تو نہیں  ؟ یہ اخلاقیات نہیں ،  یہ حب الوطنی بھی نہیں  ؟ یہ رویہ سجھداری بھی نہیں  ، بلکہ سچ پوچھیں تو یہ انسانیت کے ساتھ ایک گھناونا مذاق ہے ۔انسانیت کی تذلیل ہے ۔ سیلفیزکا مقصد صرف خودنمائی بن کر رہ گیا  ہے ۔

 میں نے دیکھا  جب عبدالستار ایدھی ہسپتال میں تھے ، امان اللہ علاج کی غرض سے  ہسپتال میں موجود تھے  ، مہدی حسن کی طبعیت ناساز تھی ، ان کے بدن پر طرح طرح کے طبی آلات لگے ہوئے تھے، ان کے نظام تنفس کی بحالی کے لئے وینٹی لیٹرز موجود تھے ، ڈرپس اور سوئیاں ناک  ، بازو اور گلے میں پیوست تھیں  ، لیکن سیلفیز بنائی جا رہی تھیں ، اور ہسپتال کی انتظامیہ بھی صم بکم کا کردارنبھا رہی تھی  تاہم دوسری جانب اس سب صورتحال میں سیلفی بنوانے والے ان  لاچار افراد کی اس اذیت کا اندازہ نہیں کر رہے تھے جو انھیں  ان تصاویر سے ہو رہی تھی  اور یقینا یہ افراد اگر تندرست ہوتے یا ان میں حرکت کرنے کی ذرا بھی سکت ہوتی تو وہ ان حرکات  کا مناسب جواب بھی دے سکتے تھے ۔

 مجھے پوچھنا صرف یہ تھا کہ کیا یہی اخلاقیات ہے  کہ آپ بیمار افراد کے ساتھ تصویریں کھنچوا کر یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں  کہ آپ ان کے بڑے خیر خواہ ہیں ، بہت ہمدرد ہیں ۔جبکہ یہ تصاویر تو آپ کی بیمار ذہینت کی عکاسی کر رہی ہیں ۔

 کورونا وائرس مذاق نہیں ، یہ بھی ڈینگی ، کوڑھ اور اس طرح کی دیگر  وبائوں کی طرح بلکہ اس سے کئی زیادہ خطرناک وبا ہے ، خدارا اس پر سیاست نہ کریں مریضوں کا تماشا نہ بنائیں اور وہ چھ سرکاری ملازمین جنہوں نے ان مریضوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں انھیں صرف معطل کرنا کافی نہیں ہے  بلکہ سخت سزائیں دینا ناگزیرہے۔

 یہ وقت تفریح کا نہیں ہوش مندی کے ساتھ اس قاتل وائرس کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا ہے ۔

 ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ