علامات قیامت

علامات قیامت
علامات قیامت

  



یہ دنیا فانی ہے اس دنیا کا خاتمہ یقینی ہے مگر اس دنیا کا خاتمہ کب ہوگا اسکا علم صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات کو ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے۔" ان اللہ عندہ علم الساعۃ "ترجمہ ۔بےشک قیامت کا علم اللہ ہی کےپاس ہے۔پروردگار کریم رب العالمین نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد ﷺکی ذات مبارکہ کو قیامت کی نشانیوں کی خبر دی عام اسلام کےبڑے بڑے علمائے کرام کی تحقیق مطابق ساٹھ فیصد سے زائد علامات قیامت کی نشانیاں ظہور پذیر ہوچکی ہے تاہم دس بڑی نشانیوں کا ظہور ابھی باقی ہے موجودہ دور فتنوں کا دور ہے لوگ شیطانی دجالی فتنوں اور دنیا کے خاتمے کیطرف بڑا رہے ہیں اس وقت کورونا وائرس کےباعث  تقریباً پوری دنیا کے دوسو ممالک پاکستان ،ہندوستان ،اٹلی ، امریکہ ،چین ،سعودی عرب ،سمیت دیگر کئی ممالک کی عوام شدید اضطراب پریشانی ،بےچینی کا شکار ہے موت  وباء کی صورت میں حملہ آور ہورہی ہے دنیا بھر کے سائنسدان کوروناوائرس کےآگے بےبس ہے میں اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔   

حضرت سلمہ بن نفیل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اللہ کے  رسول کریم ﷺ کےپاس تشریف فرما تھے تو ایک آدمی نے پوچھایا رسول اللہ ﷺ کیا کبھی آپکے پاس آسمان سے کھانا آیا ہے ؟آپ ﷺنے فرمایا ہاں کہا کیسے آپ ﷺنےفرمایا کہ چھوٹے برتن میں کہا کہ کیا اس میں سے کچھ باقی بچا آپ ﷺنےفرمایا ہاں کہا کہ وہ کہاں ہے؟آپ ﷺنےفرمایا کہ اسے دوبارہ اٹھا لیا گیا مگر طرف وحی نازل ہوئی کہ میں تمارے درمیان ہمیشہ نہیں رہونگا بلکہ فوت کرلیا جاوں گا اور میرے بعد تم (صحابہ )بھی کچھ دیر زندہ رہوگے تم مسلمانوں کی جماعتیں دیکھو گے جوآپس میں  قتل غارت کریں گی اور قیامت سے پہلے موت پھیلی گی جو بڑی شدت سے ہر طرف (پھیل )جائے گی اس کےبعد زلزلوں والے سال ہونگے ۔

جبکہ ایک دوسری حدیث مبارکہ میں ہے ۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا !قیامت کےقریب (پہلی رات  ) کا چاند بڑا نظر آئے گا لوگ اسے دوسری رات کا چاند کہیں گے مساجد کو راستہ بنالیا جائے گا یعنی لوگ مساجد سے گذرے گے یا زیارت کرینگے لیکن نماز نہیں پڑھیں گے اور اچانک موت عام ہوگی نبی کریم ﷺ نےفرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ چیزیں یاد رکھوں "موتان یکون فی الناس کقعاص الغنم "تم میں موت پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون (بیماری ) پھیلتی ہےجس کےباعث وہ اچانک مرنے لگتی ہے  ۔

 قیامت کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہےکہ قیامت کےآنے سے پہلے حج و عمرہ چھوڑ دیا جائے گا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےکہ آقائے دوجہاں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ بیت اللہ شریف کا حج موقوف نہ ہوجائے ۔صحیح بخاری 

آج پوری دنیا میں کورونا وائرس کی صورت میں موت گھوم رہی ہے دنیا کے دوسو ممالک میں لاک ڈاؤن ہے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں قدرت کی اس آزمائش کے آگے بےبس ہے اس وقت تک دنیا میں کورونا وائرس سے کم و بیش دس ہزار کےقریب ہلاکتیں ہوچکی ہے پاکستان میں کورونا وائرس کے اب تک ایک ہزار کےقریب کیس سامنے آچکے ہے اور تقریباً آٹھ "8"اموات پاکستان میں کورونا وائرس کےباعث ہوچکی ہے کورونا وائرس طاعون کےمرض کی طرح تیزی کےساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے آج اس کورونا وائرس کے باعث اللہ تعالی کے گھر بیت اللہ شریف کا طواف رک چکا ہے عمرہ بند ہے خانہ کعبہ میں نمازیں بند ہے یہ سب قیامت کی نشانیاں نہیں ہےتو کیا ہے پاکستان جو خالصتاً کلمات توحید کی بنیاد پر حاصل کیا گیا آج پاکستان میں مساجد کو تالے لگے ہوئے ہیں پاکستان کے دیگر شہروں کی کیا صورتحال ہےاس پرتو میں زیادہ روشنی نہیں ڈال سکتا مگر ہمارے شہر میں ہم اللہ تعالی کےگھر مسجد میں اسطرح چوروں کی طرح چھپتے چھپاتے نماز کی ادائیگی کےلیے جارہے ہیں جیسے چور پولیس رینجرز سے چھپتا ہے میں دوروز پہلے ظہر نماز کی ادائیگی کےلیے مسجد جارہا تھا کہ مجھے رینجرز والوں نےروک لیا کہ آپ گھر میں نماز ادا کریں بہت بحث مباحثہ ہوا مگر مجھے رینجرز والوں نےنماز کےلیے مسجد نہ جانے دیا میرا دل خون کےآنسو روتا ہوا گھر لوٹ آیا مساجد بیت اللہ شریف خانہ کعبہ یہ سب امن سلامتی کےگھر ہے مسلمان کبھی موت سے نہیں گھبراتا موت  برحق ہے مساجد میں بندش کا یہ جواز پیش کیا جارہا ہےکہ مجموعہ جمع نہ ہوں مجموعہ میں وائرس پھیلنے کےزیادہ امکانات ہے کہا جاتا ہےکہ احتیاط برتوں ٹھیک ہے ہمارا دین بھی کہتا ہےکہ احتیاط کروں مگر اسکے لیے کیا ہم مساجد کو تالے لگادیں مسلمانوں کو عبادت سے روک دیں ؟میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کےگھر مساجد میں بیت اللہ شریف خانہ کعبہ سمیت عالم اسلام میں مساجد وغیرہ میں ہروقت اللہ تعالی کی رحمتیں برستی ہے ابھی چند روز پہلے ہی دنیا بھرکےلوگوں نے دیکھا کہ جب سعودی حکومت نے خانہ کعبہ کا طواف بند کیا تو اللہ تعالی نے پرندوں کےذریعے خانہ کعبہ بیت شریف کاطواف پرندوں کےذریعے جاری رکھا مساجد سے اللہ تعالی کے گھر سے خانہ کعبہ سے لوگوں کو رحمتیں اور شفاء فیض ملتا ہےآج کورونا وائرس کےنام پر مسلمانوں کو مساجد سے دور کیا جا رہا ہے۔

 انتہائی افسوس سے تحریر کرنا پڑتا ہےکہ آج عریانیت فحاشی کے پروگراموں پر محفلوں پر کوئی سختی نہیں ہے آقائے دوجہاں رحمت العالمین حضرت محمد ﷺ کا فرمان مبارکہ ہے کہ قیامت کے قریب آنے کی علامات میں سے اور طاعون جیسے وبائی امراض کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ کوئی قوم اعلانیہ طور پر کوئی فحش برا کام کرتی ہے تو اس میں طاعون اور ایسی بیماریاں ہوجاتی ہےجو ان سے اگلوں میں نہ تھی اللہ تعالی نےآپ ﷺ کو قیامت کی ڈیڑھ "150"سو سے زائد بتلائی ہے آپ ﷺ نے اپنی امت کو بتلائی تاکہ امت روز قیامت  سے قبل اس کی تیاری کرلیں قیامت اتنی خوفناک اور دہشت ناک ہوگی کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت ہر نبی نے قیامت کی ہولناکی سے پناہ مانگی قیامت کی اب تک ظہور ہونے والی نشانیوں میں سے شراب زناکا عام ہونا ،عورتيں مردوں والے فیشن کریں گی، جبکہ مرد عورتوں والے فیشن کرینگے ،خواتین مردوں والے لباس اور مرد عورتوں والے چمکیلے کپڑوں کا استعمال کرینگے، عریانیت فحاشی عام ہوجائے گی، برائی کو برائی نہ سمجھا جائے گا ،جھوٹ کی کثرت ہوجائے گی ، اللہ تعالی کےاحکامات کی نافرمانی کی جائے گی ،قیامت سے قبل ایک برس ایک مینہہ کے برابر لگے گا، قیامت سے قبل اچانک   موت کا حملہ بڑھ جائے گا ،طاعون کی وباء پھیلے گی ،بیوی کی فرمابرداری اور والدین کی نافرمانی ہوگی ،سچی گواہی کو چھپایا جائے گا،  جہالت بڑھ جائےگی۔

 قیامت کی دس بڑی  نشانیاں جن کا ظہور ہونا ابھی باقی ہے ان دس نشانیوں میں خروج دجال ،حضرت عیسی السلام کی آمد ،یاجوج ماجوج کی آمد، مشرق مغرب اور جزیرہ عرب کا زمین میں دھنس جانا ،پراسرار دھویں کا ظہور ،خوفناک جانور کا ظہور ،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ،خوفناک آگ کا ظہور ،اور امام مہدی کا ظہور وغیرہ شامل ہے اللہ تعالی امت مسلمہ کی خیر فرمائے عالم اسلام کا تمام وبائی امراض سے چھٹکارا عطاء فرمائے اللہ کےگھر ہمیشہ آباد رہے شاد رہے عالم السلام کےخلاف ہونے والی سازشوں سے محفوظ فرمائے قیامت سے پہلے قیامت کی تیاری نصیب فرمائے موت آئے تو ایمان والی کلمے والی موت نصیب فرمائے ۔آمین

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ