اسرائیلی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی ،سپیکر نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بڑا قدم اٹھا لیا

اسرائیلی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی ،سپیکر نے ...
اسرائیلی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی ،سپیکر نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بڑا قدم اٹھا لیا

  



یروشلم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسرائیل کی پارلیمنٹ کے سپیکر یولی ایڈلسٹین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی تعمیل کیے بغیر استعفی دے دیا جس میں انھیں نئے سپیکر کے انتخاب کے لئے رائے شماری کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق  نوول کرونا وائرس کی وجہ سے خالی پلینم ہال کے سامنے کی جانے والی اپنی استعفی تقریر میں، ایڈلسٹین نے سپریم کورٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سراسر ناانصافی اور پارلیمنٹ کے امورمیں ایک متکبرانہ مداخلت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ اقدام انتشار اور خانہ جنگی سے بچنے کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ ایڈلسٹین نے گذشتہ بدھ کو قواعد کی رکاوٹوں اورپارلیمینٹ میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمانی امورمعطل کردیے تھے۔2 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں ان کے دائیں بازو کے بلاک کی جانب سے اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ان کے مخالفین نے ان پریہ اقدام اٹھانے کا الزام عائد کیا تھا۔

نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی سب سےبڑی مخالف معتدل جماعت بلیو اینڈ وائٹ نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ایڈلسٹین سے پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی وضاحت کرنے کو کہا گیا تھا۔ایڈلسٹین نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ الٹی میٹم سے اتفاق نہیں کریں گے۔

مزید : بین الاقوامی