وہ خاتون جو لوگوں کو سونگھ کر اُن میں بیماری کی تشخیص کر سکتی ہے، ایسی صلاحیت کہ جان کر سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

وہ خاتون جو لوگوں کو سونگھ کر اُن میں بیماری کی تشخیص کر سکتی ہے، ایسی صلاحیت ...
وہ خاتون جو لوگوں کو سونگھ کر اُن میں بیماری کی تشخیص کر سکتی ہے، ایسی صلاحیت کہ جان کر سائنسدان بھی دنگ رہ گئے

  



ایڈنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون کی حیران کن صلاحیت نے سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ وہ سونگھ کر ہی لوگوں میں بیماری کا پتہ چلا سکتی ہے۔ ویب سائٹnpr.orgکے مطابق اس 42سالہ خاتون کا نام جوئی میلن ہے۔ 15سال قبل اس نے اپنے شوہر کے جسم کی خوشبو کو ایک عجیب سی بدبو میں بدلتے محسوس کیا۔ وہ اس سے لڑائی کرتی کہ تم ٹھیک سے نہاتے نہیں ہو لیکن اس کے شوہر سمیت کسی بھی دوسرے شخص کو یہ بدبو محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس وجہ سے جوئی اور اس کے شوہر لیس کے درمیان کئی بار لڑائی بھی ہوئی اور پھر جوئی نے صورتحال سے سمجھوتہ کر لیا، مگر لیس کے جسم کی بدبو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ ہوتی چلی گئی۔ جوئی نے محسوس کیا کہ بدبو بڑھنے کے ساتھ ساتھ لیس کا رویہ اور مزاج بھی تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔

اسی طرح 15سال گزر گئے، لیس کے جسم سے آنے والی بدبو، جسے صرف جوئی ہی سونگھ سکتی تھی، بہت شدید ہو گئی۔ ایک رات جوئی اور لیس سوئے اور علی الصبح لیس نے جوئی پر جیسے حملہ کر دیا۔ وہ اس پر تشدد کر رہا تھا۔ لیس خود ڈاکٹر تھا اور جوئی نرس، چنانچہ جوئی سمجھ گئی کہ اس بدبو کا لیس کی صحت سے کوئی تعلق ہے۔ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی جہاں لیس میں پارکنسنز نامی ذہنی بیماری کی تشخیص ہو گئی۔ وہاں ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے آئے کچھ لوگوں میں بھی جوئی نے وہی بدبو محسوس کر لی جو وہ ایک عرصے سے اپنے شوہر میں سونگھتی آ رہی تھی۔ اس پر اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا، اسے یقین ہو گیا کہ اس بو کا تعلق پارکنسنز کی بیماری کے ساتھ ہے۔ اس نے یہ بات لیس کو بتائی، چنانچہ وہ دونوں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہر پروفیسر ٹیلو کنتھ کے پاس چلے گئے اور اسے صورتحال بتائی۔ اس نے انہیں دو روز بعد اپنی لیب آنے کو کہا۔ اسی دوران پروفیسر ٹیلو کنتھ نے کچھ پارکنسنز کے مریضوں اور کچھ صحت مند لوگوں کو ایک سفید ٹی شرٹ پہن کر سونے اور اگلے روز وہ شرٹ لیب پہنچانے کو کہا۔ اس شرٹس پر پروفیسر کنتھ نے نمبر لگا دیئے تاکہ معلوم رہے کہ کون سی مریض کی شرٹ ہے اور اس کا مرض کس مرحلے میں ہے جبکہ کون سی شرٹ صحت مند شخص کی ہے۔

پروفیسر کنتھ نے جوئی کو یہ شرٹس سونگھ کر بتانے کو کہا کہ ان میں سے کس شرٹ میں سے وہ بدبو آ رہی ہے اور کتنی آ رہی ہے۔ حیران کن طور پر نہ صرف جوئی نے مریضوں کی تمام شرٹوں کو سونگھ کر پہچان لیا بلکہ ان میں بدبو کی کمی بیشی بھی بتا دی۔ جب اس کمی و بیشی کا ان مریضوں کی مرض کے مرحلے سے موازنہ کیا گیا تو وہاں بھی جوئی کا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا۔ اب سائنسدان جوئی کی اس حیران کن صلاحیت پر تحقیق کرنے جا رہے ہیں۔ پروفیسر کنتھ کا کہنا ہے کہ جوئی کی اس صلاحیت نے مجھے حیران کر دیا۔ اس نے 15سال قبل اپنے شوہر میں پارکنسنز کا سونگھ کر پتا چلا لیا تھا۔ اگر ہم اس طرح اس بیماری کی انتہائی ابتداءمیں تشخیص کے قابل ہو جائیں تو اس کا 100فیصد علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس