کسی بے ِپروا کی مسیحائی نے لے لی جان میری!

 کسی بے ِپروا کی مسیحائی نے لے لی جان میری!
 کسی بے ِپروا کی مسیحائی نے لے لی جان میری!

  

 ہمارے ہسپتالوں سے  مریض  شفاء یاب ہو کر بھی گھروں کو واپس جاتے ہیں اور  ”مر“  کر بھی…… ہسپتال میں کسی کی موت کا واقع ہو جانا کوئی اچنبے والی بات نہیں۔ یہ بھی ضروری  نہیں کہ جو مریض ہسپتال جائے وہ زندہ سلامت گھر واپس بھی آ جائے۔ یہ تو منحصر ہے بیماری کی نوعیت اور مریض کی کنڈیشن پر، بروقت معیاری علاج  اور اچھے ہسپتالوں میں ہوتی بہترین دیکھ، بھال پر۔ ہمارے یہاں اچھے ہسپتال کون سے ہیں، یہ فیصلہ کرناایک کٹھن اور مشکل ترین کام معلوم ہوتا ہے۔ عام طور پر ہسپتال یا تو سرکاری ہوتے ہیں یا پھر پرائیویٹ۔ نجی ہسپتال اچھی خاصی رقم لے رہے ہیں اور اس کے بدلے وہ اپنی سروسز دے رہے ہوتے ہیں،اچھے تو وہ تب کہلائیں،جب  بہتر ین خدمات پہنچا رہے ہوں اور اُس کے عوض اپنی تجوریاں نہ بھر رہے ہوں۔ پرائیویٹ ہسپتال جائز اور ایماندارانہ معاوضہ لے رہے ہوں تو پھر کیونکر  نہ سراہے جائیں، تعریفیں ہوں، عزت، وقار، نیک نامی اور شہرت میں کئی گُنا اضافہ ہو اور بالا ٓخر ہسپتالوں کو اُن کے مطلوبہ اہداف بھی حاصل ہو ہی جائیں۔ 

دوسری جانب سرکاری  ہسپتال ہیں۔ اب سمجھ نہیں آرہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی یہا ں کیا بات کی جائے۔ 73سال سے صرف باتیں ہی تو ہو رہی ہیں۔ہسپتال  میں کسی مریض کا مر جانا کوئی ایسی انہونی بات نہیں، نہ ہی یہ کوئی حیران کن ا ور پریشانی والی بات ہے، لیکن ہاں، کچھ اموات ایسی ضر ور ہوتی ہیں جو شکوک و شبہات پیدا کر دیتی ہیں، سوالات اُٹھا دیتی ہیں، اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں، روح کو گھائل اور عمر بھر کے لئے آنکھوں میں آنسو دے جاتی ہیں۔ڈاکٹروں کی غفلت، مطلوبہ طبی آلات اور سازوسامان کی عدم دستیابی، ماہر، قابل اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی بروقت عدم موجودگی، غیر ذمہ دارانہ اور انسانی ہمدردی سے عاری رویے، پیشہ ورانہ نظام کی ناقص صورت حال  وغیرہ اس کی مثا لیں ہیں۔ ہسپتالوں میں  مریضوں کی اموات کا ذمہ دار  لواحقین کی جانب سے  ڈاکٹروں کو  یا  دوسرے لفظوں میں  اُن سے سرزد ہونے والی غفلت کو ٹھہرا دیا جانا کافی حیران کن اور افسوسناک ہوتا ہے۔ ایک مسیحا کسی مریض کی جان کیسے اور کیونکر لے سکتا ہے؟ کوشش تو  ڈاکٹر کی یہی ہوتی ہے کی مریض کی زندگی بچ جائے، لیکن پھر ایسا کیوں  ہوتا ہے کہ جان لینے جیسا سنگین الزام مسیحاؤں پر لگا دیا جاتا ہے۔ بہر حال،  لگائے گئے ایسے الزامات میں کتنی صداقت ہوتی ہے،  اس کا فیصلہ تو چھان، بین کے بعد ہی ہو سکتا ہے، لیکن یہ چھان بین کرے کون؟ ہسپتال انتظامیہ خود اپنے طو ر پر انتہائی رازداری اور خاموشی سے معاملے کو Investigate کرتی ہے، پھر …… پھر کیا ہوتا ہے؟ کوئی نہیں جان پاتا، کچھ پتہ نہیں  چل پاتا۔ ہسپتالوں کا کام زور و شور سے جاری رہتا ہے،پھر کچھ عر صے بعد اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ روُنما ہو جاتا ہے، پھر تیسرا،  چوتھا، پا نچواں اور پھر چھٹا اور ساتواں،، غرضیکہ لاپرواہی اور غفلتوں  کے نہ تھمنے والے سلسلے برسا برس چلتے ہی رہتے ہیں۔ 

  پرائیویٹ ہسپتالوں میں اگر پڑھے لکھے، کھاتے پیتے، سمجھ بوجھ، فہم و فراست اور اثرو رسوخ رکھنے والے لوگوں کا کوئی اپنا اُن سے بچھڑ جائے اور الزام غفلت کا لگے تو پھر بحث ومباحثہ، ڈانٹ ڈپٹ، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا اور  تھانہ کچہری  جیسے معاملات بھی دیکھنے میں آ جاتے ہیں، لیکن اگر مرنے والے کسی لاچار بیمار شخص نے سرکاری ہسپتال میں (بوجہ غفلت) دم توڑا ہے تو پھر اس بیچارے کے غریب، ان پڑھ، بے بس و مجبور  لواحقین کو تو شاید یہ پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ ان کا پیارا مرا کیسے؟ طبی  معاملات اس قدر  پیچیدہ  نوعیت کے ہوتے ہیں (یا بنا دیئے جاتے ہیں) کہ سیدھے، سادے عام لوگوں کو  بالکل بھی سمجھ نہیں آتے۔ عوام کو چونکہ پیچیدہ طبی معاملات کی سمجھ نہیں ہوتی اس لئے ڈاکٹر انہیں،جو بتا دیتے ہیں وہ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔

اُن بیچاروں کو اتنا شعور ہی نہیں ہوتا کہ  وہ  اس حوالے سے کچھ سوچ بھی سکیں اور معاملے کی گہرائی تک پہنچ سکیں۔ بس روتے، دھوتے  میت کو واپس اپنے گھر، اپنے گاؤں، اپنے  دیہات  لے جا کر اس کے کفن دفن کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اور ہسپتال انتظامیہ صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔  ہمارے ہسپتالوں میں یہ بھی اکثر  دیکھنے میں آتا ہے کہ کم عمر، نا تجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کو  ایسے مقامات یا  ڈیپارٹمنٹس میں تعینات کر دیا جاتا ہے، جہاں  زندگی  اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض موجود ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کا جواب تو اُس ہسپتال کی انتظامیہ ہی بہتر طور پر دے سکتی ہے۔ دیکھنے میں ڈیوٹی پر موجود کچھ ایسے ڈاکٹر بھی آتے ہیں، جنہوں نے ہاتھوں میں موٹی سی ایک بھاری بھرکم کتاب پکڑی ہوتی ہے اور اپنے سامنے بیڈ پر لیٹے مریض کے مرض کے بارے میں اُس کتاب سے رہنمائی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اب یہ طریقہ کتنا مناسب یا  غیر مناسب ہے، اس پر تو طبی امور پر دسترس رکھتے ماہرین سے ہی پو چھا جا سکتا ہے۔ بہر حال اس منظر کو دیکھنے والی عام آنکھ  اور ایک عام ذہن پر اس کے مثبت اثر ات  قائم نہیں ہوتے۔ 

 اصل سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہسپتال پیشہ ورا نہ قواعد و ضوابط اور اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں؟ کس حد تک اخلاقی، قانونی، معاشرتی اور انسانی قدروں کی پاسداری عمل میں لائی جارہی ہے اور یہ سوال بھی کہ کیا ہمارے یہاں رائج صحت سے جڑے نظام میں ایسے طریقہ کار ہیں، جن کی بابت متنا زعہ معاملات کی خود کار طور پر  بآسانی نشاندہی ہو سکے، آسانی سے یہ پتہ چل سکے کہ ہسپتالوں یا ڈاکٹروں پر لگے کسی بھی الزام کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اور سچ اور جھوٹ کا پتہ چلایا جا سکے۔مانیٹرنگ کے جدید نظام کے تحت ہسپتالوں (بالخصوص سرکاری ہسپتالوں) میں ہونے والی Activities پر نظر رکھی جا سکے۔ مانیٹر کیا جاسکے کہ کیا  آپریشن تھیٹر ز میں تمام تر   Standardized Protocols  کو پورا کیا جارہا ہے؟ پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کے Stay کو بلا ضرورت ہی طول تو نہیں دیا جا رہا تاکہ آخر میں وصول کئے جانے والے بل کا حجم کئی گُنا بڑھایا جا سکے۔ ڈاکٹر مریضوں کے لئے وہی ادویات لکھ رہے ہیں جو اثر کرتی ہیں یا پھر فارما سیوٹیکل کمپنیز کی جانب سے دئیے جانے والے Incentives میڈیکل سٹورز پر موجود دوا ہی  فروخت کروا رہے ہیں۔ میڈیکل پروفیشن سے وابستہ خامیوں، خرا بیوں (خوبیوں پر بھی) بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، لیکن مسائل کی نشاندہی کے ساتھ، ساتھ اُن کے حل کی تلاش بھی بہت ضروری ہے۔

 حل نہایت سیدھا او ر آسان سا ہے اور وہ یہ کہ ہسپتال سے وابستہ ہر وہ شخص جو غفلت، لاپرواہی، غیر ذمہ دارانہ رویوں اور سوچ کا شکار ہے، اُسے چاہیے کہ اپنے اندر سوئے  ہوئے انسانی جذبات اور احساسات کو جگائے،  خود احتسابی کے عمل کو اپنانا شروع کرے۔ وہ ایک ایسے پیشے سے وابستہ ہے جس سے لوگوں کی زندگی اور موت جڑ ی ہوئی ہے۔ اس احساس کو شدت سے محسوس کرے کہ وہ  ایک ایسا کام کر رہا ہے، جسے نوبل پروفیشن کہا گیا ہے۔ غافل، مغرور اور انسانی جان کی قدروقیمت سے نا آشنا  ڈاکٹر مسیحائی کے معنی اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ سمجھنے کی بھی کوشش کی جائے کہ انسانی زندگی کوئی ٹی وی یا ٹیپ ریکارڈر نہیں، جسے کوئی مکینک لاپرواہی سے اس کی مرمت کرتے ہوئے دوبارہ لائے جانے کی راہ ہموار کرلے  اور پھر کسی دن کسٹمر کو یہ مشورہ بھی دے دے کہ اب مشین ناکارہ ہو گئی ہے،  ٹین ڈبے والے کو بیچ کر نئی لے لو۔ اور نہ ہی  انسانی  میڈیکل پروفیشن معتبر ہونے کے ساتھ، ساتھ ایک انتہائی حساس، نازک اور دوسرے پیشوں سے قطعاََ مختلف پروفیشن ہے۔ہسپتالوں کا کام زندگی  کے دیے کو روشنی بخشنا ہوتا ہے۔ زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ہسپتال انتظا میہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ا یسی  پالیسیاں اور طریقہ کار اپنائے جائیں،جو شفافیت کو یقینی بناسکیں اور عوام الناس کے اعتماد میں اضافے کا موجب بن سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -