سیاسی تماشا اور مسلم لیگ ن کا مستقبل   

   سیاسی تماشا اور مسلم لیگ ن کا مستقبل   
   سیاسی تماشا اور مسلم لیگ ن کا مستقبل   

  

 اس وقت حزب  اختلاف جماعتیں حکومت کے خلاف بظاہر سنگ جینے مرنے  کی قسم کھا کر  ساتھ نبھانے کا وعدہ کر چکی ہیں ان کی  بڑھکیں  آسمان کو چھو رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم دوسو سے زیادہ اراکین لے کر عدم اعتماد کے میدان میں اتریں گے حزب اختلاف  کا یہ دعوی کسی حد تک درست  نظر آتا ہے حز ب اختلاف جماعتوں کے  اپنے اراکین سمیت بہت سے حکومتی اراکین جن کو خرید کر حکومت تر تیب  دی گئی تھی وہی لوگ پھر سے بک  گئے ہیں انہوں نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے وزیراعظم خود بھی یہ جانتے ہیں کہ اب ایوان میں وہ  اکثریت کی حمایت کھو چکے ہیں وزیراعظم اگر اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں تو انہیں چاہیے کہ خود ہی مستعفی ہوجائیں اور بنی گالہ میں بیٹھ کر تماشا ختم ہونے کا  انتظار کریں۔

لیکن معذرت کے ساتھ ہمارے ہاں اخلاقی سے زیادہ عددی جمہوریت پر یقین رکھا جاتا ہے میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا آج کی یہ سنگ جینے مرنے کی قسمیں بہت جلد ٹوٹنے والی ہیں کیوں کہ اس کے بعد  مفادات کی ایک اور جنگ شروع ہو گی   اس اتحاد میں جو نظر آرہا ہے کے شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے لیے نواز شریف بہت بڑا فاؤل کھیلنے جا رہے ہیں بظاہر جو دکھائی دے رہا ہے کہ نواز شریف پنجاب میں وزارت اعلیٰ چودھریوں کو گورنر شپ اور ڈپٹی سپیکر شپ  پیپلز پارٹی کو  مرکز میں وزارت خارجہ پیپلز پارٹی گورنر سندھ ایم کیو ایم اور صدارت  مولانا فضل الرحمان کو  دیں گے،اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ نون لیگ کی سیاسی موت کا  سنگ بنیاد ہوگا پیپلز پارٹی چودھریوں کے ساتھ مل کر پنجاب میں اپنی جڑیں مضبوط کرے گی اور چودھری نئے دھڑوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے نون لیگ کو دیوار سے لگا دیں گے جس کا خمیازہ نون لیگ کے  ساتھ پنجاب کو بھی بھگتنا پڑے گا 

پی ٹی آئی گورنمنٹ نے چار سالوں میں جو پنجاب سمیت پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ  ایک ڈیڑھ سال میں ممکن نہیں ویسے بھی ق لیگ کو پنجاب میں ایک سال کے لئے وزارت اعلی دے دی گئی تو وہ ایسی واردات ڈالیں گے کہ ن لیگ کا پنجاب سے صفایا کر دیں گے اور آئندہ انتخابات میں نون لیگ کو مرکز سمیت پنجاب میں بھی ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا گزشتہ چار سالوں میں پنجاب سمیت پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا پروجیکٹ شروع نہیں ہو سکا جس کو عوام کے وسیع تر مفاد میں جانا جاسکے اس لیے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ کسی بھی طرح موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے۔

اگر حکومت اپنا وقت پورا کر جاتی ہے تو اگلے الیکشن میں عوام کے پاس جانے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا کیوں کہ  آئندہ الیکشن میں  میں پی ٹی آئی کو امپائر کی انگلی اور جہانگیر ترین کا جہاز بھی  میسر نہیں ہو گا  جو  پی ٹی آئی کی شکست میں اہم کردار ادا کرے گا ،جس کا فائدہ نون لیگ کو ہوگا کیونکہ اگر گزشتہ تین چار حکومتوں کا موازنہ کیا جائے تو سب سے زیادہ کام  ن لیگ نے کیے ہیں یہ بھی کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ ن لیگ کا گزشتہ دور کاموں کے حوالے سے پاکستان کا سنہری دور گزرا ہے مسلم لیگ ن اگر دوبارہ حکومت میں آنا چاہتی ہے تو انہیں کسی بھی طرح عدم  اعتماد سے دستبردار ہونا ہوگا شاید ن لیگ اور عوام کے حق میں یہی بہتر ہوگا اگر ایسا نہ ہوا تو پی ٹی آئی سیاسی شہید کا درجہ پا جائے گی ان کی شہادت کا نقصان صرف ن لیگ کو ہوگا پیپلز پارٹی مسلم لیگ ق اور دوسری حزب اختلاف کی جماعتیں جیت جائیں گی اور شکست نون لیگ کا مقدر بن جائے گی یہ تماشا ختم ہوتے ہی عمران خان پھر سے عوامی ہمدردی حاصل کر جائیں گے اور اگلی منتخب ہونے والی  حکومت میں ایک بڑا حصہ حاصل کرنے کی  پوزیشن میں آ جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -