اسلامو فوبیا اور حرمت رسول ﷺ 

اسلامو فوبیا اور حرمت رسول ﷺ 
اسلامو فوبیا اور حرمت رسول ﷺ 

  

حضرت محمد ﷺ کی حرمت پر ہماری جان و مال ،گھر بار بال بچے سب قربان۔ حضور پاک ﷺ کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہو سکتا۔ آ پ ﷺ کی ذات بابرکت وہ ذات ہے جس کے لیے کل کائنات کو تخلیق کیا گیا۔  دنیا میں اس وقت مسلمانوں کی تعداد 1.5ارب سے زیادہ ہے،ہر مسلمان حضور ﷺ کی حرمت پر مر مٹنے کو تیار ہے ۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ کچھ ملعون لوگ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے رہے اور یہ سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری بھی رہا۔جو جس قابل تھا اپنے دارہ اختیار میں احتجاج کرتا رہا۔ جلسے جلوس ریلیاں نکلتی رہیں جو اپنی جگہ پر اہم تھیں ، سب کچھ ہونے کے باوجود انگلش میڈیا بڑی ڈھٹائی سے ان گستا خیوں کو آزادی اظہار رائے کے طور پر لکھتا رہا۔ مسلمانوں کے پاس ایسے راہنما کی کمی تھی جو ان کے دکھ اور تکلیف کی تر جمانی کر سکے،جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتا سکے ، ہمیں تمھاری امداد نہیں چاہیے اور نہ ہم اتنے بے غیرت ہیں کہ تمھاری خوشامد میں یہ بھول جائیں کہ اپنے نبی ﷺ کی حرمت پر ہم ساری دنیا بھی قربان کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہر حکمران مغرب کے سامنے اپنے آپ کو اعتدال پسند ثابت کرنے کے لیے اسلام کی الگ الگ تشریح پیش کر تا رہا۔لیکن کسی نے اتنی ہمت نہیں کی کہ ان کو ان کی غلطی کا احساس دلوا سکے۔ میرا ایمان ہے کہ ہمت کی توفیق بھی اللہ پاک ہی دیتا ہے۔

موقع تو سب حکمرانوں کو ملاپاکستان سمیت دنیا اسلام کے کئی لیڈران نے اقوام متحدہ میں تقاریر کیں اپنے اپنے دور میں مشرف، نواز شریف ، یو سف رضا گیلانی اور بہت سے حکمرانوں نے خطاب کیا۔لیکن جیسا مقدمہ عمران خان نے ساری دنیا کی اقوام کے سامنے لڑا یہ سعادت کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی، عمران خان کی وہ تقریر تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔ کیونکہ وہ پر چی پر لکھی یا یاد کی ہوئی تقریر نہیں تھی بلکہ دنیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے دل کی آواز تھی۔آپ کی یاد دہانی کے لیے 10نومبر2019کی وہ سیر ت کانفرنس کا بھی حوالہ دینا چاہوں گا جس کا انعقاد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کیا تھا ۔ لیکن وہ کانفرنس سیاسی جلسے میں بدل گئی تھی سرچ کر لیں۔اس کے بعد بلاول بھٹو  زرداری کا بیان کہ سےاست کو مذہب سے دور رکھا جائے مذہب ایک پاک چیز ہے۔تو کیا ہم خلفہ راشدین کا دور بھول گئے انہوں نے کیسے حکومت کی کیا دنیا نے ان سے بہتر حکمران آج تک دیکھے ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے جو شخص ابھی سے دین کو الگ رکھنے کو کہہ رہا ہے وہ اگر اقتدار میں آ گیا تو دنیا کو اسلامی طرز حکومت کیسے بیان کر سکے گا۔عمران خان نے بلا شبہ ایک کٹھن راستے کا انتخاب کیا ہے لیکن کیا وہ اس راستے پر اپنے فائدہ کے لیے چل رہا ہے کیا اس سے وہ سابقہ حکمرانوں کی طرح بیرون ملک جائیدایں بنائے گا ؟ نہیں یہ راستہ قومی وقار کا راستہ ہے ۔جس راستے پر چلنے سے دنیا روکتی ہے ۔عمران خان نے اسلامی سربراہی کانفرنس میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو یکجا کرنے کی بات کی۔کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر بات کی ، انہوں نے بڑی دلیری سے مسلم ممالک کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی اور ان کا حل اتحاد و اتفاق بتایا۔حضور پاک ﷺ نے ایک بار صحابہ کرامؓ سے فرمایا ۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی حیثیت خس و خاشاک جیسی ہو گی، صحابہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بہت زیادہ ہوں گے لیکن دنیا کی محبت ان کو بزدل بنا دے گی، دوسرے ممالک میں روپے پیسے اور جائید ادوں نے مسلمان رہنماوں کو بزدل کر دیا۔ ایسے میں عمران خان ہر پلیٹ فارم پر اسلام اور پاکستان کی جنگ لڑتے نظر آتا ہے۔حضور پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کو جرم منوا چکا ہے جو کہ ایک بہت بڑا کا رنامہ ہے۔

ہم ذرا تاریخ کے ورق پلٹا کر دیکھیں تو علم الدین غازی شہید کا واقعہ نظر آئے گا ، جن کو میانوالی کی جیل میں پھانسی دی گئی ۔ پھانسی کے 15یوم بعد بعض مسلمان رہنما اس وقت کی حکومت غازی صاحب کا جسد خاکی لاہور لانے کے لئے ملے۔ جن میں ایک شخصیت علامہ محمد اقبال بھی تھے۔ حکومت نے امن عامہ کی شرط پر ان کی بات مان لی، پھر وقت نے لحد میں ایک چمکتا دھمکتا غازی صاحب کا چہرہ دیکھا جیسے ابھی دفنایا ہو ۔ ان کا جسد خاکی لاہور لایا گیا اور جب ان کو لحد میں اتارا جا رہا تھا تو تر انکھوں سے علامہ محمد اقبال نے ایک فقرہ کہا تھا ۔(ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا)۔حضور پاک ﷺ کی محبت انسان کو امر کر دیتی ہے۔ ہم تمام مسلمان دنیا اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ حرمت رسول ﷺ پر پہرہ دینے والا ہمارے ملک کا حکمران دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب رہا ۔بڑے بڑے (کھانگھڑ ) حکمران وہ کام نہ کر سکے جو ایک (کھلاڑی) کر گیا۔اسلامو فوبیا نے دنیا میں مسلمانوں کا جینا محال کر رکھا تھا ۔ کون نہیں جانتا 9/11کے بعد دنیا مسلمانوں کو کس طرح دیکھتی تھی اور مسلمان دنیا میں کیسے زندگی گزار رہے تھے۔ ایسے حالات میں مسلم امہ کے حکمران دنیا کو اسلام اور دہشت گردی کے فرق کو ہی بیان نہ کر پائے۔اقوام متحدہ کے اجلاس میں پوری دنیا کے سامنے اسلا م کے تشخص کو جس طرح عمران خان نے بیان کیا وہ قابل ستائش ہے۔ آج پوری دنیا ہر سال 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف دن کے طور پر منائے گی۔پاکستان میں رحمت العالمین اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ہمارے بچے آپ ﷺ کی سیرت مبارک پڑھ سکیں،گزشتہ کئی دہائیوں سے کبھی اس پر کام نہ ہو سکا۔بات صرف نیت اور توفیق کی ہے۔

او آئی سی کے اجلاس میں ساری اسلامی دنیا کو اکٹھاکرنا اور مل کر چلنا اپنے اختلافات کو بھلا کر مسلمانوں کے لئے اکھٹے ہونے کا عہد کیا گیا۔عمران خان نے قوم کو بتا یا ہم ایک آزاد قوم ہیں اور اپنے ملک کی خارجہ پالیسی آزادانہ اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کر بنائیں گے، مغرب کو بتا دیا ہم غلام نہیں ہیں ۔ عمران خان اس وقت مغربی ممالک اور غیر مسلم ممالک کی نظر میں طیب اردگان کی طرح کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔عمران خان کے خلاف بیرونی اور اندرونی دشمن زور آزمائی کر رہے ہیں ۔ شاید وہ قوم کو یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ ہمیں نہیں چاہیے اےسا لیڈر جو غلامی سے نکلنے کی بات کرے۔جو دنیا کو للکارتا ہو ، اسلام کی جنگ لڑ کر مغرب کو ناراض کر دے۔جو قوم کے وقار کی بات کرتا ہو۔ہمیں وہی پرچی والے تابعدار لوگ اچھے ہیں وہی دین فروش ٹھیک ہیں۔ آخرت میں سرکارؐ کی محبت کام آئے گی ۔سیاست کبھی بھی دین سے باہر نہیں اور نہ مغرب کو ناراض کرنا کوئی معنی رکھتا ہے۔ جو آج کل کے سیاست دان ہمیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -