رمضان کریم

 رمضان کریم
 رمضان کریم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان سمیت دُنیا بھر میں رمضان المبارک کی با برکت ساعتیں شروع ہو چْکی ہیں، سعودی عرب میں 29 کو چاند نظر نہ آنے کے باعث شعبان المعظم کا مہینہ 30 دن کا ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانیوں نے اپنے طور پرہی پہلا روزہ جمعہ 24 مارچ کوتصور کر لیا، تاہم عوام کو اس وقت افراتفری کا سامنا کرنا پڑا جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے چیئرمین عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں رات گئے رمضان المبارک 1444 ہجری کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیاجس کے مطابق بہاولپور، رحیم یار خان، صوابی، قلعہ سیف اللہ اور مردان سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئیں،جس کے بعد متفقہ طور پر پہلا روزہ جمعرات 23 مارچ کو ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔رمضان المبارک کاچاند دیکھنے کے لئے ملک کے دیگر حصوں میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس بھی ہوئے۔ پنجاب کی زونل کمیٹی کے سربراہ طاہر رضا بخاری کے مطابق لاہور سمیت صوبہ بھر میں کہیں بھی رمضان کا چاند نظر نہیں آیا، جبکہ دیگر زونل کمیٹیوں کو صوبہ سندھ اور کوئٹہ میں بھی رمضان کے چاند کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔ دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک بھارت اور بنگلہ دیش میں رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا جہاں پہلا روز جمعہ 24مارچ کو ہوا۔


پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے کئی روز قبل ہی 22 مارچ کومتوقع طور پر چاند نظر آ جانے کی پیشین گوئی کر دی گئی تھی، محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق چاند کی پیدائش 21 مارچ کی شب 10 بجکر 23 منٹ پر ہوئی تھی، اس لئے 22 مارچ کو مغرب کے وقت چاند کی عمر 20 گھنٹے سے زائد تھی، علاوہ ازیں غروب آفتاب 6 بجکر 14 منٹ جبکہ غروب قمر 7 بج کر 32 منٹ پر ہوا، یعنی ملک کے طول و عرض میں متوقع طور پر چاند نظردیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کے پاس ایک گھنٹہ 18منٹ تھے۔تاہم نماز عشاء تک کسی قسم کا کوئی اعلان نہ ہونے کے باعث لوگ نماز تراویح پڑھے بغیر ہی گھروں کولوٹ گئے جبکہ خواتین بھی پہلی سحری کا اہتمام کئے بغیر سو گئیں، تاہم رات دس بجے کے بعد مولانا عبد الخبیر آزاد کی جانب سے چاند کا اعلان کر دیا گیا جس نے لوگوں کی دوڑیں لگوا دیں۔ اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان آ گیا، مختلف لوگوں نے اپنے اپنے طور پر چاند کے حوالے سے تبصرہ کیا، بعض کا کہنا تھا کہ جمعہ کا دن حکومت پر بھاری ہوتا ہے لہٰذا حکومت نہیں چاہتی تھی کہ پہلا روزہ جمعہ کے روز ہو، اسی طرح کسی نے لکھا کہ پنجاب میں الیکشن ملتوی کرنے کی خبر سے توجہ ہٹانے کے لئے جان بوجھ کر چاند کو متنازعہ کیا گیا تا کہ لوگوں کا دھیان ہٹ جائے، کسی دِل جلے نے یہ بھی لکھا کہ حکومت نے عوام سے رمضان المبارک کوپورے اہتمام کے ساتھ خوش آمدید کہنے کی خوشی بھی چھین لی۔تاہم رمضان المبارک کا چاند ہو یا پھر عید الفطر، یہ صورت حال نئی نہیں ہے۔رویت ہلال کمیٹی کو ہمیشہ ہی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ عوام کی اکثریت رمضان المبارک اور عید کے حوالے سے ”اوور ایکسائٹڈ“  ہوتی ہے، اگر شعبان تیس دن کا ہو جاتا تو لوگوں نے کہنا تھاکہ ایک روزہ ”کھا“ گئے، اسی طرح گزشتہ کئی برسوں سے پشاور کے مخصوص گروپ کی جانب سے پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کے خلاف جا کر رمضان یا عید کرنے کا تنازعہ بھی معمول بن چکا ہے،ویسے روایتی طور پر زیادہ تر رمضان اور عید سعودی عرب کے ایک روز بعد ہوتی تھی تاہم گزشتہ کئی برسوں سے یہ ”فارمولا“ بھی ”اپلائی“ نہیں ہو رہا بلکہ اب تو ایسا بھی ہو رہا ہے کہ پاکستان میں روزہ سعودی عرب کے ایک روز بعد ہوا تاہم عید الفطر سعودی عرب کے ساتھ ہی منا لی گئی۔چاند سے متعلق  تمام حقائق اور جذباتیت اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستانی اس معاملے میں بہت حساس ہیں۔

 میرے ذاتی خیال میں چاند کی متنازعہ بحث رمضان المبارک اور عیدین کا ماحول بھی مزید گرما دیتی ہے، بلکہ یوں کہیے کہ اس کا حصہ ہے۔دراصل آج کا عنوان ہی ماہ صیام کی با برکت ساعتوں، سحر و افطار کی رونقوں اور خطے کے مخصوص ماحول میں اس سے جڑی خوشگواریت اور خوبصورتی سے متعلق ہی تھا جس کا بیشتر حصہ چاند کی متنازعہ تمہید کی نظر ہو گیا، موضوع کے لئے سیاسی منظر نامے، مہنگائی اور عوامی مسائل سے متعلق کافی خبریں موضوع کے لئے ”اپیل“ کر رہی ہیں لیکن دِل یہی کر رہا ہے کہ اس افضل ترین مہینے کی فیوض و برکات پر ہی لکھا جائے، جس میں خوشیوں کی ایک عجیب سی مہک ہے، اس میں سحر و افطار کی لذتیں اور عبادات کا سرور بھی ہے جبکہ عیدالفطر کی مسرت بھی، خضوع و خشوع سے ہونیوالی سحری اور جوش و خروش کے ساتھ افطاری کا اہتمام ایک الگ احساس ہے۔ رمضان المبارک کا اثر ہمارے خطے کے مجموعی ماحول پر اتنا گہرا ہے کہ کوئی شخص بھی اس سے باہر نہیں۔ مرد حضرات کا دفاتر اور کام کاج ختم کر کے وقت سے پہلے گھر پہنچنا، خواتین کا کچن میں افطاری کی تیاری کرنا اور چھوٹے بچوں کی جانب سے ٹیبل سجانے میں مدد کرنا ایک الگ ہی سرشاری ہے، جس میں عبادت کا سکون بھی ہے، میل ملاپ بھی اور خوشی بھی،یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک ہر شخص کے اندر باقاعدہ طور پر رچا بسا نظر آتا ہے۔

 موجودہ حالات میں ملک کے اندر جان لیوا مہنگائی نے غریب عوام کے لئے رمضان المبارک کو مشکل بنا دیا ہے، سحرو افطار میں زیادہ استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں کو پَر لگے ہوئے ہیں جبکہ سرکاری قیمتوں کے علاوہ گراں فروشی کی شکایات بھی عام ہیں، تاہم میرا ذاتی خیال ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں،رمضان المبارک کا ماحول ہر چھوٹے بڑے پر طاری ہوہی جاتاہے، ماہ مقدس کا چاند نظر آتے ہی اندر اور باہر کی ساری کیفیت بدل جاتی ہے، یہی وہ مہینہ ہے جس میں دنیا سے رخصت ہو جانے والے اپنے ماں باپ اور پیارے اور بھی زیادہ یاد آتے ہیں۔ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات سمیٹنے کی توفیق دے اور مہنگائی کے مارے ہوئے پاکستانی عوام کی مشکلات آسان فرما ئیں تاکہ وہ بھی خوشیوں، رحمتوں اور مغفرت کے اس مہینے سے فیض یاب ہو سکیں۔آمین

مزید :

رائے -کالم -