تفہیم اقبال:جنرل ابو عبیدؓ بن مسعود ثقفی کون تھے؟

تفہیم اقبال:جنرل ابو عبیدؓ بن مسعود ثقفی کون تھے؟
تفہیم اقبال:جنرل ابو عبیدؓ بن مسعود ثقفی کون تھے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 حالات زندگی:ابوعبید کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا۔9ہجری میں اپنے قبیلے کے وفد کے ساتھ بارگاہِ نبویؐ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ وہ صحابی رسولؐ ضرور تھے لیکن انہیں سرور دوعالمؐ کی قیادت میں جہاد کی سعادت نہ مل سکی کہ 10ہجری میں حضورؐ کا وصال ہو گیا۔حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد جب حضرت عمرؓ نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت ایران دنیا کی سپرپاور تھا۔ مسلمان متذبذب تھے۔ حضرت عمرؓ نے جب ایران پر حملے کے لئے رائے طلب کی توکسی بھی طرف سے مثبت جواب نہ ملا اور کسی نے بھی وہاں جا کر جہاد کرنے کی حامی نہ بھری۔ اس طرح تین روز گزر گئے۔ چوتھے روز حضرت ابوعبیدؓ حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ”میں ایران کے خلاف جنگ پر جانے کے لئے تیار ہوں۔“ ان کے بعد سعد بن عبید انصاری اور سلیط ؓ بن قیس انصاری نے بھی پیشکش کی۔ بہرحال جب لشکر تیار ہو گیا تو کمانڈر کی تقرری کا مسئلہ درپیش ہوا۔ حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا گیا کہ مہاجرین و انصار میں سے کسی جید صحابی کو کمانڈر مقررکیا جائے۔ لیکن حضرت عمرؓ نے فرمایا ”ہرگز نہیں۔ میں اس شخص کو کمانڈ دوں گا جس نے اس جنگ پر جانے میں پہل کی تھی“۔ ان کا اشارہ ابوعبید ثقفیؓ کی طرف تھا۔

چنانچہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوعبیدؓ کو طلب کیا اور فرمایا: ”آپ کو چونکہ قبل ازیں جنگ کا زیادہ تجربہ نہیں اور آپ کی قیادت میں کافی لوگ جنگ آزمودہ اور جنگ دیدہ ہیں، اِس لئے آپ ان کے مشوروں پر عمل کرنا۔ جلدی نہ کرنا۔ ہر کام سوچ سمجھ کر اور تحمل و بردباری سے کرنا۔ آپ کا سامنا ان لوگوں سے ہے جو مکرو فریب اور مکاری و ریاکاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اس لئے اپنی زبان قابو میں رکھنا اور دل کا راز کسی پر افشاء نہ کرنا“۔

اس کے بعد 5ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک دستہ ابوعبیدؓ کے ہمراہ کر دیا۔ یہ نفری آج کے ایک بریگیڈ گروپ کے برابر ہے۔

ایرانی فوج کا شاندار ماضی اس کی پشت پر تھا۔ ساسانی خاندان کا سات سو برس کا جاہ و جلال اور عسکری طمطراق روایت بن چکا تھا۔ اس کے مقابلے میں عرب محض بدو قبائل پر مشتمل تھے اور تاریخ میں بحیثیت ایک مستقل اور منظم فوج کے ان کی کوئی مثال موجود نہ تھی۔آنحضورؐ نے ان کو منظم فرمایا اور پھر اس دور کی دو بڑی عالمی طاقتوں کے خلاف صف آراء کر دیا۔ قیصر و کسریٰ کا رعب و دبدبہ ساری دنیا پر مسلط تھا اور ان کی جنگی روایات مسلم تھیں۔ ایرانیوں کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ بہت جلد ان کی بساط الٹنے والی ہے۔ عربوں کو وہ اونٹنی کا دودھ پینے اور خار پشت کا گوشت کھانے والے بدو سمجھا کرتے تھے۔ تاہم بہت جلد ان کا یہ زعم پاش پاش ہونے والا تھا۔

ایرانی فوج کا سپہ سالار رستم تھا۔ جابان اس کی فوج میں ایک ڈویژنل کمانڈر تھا۔ ابوعبیدؓ کے ایک دستے نے ناگہانی حملہ کرکے ایرانی دستے کو شکست دی۔ اتفاق سے اس دستہ میں خود ڈویژنل کمانڈر بھی تھا جو جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ جابان نے کہا کہ وہ ایک بوڑھا سپاہی ہے۔ اگر اسے آزاد کردیا جائے تو وہ اپنے بدلے دو نوجوان غلام اور ایک بھاری رقم بطور تاوان ادا کرنے کو تیار ہے۔ ابوعبیدؓ کی فوج کے ایک سپاہی نے یہ شرائط منظور کرلیں اور اسے آزاد کر دیا۔ لیکن ابھی وہ ایرانی صفوں میں واپس نہیں گیا تھا کہ ایک مجاہد نے اسے پہچان لیا۔ابوعبید کو خبر دی گئی کہ جابان نے فریب دے کر امان حاصل کی ہے۔ اگر یہ پتہ چل جاتا کہ جابان سالار لشکر ہے تو معاملات کچھ اور ہو جاتے۔ دوسری طرف جابان کا موقف تھا کہ جب ایک بار اسے امان دے دی گئی ہے تو جنگی قوانین کی رو سے وہ اب آزاد ہے۔ یہ مقدمہ جب جنرل ابوعبیدؓ کے سامنے پیش ہوا توانہوں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فرمایا: ”ہم مسلمان ہیں اور ایک ہی ساز کے مختلف نغمے ہیں۔ نعرہ حیدرؓ اگر بلالؓ کے حلق سے نکلے تو بھی اس کا یہی مطلب ہوگا اور اگر بوذرؓ کوئی وعدہ کریں تو قنبرؓ پر اس کی پاسداری لازمی ہوگی کہ ہم میں سے ہر ایک ملت اسلامیہ کا امین ہے۔ ہماری صلح اور ہماری جنگ ملت اسلامیہ کی صلح اور جنگ ہے۔یہ معاملہ انفرادی نہیں اجتماعی ہے۔ چونکہ ہماری ملت کی اساس فرد پر استوار ہے اس لئے ہمارے ہر فرد کا عہد و پیمان گویا ساری ملت کا عہد و پیمان ہے۔ اگرچہ جابان ہمارا دشمن تھا لیکن جب ایک مسلمان نے اسے امان دے دی تو پھر اس کا خون ہر مسلمان کی تلوار پر حرام ہے“۔

گرچہ جاباں دشمنِ ما بودہ است

مسلمے او را اماں بخشودہ است

خونِ او اے معشرِ خیر الانام

بر دمِ تیغِ مسلماناں حرام

اقبال یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسلام محض تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ اس کے ساتھ اخلاق کی ایک بڑی قوت بھی مسلمانوں کے ساتھ تھی۔ یہی اخلاقی اقدار تھیں جن کی تربیت سرور کونینؐ نے کی تھی اور جن کو مسلم فوج کا طرہ امتیاز بنا دیا تھا۔

عسکری تاریخ میں جنرل ابوعبیدؓ کے ایفائے عہد کا یہ واقعہ ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ دنیا کی کسی فوج میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی سپہ سالار کو جنگی قیدی بن جانے کے بعد صرف اس لئے واپس بھیج دیا گیا ہو کہ غلط فہمی سے کسی سپاہی نے اس کی جان بخشی کر دی یا اس کو امان دے دی۔

یہ لڑائی جس میں یہ واقعہ پیش آیا 13ہجری کو نمارق کے مقام پر لڑی گئی۔ یہ خاصی خونریز لڑائی تھی۔ ابو عبید ؓنے دوسرا معرکہ سقاطیہ میں لڑا۔ مثنیٰ بن حارثؓ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس میں بھی مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ جب ان معرکوں میں ایرانیوں کو یکے بعد دیگرے شکستیں ہونے لگیں تو وہ تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ ایرانی کمانڈر انچیف رستم نے جالینوس کی کمانڈ میں ایک اور لشکر بھیجا۔ اسے بھی شکست ہوئی۔ پھر بھمن جازویہ کی کمانڈ میں ایک لشکر جرار مسلمانوں کے خلاف بھیجا گیا۔ کوفہ کے قریب قس ناطف کے مقام پر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ درمیان میں دریائے فرات حائل تھا۔ ایرانی کمانڈر بھمن نے پیغام بھیجا کہ ہمت ہے تو دریا کو عبور کرو اور سامنے آؤ…… ابوعبیدؓ کو مشیروں نے بہت سمجھایا کہ ایرانیوں کو دریا عبور کرنے کے لئے کہا جائے۔ ہمارا دریا عبور کرکے جانا خطرے سے خالی نہیں۔ لیکن ابو عبیدؓ نے ایک نہ سنی اور دریائے عبور کرنے کا حکم دے دیا۔ ایرانی سپاہ نے دریا عبور کرتی مسلم فوج پر حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ ایرانی فوج کے ہاتھی مسلمان گھڑ سواروں کے لئے درد سر تھے۔ ابوعبیدؓ نے آگے بڑھ کر کئی ہاتھیوں کی سونڈیں اپنی تلوار سے کاٹ ڈالیں۔لیکن ایک سفید ہاتھی نے مشتعل ہو کر ابو عبید  ؓ کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا اور انہوں نے وہیں جام شہادت نوش کیا۔ جنرل مثنیؓ بن حارث باقی فوج کو دشمن کے نرغے سے بچالانے میں کامیاب ہو گئے۔

حضرت عمرؓ کی عسکری فراست کی داد دینا پڑتی ہے کہ ان کی نصیحت کتنی درست تھی کہ وقت پڑنے پر مشیروں کی رائے کا احترام کرنا۔ دراصل ابوعبیدؓ ایک نڈر سپاہی ضرور تھے لیکن سالار لشکر کو اندھی جرات اور بے خوفی نہیں بلکہ نپی تلی جرائت اور ذاتی حفاظت کی فکر بھی درکار ہوتی ہے کہ پوری فوج کا مورال میدان جنگ میں اس کی موجودگی پر منحصر ہوتا ہے۔ اردن کے مشہور مورخ جنرل محمود شیت نے جسر(پل) کی اس لڑائی کو تدبیراتی (TACTICAL) اعتبار سے شکست اور تزویراتی (STRATEGIC) اعتبا رسے فتح قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج کے دلوں میں یہ رعب بیٹھ گیا تھا کہ مسلمان نہ ہاتھیوں کی پراہ کرتے ہیں اور نہ کسی آبی رکاوٹ کو خاطر میں لاتے ہیں۔اس تاثر نے بعد کی ایرانی سوچ پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے اور وہ یہ لڑائی جیت کر جنگ ہار بیٹھے!

مزید :

رائے -کالم -