پیپلزپارٹی اور2013ءکے انتخابات

پیپلزپارٹی اور2013ءکے انتخابات
پیپلزپارٹی اور2013ءکے انتخابات

  



1970

ءکے انتخابات میں بلوچستان میں پیپلز پارٹی قومی یا صوبائی کی ایک نشست بھی حاصل نہیں کر پائی تھی، جب ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ءمیں نیپ اور جمعیت العلمائے اسلام کی مخلوط حکومت ختم کی، تو ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر صابر بلوچ منتخب ہو گئے۔ میر دوست محمد نیپ کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے، چونکہ نیپ زیر عتاب آ گئی تھی، اِس لئے اُن کی نشستیں خالی کر دی گئی تھیں اور بغاوت کے مقدمے کا سامنا تھا۔ یوں 1973ءمیں پیپلزپارٹی آگے بڑھی پھر ذوالفقار علی بھٹو نے جھرلو کے ذریعے پیپلزپارٹی کی حکومت بنا ڈالی۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد جب اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے نواب محمد اسلم رئیسانی کی حکومت قائم کی گئی تو پیپلزپارٹی کے پاس کل 6 نشستیں تھیں،جبکہ مسلم لیگ (ق) کے پاس 21 نشستیں تھیں، مگر حکومت پیپلزپارٹی کی بن گئی۔

 پیپلزپارٹی کا دور حکومت بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا، کرپشن لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ، اغواءبرائے تاوان اپنے عروج پر تھا اور یہ سب کچھ حکومت کی سرپرستی میں ہو رہا تھا ، بعض وزراءبھی اس گھناﺅنے کاروبار میں شریک تھے،ہر ہفتے مسخ شدہ لاشیں ملتی تھیں، جب یہ حکومت کوئٹہ میں دھماکے کے نتیجے میں ختم ہوئی تو لوگوں نے خوشی کے شادیانے بجائے اور سکون کا سانس لیا۔ 11مئی 2013ءکو عام انتخابات ہوئے تو صوبے کے عوام نے صحیح فیصلہ کیا اور پیپلزپارٹی کو مسترد کر دیا۔ پیپلزپارٹی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی کئی نشستوں پرامیدوار کھڑے کئے، مگر عوام نے سب کو یکسر مسترد کر دیا۔ یوں ایک بار پھر بلوچستان کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی موجود نہیں ہے اور اسے بُری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے تمام وزرا لوٹ مار میں علی بابا کو پیچھے چھوڑ چکے تھے ۔

پیپلزپارٹی جب اقتدار میں آئی تھی تو گروپ بندی کا شکار ہو چکی تھی، نوابزادہ لشکری کا اپنا گروپ تھا۔ صابر بلوچ کا اپنا علیحدہ دھڑا کام کر رہاتھا۔ نصف وزراءاس کے ساتھ تھے اور نصف وزراءنوابزادہ حاجی لشکری کے ساتھ تھے اور جو حکومت میں شامل نہ تھے، وہ پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری بسم اللہ خان کاکڑ کے ساتھ تھے، یوں پیپلزپارٹی دھڑے بندی کا شکار ہو گئی تھی۔ دوسری جانب نواب محمد اسلم رئیسانی تمام اسمبلی کو وزراءکے لشکر میں شامل کرچکے تھے، جو وزیر نہ بن سکے، انہیں مشیر بنا دیا گیا۔ سب کو مطمئن کرنے کے بعد وزیراعلیٰ چین کی بانسری بجاتے ہوئے اسلام آباد میں مقیم ہو گئے، فائلیں جہاز کے ذریعے جاتیں اور دستخط ہو کر واپس آ جاتیں، بیورو کریسی بے لگام ہو گئی تھی اور جو کمزور تھے، وہ وزراءکے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔

قارئین محترم! ملازمتیں اس طرح بک رہی تھیں، جس طرح قدیم زمانے میں غلام بکا کرتے تھے۔ کلرک کے لئے 7 لاکھ سے 8 لاکھ اور گریڈ 14 کے لئے 20 لاکھ سے 25 لاکھ کی بولی لگی ہوئی تھی، اس گھناﺅنے کھیل میںپیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق) کے وزراءاور جمعیت العلمائے اسلام کے مقدس شیوخ شامل تھے۔ 18ویں ترمیم کے بعد نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو 130 ارب روپے دیئے گئے۔ یہ سب کے سب ان وزراءکی جیب میں چلے گئے، جبکہ صوبائی دارالحکومت کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہاتھا۔ ترقیاتی فنڈ مدرسوں میں لگائے گئے۔ کاغذوں اور فائلوں میں بلوچستان گل و گلزار نظر آ رہا تھا۔ کوئٹہ چمن روڈ کے بعض حصوں پر زیر تعمیر سڑک نواب محمد اسلم رئیسانی کے پانچ سالہ دور میں بھی مکمل نہ ہو سکی۔ بلوچستان میں ایک طرف قتل وغارت گری اور دوسری طرف نا اہل اور کرپٹ وزراءکی لوٹ مار جاری تھی۔

 بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا یہ سیاہ ترین دور تھا اور اس لوٹ مار کی گنگا میں علماءاور مسٹر صاحبان برابر کے شریک تھے، اس کے نتائج انتخابات میں بڑے واضح ہو کر سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ(ق) 21 سے 5 پر آ گئی ہے۔ یہ نشستیں پارٹی بنیاد پر نہیںجیتی گئیں، بلکہ شخصیات کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں اور اب ان کی جائے پناہ مسلم لیگ(ن) ٹھہری ہے۔ ان انتخابات میں صوبہ بلوچستان سے 8 آزاد امیدوار جیتے ہیں، ایک ممبر نیشنل پارٹی میں شامل ہو گیا ہے، باقی 7مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔ جاموٹ پارٹی کا ایک ممبر بھی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گیا۔ یوں اس کی تعداد 17 ہو گئی ہے، مسلم لیگ(ن) صوبائی اسمبلی کی بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ صوبائی اسمبلی پی بی 26 پر جمالی خاندان کی ایک خاتون جنت بی بی کئی مردوں کو ہرا کر صوبائی اسمبلی میں پہنچ گئی ہے۔ یہ بلوچستان کے معاشرے میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

 جمالی قبیلے نے دو نشستیں جیتی ہیں۔ ایک جان محمد جمالی جو مسلم لیگ( ق) سے تھے، بعد میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے اور انہوں نے یہ نشست مسلم لیگ(ن) سے جیتی ہے، تاریخ میں پہلی بار جمالی خاندان سے ایک خاتون کا انتخابات میں حصہ لینا اور جیت جانا بڑا اہم واقعہ ہے، ظفر اللہ جمالی نے آزاد حیثیت سے انتخاب جیتا ہے، وہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، ظفر اللہ جمالی وزیراعلیٰ بھی بنے تھے، اُن کی مدت صرف 22 دن تھی، ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کی حکومت ختم ہو گئی اور نواب بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان بن گئے۔ ظفر اللہ جمالی کے لئے ایک ووٹ جمعیت کے رکن کو خرید کر دیا گیا۔ اب ظفر اللہ جمالی کس طرف جائیں گے، بہت واضح نظر آ رہا ہے کہ ان کے لئے مسلم لیگ ہی اول انتخاب ہو گا۔ دوسرا انتخاب تحریک انصاف ہو سکتی ہے، ظفر اللہ جمالی پارٹی بدلنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ ان کا سیاسی سفر پیپلزپارٹی، جونیجو مسلم لیگ، مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) کی ٹرین پر جاری نظر آئے گا۔ آزاد کھڑے ہوتے ہیں اور حالات دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...