عوام منتظر ہیں!

عوام منتظر ہیں!
عوام منتظر ہیں!

  



انتخابات کے بعد حکومتوں کی تشکیل تک کا عرصہ عوام کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا عذاب بن گیا ہے۔ لگتا ہے کہ اس وقت ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ لوڈشیڈنگ کے اژدہے کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے۔ لوگ راتیں جاگ کر گزار رہے ہیں اور دن تپتے ہوئے ماحول میں گزر جاتا ہے۔ آخر ہُوا کیا ہے؟....بجلی یکدم کہاں چلی گئی ہے۔ کچھ منچلوں کا خیال ہے کہ یہ مصنوعی قلت جان بوجھ کر اس اسٹیبلشمنٹ نے پیدا کی ہے، جو انتخابی نتائج کی خالق بھی ہے اور اپنے دئیے گئے مینڈیٹ کو کامیاب بھی دیکھنا چاہتی ہے.... یعنی جونہی محمد نواز شریف وزیراعظم کا حلف اُٹھائیں گے تو عوام کو پہلی خوشخبری ضرور دینا چاہیں گے اور یہ خوشخبری لوڈشیڈنگ میں کم از کم آٹھ گھنٹے کمی کی ہوگی۔ یہ خوشخبری سنتے ہی عوام خوشی سے دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئیں گے اور عوامی حکومت کی آمد پر جشن منائیں گے۔ کمال ہے، نگران وزیراعظم کا ترقی و تبادلے کے لئے تو ہر حکم مانا جا رہا ہے، لیکن اُنہوں نے پاور کمپنیوں کو دینے کے لئے جن 22 ارب کی منظوری دی ہے، وہ جاری نہیں کئے جا رہے۔ یوں بجلی کا بحران اپنی آخری حدوں کو چُھو رہا ہے اور عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں تو شہباز شریف بجلی کی لوڈشیڈنگ پر زر بابا کے خلاف بیان بھی دیتے تھے، مگر اب اُنہوں نے بھی چُپ سادھ رکھی ہے۔ شاید اس لئے کہ جتنا بحران بڑھے گا، ریلیف دینے کا امکان بھی اُتنا ہی بڑا ہوگا اور نئی حکومت کی بلے بلے ہو جائے گی۔

اللہ نہ کرے کہ محمد نواز شریف کی حکومت کو ایسے مصنوعی سہارے تلاش کرنے پڑیں۔ عوام کو کسی ترکیب سے بہلانے کی کوشش شاید اب کارگر ثابت نہ ہو سکے۔ عوام نے جس بے رحمی سے سابق حکمرانوں کو انتخابات میں مسترد کیا ہے، اسی بے رحمی کے ساتھ وہ نئی حکومت کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں گے۔ پہلی بار کسی منتخب حکومت کو پانچ برس مکمل کرنے کا موقع ملا تو جمہوریت کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔ سب فریق اپنی اپنی جگہ پر ریڈ الرٹ ہیں، غلطی کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور محمد نواز شریف نے خوشگوار ماحول میں بات ضرور کی ہے اور مفاہمت کو جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے، مگر اب صرف یہی دو فریق نہیں ہیں۔ عمران خان بھی میدان میں ہیں، جنہوں نے اپنی انتخابی مہم ہی اس نکتے پر چلائی تھی کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے باریاں بانٹی ہوئی ہیں۔ ان دونوں میں ایسی مفاہمت ہوئی جو عوام کو ریلیف دینے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی تو عمران خان مزید مضبوط ہو جائےں گے۔ خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مل کر اپوزیشن کا کردار ادا کریں تو حقیقی اپوزیشن سامنے آئے گی۔ مَیں اُن کی اس بات سے اختلاف کرتا ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، میثاق جمہوریت کی زنجیروں میں بندھی ہوئی ہے۔ پھر گزشتہ پانچ برسوں میں اُس نے فرینڈلی اپوزیشن کے مزے لُوٹے ہیں، اب اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کو باری دینی ہے۔ تحریک انصاف کا اب تک جو نظریہ رہا ہے، وہ پیپلز پارٹی کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اسمبلی کے اندر اپوزیشن لیڈر چاہے کوئی بھی ہو، اصل اپوزیشن اب تحریک ہی ہے۔ ہاں اگر پیپلز پارٹی واقعی مو¿ثر اپوزیشن کا کردار کرنے میں سنجیدہ ہے تو اُسے اپوزیشن لیڈر کے لئے عمران خان کی حمایت کرنی چاہئے، لیکن ایسا ناممکن نظر آتا ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے پاکستانی سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانی میں اب ایک ارتعاش برپا ہے۔ ”اسٹیٹس کو“ کی حامی قومیں اگرچہ اپنا پورا زور لگا رہی ہیں کہ تبدیلی نہ آئے اور استحصالی نظام جُوں کا تُوں چلتا رہے، لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔ عوام کے اندر جب کوئی خواہش اجتماعی طور پر پروان چڑھتی ہے تو اُسے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ عوام اب دقیانوسی اور روایتی سیاست سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اس کا اندازہ انہیں بھی ہو چکا ہے جو پہلے بھی منتخب ہوتے رہے ہیں، مگر اب اُنہیں عوام کا موڈ مختلف نظر آ رہا ہے.... اور تو اور خود متحدہ قومی موومنٹ جیسی جماعت کو تطہیری عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ الطاف حسین اپنی تنظیم میں آنے والی خرابیوں کو تسلیم بھی کر رہے ہیں اور انہیں ختم کرنے کے دعویدار بھی ہیں۔ ربع صدی سے زائد عرصے تک وہ ایک خاص انداز کی سیاست کے ذریعے کراچی کے لوگوں کو اپنی مُٹھی میں لئے ہوئے تھے، مگر اس بار انتخابات میں انہیں یوں لگا جیسے اُن کی مٹھی میں ریت ہے جو پھسل رہی ہے۔ آج وہ خود بھتہ مافیا، قبضہ گروپوں، قانون شکنوں کو وارننگ دے رہے ہیں کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں یا پھر ایم کیو ایم سے نکل جائیں۔

اُن کی اس بات میں کتنی سچائی ہے، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا، تاہم اس سے یہ ضرور ثابت ہوگیا کہ اُنہوں نے ایم کیو ایم کے طرزِ سیاست میں خرابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں اصلاح کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ کراچی میں اب تک طاقت کی سیاست ہی ہوتی رہی۔ ایک طرف اگر ایم کیو ایم نے اسلحہ اُٹھایا تو دوسری طرف اے این پی بھی مورچہ بند ہوگئی۔ پیپلز پارٹی مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود اپنے اندر موجود قانون شکنوں کو ختم نہیں کر سکی۔ لیاری گینگ وار ہو یا پیپلز امن کمیٹی کی سرگرمیاں، پیپلز پارٹی کسی نہ کسی حوالے سے طاقت کی سیاست کا حصہ رہی۔ اس بار جب تحریک انصاف نے کراچی میں عوامی قوت پر انحصار کرتے ہوئے سیاست کا آغاز کیا تو وہ سب لوگ جو امن پسند ہیں اور طاقت کی نہیں، جمہوریت کی زبان رکھتے ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ درحقیقت اس قتل و غارت گری، بدامنی، بدمعاشی اور بھتہ خوری کے خلاف اعلانِ بغاوت تھا، جس نے کراچی کو گھیر رکھا ہے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔

الطاف حسین جو کراچی میں آنے والی ہر قوت کو اپنی مخصوص حکمت عملی سے ناکام بناتے رہے، اس تبدیلی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ اب اسے اُن کی سیاسی بصیرت ہی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس تبدیلی کا راستہ روکنے کے لئے روایتی ہتھکنڈے آزمانے کی بجائے ایم کیو ایم میں کایا کلپ کا فیصلہ کیا۔ اُن کا یہ کہنا بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اب ایم کیو ایم کو تحریک سے جماعت بنانے کا وقت آگیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی قوت ہے، مگر بدقسمتی سے اُس پر دہشت گرد تنظیم کا لیبل لگ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں ایک سیاسی قوت اُبھری تو ایم کیو ایم کو اپنی مقبولیت کا بھرم قائم رکھنا مشکل ہوگیا....اس بدلتی ہوئی فضا میں بھرم قائم رکھنا ہی سب سے اہم ہے۔ فوج، میڈیا، پارلیمینٹ، سیاسی جماعتیں اور حکمران عوام کے سامنے ایک لائن میں کھڑے ہیں۔ عوام کی اب سب پر نظر ہے اور سب کی خبر ہے....جس طرح سینما ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ فلم چلنے کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اسی طرح عوام اب اس بات کے منتظر ہیں کہ نئے جمہوری دور میں کون کیا کرتا ہے۔ کس کا کردار ہٹ ہوتا ہے اور کون پٹ جاتا ہے۔

انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں، لوگ اسے بھول جائیں گے، تاہم وہ یہ نہیں بھولیں گے کہ انتخابی مہم میں ان سے کیا وعدے کئے گئے تھے اور وہ کتنے پورے ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پر تو ویسے بھی بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اُسے مرکز اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بھرپور مینڈیٹ حاصل ہے۔ پھر مرکز میں ایک بھائی وزیراعظم ہوں گے تو صوبے میں چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ۔ اب یہ سوال نہیں اُٹھے گا کہ وفاق صوبے کو اُس کے حقوق یا وسائل نہیں دے رہا۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکے گا کہ لوڈشیڈنگ کے معاملے میں پنجاب کو جان بوجھ کر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُلٹا اپوزیشن کی طرف سے تمام توپوں کے رُخ مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے فیصلوں اور کارکردگی کی طرف ہوں گے۔ معاملہ آسان نہیں، میچ بھی فرینڈلی نہیں رہا، تماشائی بھی پوری طرح چوکس ہیں۔ سو بات اب پہلے جیسی نہیں رہی۔عوام معجزوں کے منتظر ہیں، تبدیلی کی خواہش اُن کی نس نس میں سما گئی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کا امتحان اُس دن شروع ہو جائے گا، جب وہ حلف اٹھائیں گے۔ اُسی دن سے عوام اُلٹی گِنتی بھی شروع کر دیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ میاں نواز شریف وہ غلطیاں نہ دُہرائیں، جو اُن سے ماضی میں اقتدار کے دنوں میں سرزد ہوئیں۔ وہ اختیارات میں مطلق العنانی تلاش کرنے کی بجائے عوام کے دلوں کو تسخیر کرنے کی راہ اختیار کریں۔ عوام کی محبت کسی بھی حکمران کے لئے سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور محمد نواز شریف کو اب یہی طاقت حاصل کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینی چاہئے۔  ٭

مزید : کالم


loading...