دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ

دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ

  



کوئٹہ میں کانسٹیبلری وین پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں گیارہ پولیس اہلکاروں سمیت ایک سو تیرہ فراد جاںبحق اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ مشرقی بائی پاس پر پیش آیا، جہاں دھماکہ خیز مواد ایک رکشے میں چھپایا گیا تھا۔ ریپیڈ ریسپونس فورس کا یہ دستہ سول سیکرٹریٹ جا رہا تھا کہ سو کلو بارودی مواد کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ بائیس زخمیوں میںدس سیکیورٹی کے افراد بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دس دنوں میں کوئٹہ میں پولیس پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے ۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے راکٹوں اور آتش گیر مواد سے بھرا ایک ٹرک بلوچستان کے آئی جی پولیس مشتاق سکھیرا کی سرکاری رہائش کے قریب دھماکے سے اُڑادیا گیا تھا، جس سے 8 پولیس والے اور شہری جاں بحق ہوئے اور آئی جی ہاﺅس کو شدید نقصان پہنچا۔ ادھر ہنگو کے علاقے وسطی کرم میں فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،جن میں4 اہلکار شہید اور 25 جنگجو ہلاک ہوگئے ، شہید ہونے والوں میںایک کیپٹن بھی شامل ہے۔ یہاں دہشت گردوں نے فورسز پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے کیپٹن احمد رضا سمیت 4 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 18 زخمی ہوگئے ۔زخمی ہونے والوں میں ایک میجر اور دو کیپٹن بھی شامل ہیں۔ فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 20 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اِس دوران جیٹ طیاروں کی مدد بھی حاصل کی گئی، جن کے حملے سے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کردئیے گئے ۔

کوئٹہ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور باعث تشویش ہے ،جس پر قومی قیاد ت نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعہ کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ،لیکن جو لوگ بلوچستان میں امن و امان تباہ کرنے کے در پے ہیں اور اس کے مختلف علاقوںمیں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان کے عزائم سے سب واقف ہیں۔ ان سارے معاملات میں تشویش کی بات یہ ہے کہ رکشے یا ٹیکسی میں اور بعض اوقات موٹر سائیکل اور ویگن میں بارود بھر کر شہروں اور قصبوں میں لایا جاتا اور با آسانی پُرامن شہریوں یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ پولیس اور ایجنسیاں اس بات کا سراغ لگانے میں ناکام رہتی ہیں کہ یہ سب کچھ کس طرف سے اور کب کن لوگوں کے ذریعے انسانی آبادی میں پہنچ جاتا ہے ؟ ان کو چیک کرنے والے آخر کہاں ہوتے ہیں؟ جب مختلف گاڑیوں میں بارود بھر کر اس طرح کی وارداتیں مسلسل ہو رہی ہیں ، دشمن نے یہ جنگ ہمارے خلاف تواتر سے شروع کررکھی ہے تو آخر اس کے ٹھکانوں تک پہنچ کر اسے کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچا یا جا رہا۔ یا کم از کم اپنے شہروں میں بارود بھری گاڑیوں کی نشاندہی کرنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ گاڑیوں کی جامع اور مو¿ثر چیکنگ کے بعد ایسے لوگوں کو سیکیورٹی کے ادارے پکڑنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں؟

کیا گاڑیوں کی چیکنگ اور جانچ پڑتال کا کام صرف فائیو سٹار ہوٹلز اور بڑے لوگوں کی قیام گاہوں تک ہی محدود رہے گا یا کبھی اسے عام شہریوں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلا ف بھی کام میں لایا جائے گا ؟سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے کوئی مو¿ثرقوانین نہ ہونے اور ان کے خلاف کمزور مقدمات کی آڑ میں انہیں رہا کر دئیے جانے کی شکایات عام ہیں۔ دہشت گرد پاکستان سے کھلی اور طویل جنگ میں مصروف ہیں ، ہماری مسلح افواج اور دوسری سیکیورٹی فورسز کے علاوہ پوری قوم کو بھی مل کر ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے نوجوانوں کی رضاکار تنظیمیں ہر قصبے اور شہر میں قائم کرنے کی ضرورت ہے جو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ہر طرح کی گاڑیوں کی چیکنگ میں معاونت کریں ،اپنے اپنے علاقے میں مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ دہشت گردی کے خلاف اور قومی مفادات کے حق میں عوام کو آگاہی دیں۔جب تک پوری قوم کو دہشت گردی کی اس جنگ کی شدت اور اس کے پیچھے ہمارے بدترین دشمن کے ہاتھ کا احساس نہیں دلایا جاتا اس وقت تک اس کا کوئی آسان حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔

اب تک کی دہشت گردوں کی وحشیانہ اور انسان دشمن کارروائیوں سے واضح ہو چکا ہے کہ یہ محض پاکستانی طالبان یا ناراض پاکستانیوں ہی کا معاملہ نہیں ہے اس کے پیچھے لازما ً کچھ طاغوتی طاقتیں بھی ہیں۔ اس کے پیچھے پاکستان کے ازلی دشمنوں کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے ، جو بلاشبہ ہمارے اپنے شہریوں کو خرید کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ٹھکانے ہمارے اپنے قصبوں، دیہات اور شہروں میں ہیں۔ سیٹلائٹ سرچنگ کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی ان تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ریموٹ سنسنگ کے طریقے بھی ان کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے آزمائے جاسکتے ہیں۔ ہماری ایجنسیاں اگر متحرک ہوں تو ان کو گرفتار کرناایسا بھی مشکل کام نہیں ہے۔ امریکہ جو اس وقت دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کررہا ہے ،بہت زیادہ وسائل اور ٹیکنالوجی کی انتہاﺅں کو پہنچا ہوا ملک ہے ،لیکن اگرہم اس کے اتحادی ہیں تو وہ ہمیں آخر دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی مہیا کیوں نہیں کرتا؟ کیا اس لئے کہ ہمارے اور امریکہ کے دہشت گرد جدا جدا ہیں؟ ان کی اور ہماری دہشت گردی کی تعریفیں مختلف ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیسے اتحادی ہیں؟

ہمیں اب تک کی دہشت گردی سے جو کچھ نتائج حاصل ہوئے اور جو سبق ہم نے سیکھے ، ان سے پوری قوم کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قبائلی علاقوں میں جس بڑی تعداد میں لوگ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں ، اس کا تدارک کرنے اور عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ غلط فہمیوں اور غلط نظریات کا شکار لوگوں کو موثر انداز میں حقائق سے آشنا کرنے اور راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے۔ قومی اور حکومتی سطح پر سیاسی اور عسکری قیادت میں یک جہتی پیدا کرنے کے بعد ایک مشترکہ لائحہ عمل طے ہوجائے تو پھر میڈیا بھی گمراہ اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو سمجھانے اور صحیح بات ان کے اذہان میں ڈالنے کا فریضہ ادا کرسکتا ہے، جس طرح انتخابات میں میڈیا کی طرف سے حوصلہ افزائی کے بعد دگرگوں اور نامساعد حالات کے باوجود عوام کی بڑی تعداد جوش و خروش سے پولنگ سٹیشنوں تک پہنچی اور اس نے اپنے ووٹ کا حق ادا کیا اسی طرح کی مہم کے ذریعے میڈیا انسانیت کے دشمنوں کے خلاف بھی عوام کو متحد و منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک قومی لائحہ عمل تیار کرنے کے کام میں اب مزید تاخیر قوم میں بے یقینی اور بددلی کو بلاضرورت طول دینے کا باعث ہو گی۔ ہم پر دشمن نے بھرپور جنگ طاری کر رکھی ہے اور ابھی تک ہم اس کا جواب دینے کے متعلق یکسو نہیں ہوسکے۔ یہ حکومت کا کام ہے اور ہماری سیاسی قیادت کے لئے چیلنج بھی ہے جس کا اسے بلاتاخیر جواب دینا چاہئے۔ اس وقت کوئٹہ جیسے واقعات سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ قوم دشمن کے یک طرفہ وار سہہ رہی ہے ،کیا ہم دشمن کا جواب دینے سے عاری ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...