ہنگ اپوزیشن

ہنگ اپوزیشن
ہنگ اپوزیشن

  



ہنگ پارلیمنٹ مانگتے مانگتے ہمیں ہنگ اپوزیشن مل گئی ہے !

 الیکشن سے قبل ہنگ پارلیمنٹ کا سن سن کر کان پک گئے تھے، ایسا لگتا تھا کہ اگلی پارلیمنٹ میں جوتیوں میں دال بٹے گی کیونکہ صدر آصف علی زرداری کی سیاست کے نتیجے میں ن لیگ کا ووٹ بینک تقسیم ہو جانا تھا اور یوں کوئی بھی اس پوزیشن میں نہ ہوتا کہ اپنی مرضی کر سکتا، لیکن شومئی قسمت کہ ایسا معاملہ حکومتی جماعت کے ساتھ ہونے کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ ہو گیا ہے ، بھری پارلیمنٹ میں اپوزیشن ہنگ اپوزیشن کا روپ دھار گئی ہے، ایک نہیں کئی اپوزیشن لیڈر نواز شریف کی حکومت کو للکارنے کے لئے پر تول رہے ہیں، ان میں سر فہرست عمران خان ہیں، ان کے بعد خورشید شاہ اور پھر اپوزیشن لیڈروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جن میں شیخ رشید، امین فہیم، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر فاروق ستار اور جاوید ہاشمی جیسے نابغہ روزگار شامل ہیں، ان شخصیات میں ہر کوئی اپنی ذات میں انجمن ہے اور پوری پوری پارلیمنٹ پر بھاری ہے ، اس لئے حکومتی ایوانوں سے دھواں دھار تقریریں سننے کو ملیں نہ ملیں، اپوزیشن کی جانب سے ضرور معرکتہ الآراءتقریریں سننے کو ملیں گی!

اپوزیشن کا کام حکومت کے نقائص بیان کرنا ہوتا ہے ، نواز شریف جب اپوزیشن میں تھے تو یہی کچھ کرتے رہے، لیکن لوگوں نے محض بیان بازی کو کافی نہ جانا اور بارہا تقاضا کیا کہ حکومت کو گھرچلتا کریں، لیکن نواز شریف اس پر راضی نہ ہوئے اور انہیں فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ بھی سننا پڑا، اب کے جو اپوزیشن بننے جا رہی ہے اس کو بھی وہی مسائل درپیش ہیں جو سابقہ اپوزیش کو تھے، لہٰذا اس اپوزیشن کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں اس لئے بھی دشواری پیش آئے گی کہ یہاں بھانت بھانت کی بولی بولنے والے اپوزیشن لیڈر جمع ہوگئے ہیں، ہر کوئی سرنکال کر بات کرنے والا ہے، ہر کوئی باغی ہے اور ہر کوئی نواز شریف کو کسی باغ کی مولی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے!

اندریں حالات حکومت کا کام کافی آسان رہے گا، کیونکہ اپوزیشن کا باہم کسی نقطے پر اتفاق ناممکن ہی ہوگا، اس صورت حال میں متحدہ اپوزیشن کو چاہئے کہ بروقت اقدامات کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و نگانگت پیدا کرتے ہوئے کسی ایک کو اپوزیشن لیڈر چن لیں، عوام کا خیال ہے کہ اس نیک کام کے لئے عمران خان کا نام زیادہ موزوں ہے، ان کا کہنا ہے کہ عمران اگر کلین سویپ کرکے مثالی حکومت نہیں بنا سکا تو کم از کم اسے مثالی اپوزیشن بننے کا موقع ضرور دیا جائے، اس مطالبے میں عمومی طور پر خواتین کی تعداد زیادہ ہے، عمران اگر اپوزیشن لیڈر بن گئے تو میاں صاحب کی خیر نہیں، انہیں وزیر اعظم بن کر مطلوبہ اکثریت ملے تو ملے ، مطلوبہ عزت نہ ملے گی، کیونکہ عمران نے تو بات ہی اوہ میاں جی سے شروع کیا کرنی ہے جس مولا بخش چانڈیو جھوم جھوم جایا کریں گے!

لیکن عمران اگر اپوزیشن لیڈر نہ بنا تو ان سے بڑا اپوزیشن کا مخالف اور کوئی نہ ہوگا، عمران کےلئے پانچ سال اپوزیشن میں گزارنا جوئے شیر نکالنے کے مترادف ہوگا، یہ کام جس استقامت ، صبر اور حوصلے کا متقاضی ہے وہ عمرا ن کا نصیب نہیں، یقین جانئے اگر کسی کو اپوزیشن لیڈر کا رول بھا جائے اور وہ ایک مرتبہ اس پر پورا اتر آئے تو پھر نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی طرح اس کا دل کسی اور عہدے اور مرتبے میں لگتا ہی نہیں ، چنانچہ عمران کو اپوزیشن کے عہدے سے ، اس کرسی سے زیادہ دل نہیں لگانا چاہئے، اس کے برعکس سید خورشید شاہ کو عملی طور پر اور خود زبانی طور پر اپوزیشن لیڈر کا رول کرتے رہنے دیں!

اپوزیشن لیڈر ہونے کے بہت سے فائدے ہیں، آپ کو بآسانی مائیک مل جاتا ہے، آپ نے سوائے تنقید کے کچھ نہیں کرنا ہوتا، لوگوں کے فیڈ بیک پر نت نئے نقطے پیدا کرنا ہی بہترین اپوزیشن ہوتی ہے، عمران خان تو خود بہت بڑے جملے باز ہیں، تاہم اس حوالے یہ بات ضروری ہے کہ دونوں کو بات سمجھ دیر سے آتی ہے، عمران کو تو بعض اوقات دیر سے بھی نہیں آتی!

مزید : کالم


loading...