میاں صاحب ۔۔۔آپ کو وقت ملنا چاہئے

میاں صاحب ۔۔۔آپ کو وقت ملنا چاہئے
 میاں صاحب ۔۔۔آپ کو وقت ملنا چاہئے
کیپشن: fayyaz ahmad waraich

  


آج کل نیوز چینل دیکھیں تو سیاسی محاذ پرعجیب و غریب خبریں سننے کو ملتی ہیں ۔بحث کے دوران سکرین پر جوسرخیاں اور ٹکر دیکھنے کو ملتے ہیں ان کے الفاظ کچھ یوں ہوتے ہیں۔۔۔میاں صاحب کی حکومت کے آخری دن شروع۔۔۔خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔۔۔ چند دنوں کی بات ۔۔۔خان صاحب کو آشیرباد ۔۔۔حکومت مشکل میں پھنس گئی۔میاں صاحب کے لئے 2014ء کاسال مشکل ۔۔۔غرضیکہ اس طرح کی بہت ساری مرچ مصالحے سے بھرپور سرخیاں ٹی وی سکرین پر دوڑتی نظر آتی ہیں ، پھر صبح کو عوامی سطح پر بحث مباحثہ شروع ہوجاتا ہے۔ سرکاری اداروں،نجی دفتروں حتیٰ کہ گلی کی نکڑپر بیٹھے افراد بھی اس حوالے سے اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے کئی ہفتوں سے ہمارے ملک میں ایک ایسا ہی ماحول بنا ہوا ہے۔ قیاس آرائیاں زور و شور سے جاری ہیں۔سرگوشیوں کو زبان مل رہی ہے اوریوں لگ رہا ہے جیسے میاں صاحب کے خلاف کچھ خاموشیاں حرکت میں ہیں۔

سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ2013ء کے انتخابات اس حوالے سے منفرد ہیں کہ یہ مکمل طور پر جمہوری اور آئینی انداز میں مکمل ہوئے ہیں۔ان انتخابات کے لئے آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم ہوا، چاروں صوبوں میں آئینی طریقے اور مشاورت کے ساتھ نگران حکومتیں بنیں۔انتخابی عمل میں سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا۔ان انتخابات کے نتائج کو تمام سیاسی قوتوں نے تسلیم کیا اور چاروں صوبوں میں مختلف سوچ رکھنے والی سیاسی پارٹیوں نے حکومت بنائی ۔کسی بھی صوبے میں ماضی کی طرح وفاق میں بڑی اکثریت والی پارٹی نے دخل اندازی نہیں کی ۔اقتدار اسی پارٹی کو دیا جس کو عوامی مینڈیٹ ملا۔اس طرح الیکشن کے بعد ملک بھر میں صوبائی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے صحیح معنوں میں جمہوری تصویر اُبھر کر سامنے آئی۔ وفاقی سطح پرمسلم لیگ ن نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں حکومت بناکر ملک کو درپیش چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کا بیڑا اٹھایا۔

اب جبکہ منتخب جمہوری حکومت کا صرف ایک ہی سال پورا ہوا ہے ، ہم نہیں سمجھتے کہ اس کے جانے کی باتیں ہونی چاہئیں، کیونکہ میاں صاحب کی جماعت اس وقت جن مسائل کے حل کے لئے کام کررہی ہے وہ انتہائی سنجیدہ ہیں۔دہشت گردی کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، پورا ملک اس کے سامنے مفلوج ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ موجودہ حکومت نے طالبان سے حقیقی انداز میں مذاکرات شروع کئے ہیں اورپہلی مرتبہ بات چیت کی میز پر متاثرہ فریقین مل کر بیٹھے ہیں۔مذاکرا ت کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے نقاد کچھ بھی کہیں میاں نواز شریف سمیت ان کی ٹیم کو کریڈٹ ضرور جائے گا، کیونکہ یہ ایک ایسی کاوش ہے جو دشوار ہے ،لیکن دیر پا امن اسی سے ممکن ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ توانائی کا بحران ہے ۔ میاں صاحب نے بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کئی میگاپراجیکٹ شروع کئے ہیں ا ور نندی پور جیسے بعض مردہ منصوبوں میں جان ڈال دی ہے۔ چین جیسے دوست ملکوں کو توانائی کے حصول کے لئے اپنے ساتھ شریک کیا ہے۔ تیسرا بڑا مسئلہ کرپشن کا خاتمہ ہے ۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر کرپشن کے خاتمے کے لئے پہلی بار عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بجلی اور گیس چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ٹیکس چوروں کے خلاف بلا امتیاز گھیرا تنگ ہوگیا ہے ۔پولیس سسٹم میں خامیوں کے باوجود لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ڈالر اور پٹرول کی قیمت میں کمی حکومت کی کامیاب معاشی اصلاحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لئے میاں شہباز شریف جس طرح متحرک ہیں، اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ملک میں انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے بڑے بڑے منصوبوں پر کام شروع ہے ،اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔بے روزگاری کے خاتمے کے لئے وزیراعظم پروگرام کے تحت مختلف منصوبے اور پراجیکٹس جاری ہیں۔ یہ سب وہ کاوشیں ہیں جن کو وقت درکار ہے۔ان میں کسی طرح کی رکاوٹ ملک کو بہت پیچھے لے جائے گی۔ہمارے ایک جاننے والے کہتے ہیں کہ میاں صاحب کی پہلی حکومت وقت سے پہلے ختم کی گئی تو عوام نے انہیں دوسری بار منتخب کرلیا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ان کی حکومت دوسری مرتبہ آئینی وقت مکمل کرنے سے پہلے آمر کے ہاتھوں ختم ہوئی تو پھر انہیں عوام نے اقتدار دے دیا۔ان کا مؤقف تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن)کی حکومت کو پاکستان پیپلز پارٹی کی طرح پانچ سال مکمل کرنے دیئے جائیں گے تو پھر وہ دوبارہ اقتدار میں نہیں آئیں گے ،لیکن ہماری سوچ اس سے بالکل مختلف ہے ،میاں صاحب کو اگر پانچ سال مکمل کرنے دیئے گئے اور جو منصوبے انہوں نے شروع کئے ہیں، وہ مکمل ہوگئے تو مسلم لیگ(ن) کو ہرانا امرِ محال ہوگا۔

مزید :

کالم -