جب شیخ مجیب الرحمن کو میانوالی جیل لایا گیا

جب شیخ مجیب الرحمن کو میانوالی جیل لایا گیا
جب شیخ مجیب الرحمن کو میانوالی جیل لایا گیا
کیپشن: dr mizaffar

  

1971ءکی جنگ کے دوران شیخ مجیب الرحمن کو میانوالی جیل میں شفٹ کردیا گیا، انہیں سپرنٹنڈنٹ جیل میانوالی چودھری نصیر احمد کے سپرد کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ان کی جان کی مکمل حفاظت کرنی ہے ،اگر مجیب الرحمن زندہ نہ رہے تو چودھری نصیر احمدکو بھی زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ اس دھمکی کے ساتھ شیخ مجیب الرحمن کو چودھری نصیر احمد کے حوالے کردیا گیا ۔چودھری نصیر احمد نے رات کے وقت خود جیل کے انٹری گیٹ پر انٹری رجسٹر پر فرضی نام سے اندراج کیا اور دربانوں کو کچھ وقت کے لئے گیٹ سے ہٹادیا گیا ،تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے کہ کون شخص ہے ،جس کو جیل میں لایا گیا ہے۔ چودھری نصیر احمد خود شیخ مجیب الرحمن کو رازدارانہ طورپر جیل کے سیل میں لے گئے ،باہر سے تالا لگایا اور چابی اپنے پاس رکھ لی۔ تینوں اوقات میں کھانا خود ان کے سیل میں لے کر جاتے، کسی اور کو ان کے سیل میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جیل کے عملے اور قیدیوں نے اندازہ لگایا کہ شاید بھارتی فوج کا ایک بڑا جرنیل قید میں ہے۔ چودھری نصیر احمد کچھ وقت نکال کر شیخ مجیب الرحمن کے پاس بھی بیٹھ جاتے۔ ایک بار جب جنگ کی وجہ سے بلیک آﺅٹ جاری تھا، شیخ مجیب الرحمن نے سیل کے باہر چودھری نصیر احمد کی موجودگی میں سگریٹ کے لئے لائٹر جلایا تو چودھری نصیر احمد نے انہیں روک دیا اور لائٹر بجھانے کو کہا ۔شیخ مجیب الرحمن کے استفسار پر چودھری نصیر احمد نے بتایا کہ بھارت سے ہماری جنگ شروع ہوچکی ہے ، اس کی وجہ سے اب بلیک آﺅٹ ہے۔

 شیخ مجیب الرحمن کو دنیا کی خبروں سے لاعلم رکھا گیا تھا، جب انہیں جنگ کا علم ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ افسوس یہ جنگ نہیں ہونی چاہئے تھی۔ کافی عرصے تک لوگوں کو شیخ مجیب الرحمن کی جیل میں موجودگی کا پتہ نہ چلا ،لیکن آخر کار جنگ کے خاتمے پر جب جنرل نیازی نے،جو میانوالی کے رہنے والے تھے ، ہتھیار ڈال دیئے اور گرفتار ہوگئے تو اس عرصے میں جیل کے عملے اور قیدیوں کو شیخ مجیب الرحمن کی جیل میں موجودگی کا علم ہوگیا۔ اس پر قیدی نمبرداروں نے ،جو جیل سٹاف کے ساتھ مل کر ڈیوٹی دیتے ہیں ،ایک خفیہ میٹنگ کی اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی کہ وہ آج رات شیخ مجیب الرحمن کو قتل کردیں گے۔ چودھری نصیر احمد کو میٹنگ اور قتل کے بارے میں خفیہ فیصلے کا علم ہوگیا تو وہ شیخ مجیب الرحمن کو جیل سے نکال کر گھر لے آئے ،گھر کے افراد کو بھی اس کا علم نہ ہونے دیا۔ ان کو گھر لانے کے بعد لاہور ہیڈ آفس ہوم سیکرٹری اور ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور مشورہ مانگا۔ اس وقت انتظامیہ تقریباً Paralizeہوچکی تھی، ان میں سے کوئی بھی مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ چودھری نصیر احمد نے اپنے گھر میں بھی ان کو محفوظ نہ سمجھا تو ان کو ایک ریسٹ ہاﺅس میں شفٹ کردیا۔ یہاں پر بھی ان کو تسلی نہ ہوئی۔

اب جیل کے قیدی نمبرداروں کی سنئے، انہوں نے شیخ مجیب الرحمن کے قتل کا فیصلہ جنرل نیازی کی گرفتاری کے غصے اور انتقام پر کیا تھا۔ اب آپ سوچیں ،اگر وہ لوگ اس سازش میں کامیاب ہوجاتے تو 90ہزار فوجی قیدیوں ،بشمول جنرل نیازی کا کیا بنتا اور ان کی بیوقوفی سے کتنا نقصان ہوتا۔ یہ ان احمقوں کے تصور میں بھی نہیں تھا۔بس یہی تھا کہ بدلہ لیا جائے اور شیخ مجیب الرحمن کو ختم کردیا جائے.... پنجابی میں ایک کہاوت ہے کہ شریک کی دیوار گرادو ،چاہے اپنی ہی ٹانگ دیوار کے گرنے سے اس کے نیچے آجائے....اب اندازہ لگائیں اس وقت چودھری نصیر احمد کی کیفیت کا کہ وہ ایک اتنے اہم قیدی کو بغیر ہتھکڑی اور سیکیورٹی تنہا لئے پھر رہے تھے۔ ایک بات ہے کہ اس وقت قیدی کو بھی پتہ تھا کہ چودھری نصیر احمد جو کچھ کررہے ہیں ،اس کی حفاظت اور بہتری کے لئے کررہے ہیں ،اس لئے چودھری نصیر احمد سے مکمل تعاون کررہا تھا۔ ریسٹ ہاﺅس جاکر بھی ان کو تسلی نہ ہوئی ، وہ شیخ مجیب الرحمن کو اپنے ایک خاص دوست کے گھر لے گئے۔ چودھری نصیر احمد نے میرے ساتھ اس دوست کا تعارف اس وقت کرایا تھا ،جب مَیں ان کے ساتھ بطور چیف میڈیکل آفیسر میانوالی جیل کی انسپکشن پر گیا تھا اور چودھری نصیر احمد کے اسی دوست نے ہم دونوں کی دعوت کی تھی ۔انہوں نے اس دعوت کے موقع پر مجھے یہ ساری کہانی بتائی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالنے کے بعد شیخ مجیب الرحمن کورہا کردیا تھا اور وہ لندن آگیا تھا۔ بی بی سی کو اپنے پہلے انٹرویو میں شیخ مجیب الرحمن نے کہا تھا کہ جیل میں مجھے پھانسی دینے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور سیل میں قبر بھی تیار کرلی گئی تھی۔ مَیں نے چودھری نصیر احمد سے قبر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے سیل میں خندق کھودی گئی تھی ،شیخ مجیب الرحمن نے خندق کو قبر تصور کرلیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے اپنے بی بی سی کے انٹرویو میں یہ بات بھی کہی تھی کہ پھانسی کے باوجود ایک رحم دل جیل آفیسر نے میری جان بچائی اور مجھے جیل سے نکال کر اپنے گھر لے گیا۔ اس عقل کے اندھے کو یہ خیال نہ آیا کہ جیل آفیسر کتنا بھی رحم دل کیوں نہ ہو ،وہ اپنی مرضی سے اتنے اہم قیدی کو تو ایک طرف ایک عام پھانسی کے قیدی کو نہیں بچا سکتا۔

آئیے اب چودھری نصیر احمد کا مختصر تعارف ہو جائے۔ وہ میرے باس ہونے کے باوجود میرے بہت اچھے دوست تھے، اب بھی ہیں۔ وہ ماشاءاللہ زندہ ہیں اور ان سے گاہے، گاہے، ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ وہ میرے بہت ہی زیادہ ہم شکل بھی ہیں۔ ان کی عادات بھی میرے ساتھ بہت ملتی ہیں۔ ایک بار جب مَیں چیف میڈیکل آفیسر تھا اور دفتر سے پیدل گھر جارہا تھا تو ایک نوجوان نے مجھے سلام کیا اور میرے ساتھ ہوگیا۔ اس نے سمجھا مَیں چودھری نصیر ہوں۔ اتفاقاً ان کے اور میرے بیٹوں کے نام بھی ایک جیسے ہیں۔ میرے بیٹوں کے نام خالد، زاہد، شاہد ہیں ،ان کے بیٹوں کے بھی نام خالد ، زاہد ، شاہد ہیں۔ وہ نوجوان خالد، زاہد کے نام سے میرے ساتھ بات کرنے لگا۔ مجھے دوران گفتگو اندازہ ہوا کہ اسے غلط فہمی ہوئی ہے ۔وہ چودھری نصیر احمد کے بیٹے خالد کا دوست تھا۔ مجھے جب شک ہوا تو مَیں نے اس سے کہا کہ آپ نے کس کے گھر جانا ہے تو کہنے لگا کہ آپ کے گھر، یعنی چودھری نصیر صاحب کے گھر....مَیں نے اس سے کہا کہ مَیں چودھری نصیر احمد نہیں ہوں ۔مَیں ان کا دوست ہوں، راستے میں چودھری نصیر احمد کا گھر آتا تھا۔ اس وقت چودھری نصیر احمد کا سرکاری گھر کریسنٹ ماڈل سکول کے سامنے تھا۔ چودھری نصیر احمد اگرچہ میرے باس تھے ، لیکن وہ مجھے بھائیوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ ایک بار انہوں نے میری اے سی آر میں لکھا کہ.... He is always ready to serve with a smile ....مجھے ہر وقت مسکراکر بات کرنے کی عادت تھی ،لیکن مجھے اپنی اس مسکراہٹ کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ یہ اندازہ مجھے اس وقت ہوا ،جب چودھری نصیر احمد نے میری اے سی آر میں اس کا ذکر کیا۔

ایک اور بات چودھری نصیر احمد کے متعلق.... وہ نہایت ایماندار اور درویش صفت آفیسر تھے۔ آئی جی جیل خانہ جات تھے، جو بہت اہم پوسٹ بھی ہے۔ اس محکمے میں تو سپرنٹنڈنٹ جیل کی امارت کا تصور نہیں کرسکتے۔ چودھری نصیر احمد ابھی ریٹائر نہیں ہوئے تھے تو ان کے پاس ذاتی گھر بنانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ ایک بار باتوں باتوں میں یہ کہہ کر روپڑے کہ ایماندار آدمی کی بھی کوئی زندگی نہیں، کاش وہ ایمانداری کی زندگی نہ گزارتے تو اتنا پریشان نہ ہوتے ،کیونکہ ان کے اکثر رشتہ دار ان سے ناراضگی کا اظہار کرتے کہ آپ نے ایماندارانہ زندگی گزار کر کیا پایا ہے اورکیا حاصل کیا؟ ان کی زبان سے یہ باتیں سن کر مجھے بہت دکھ ہوا اور سوچنے لگا کہ ہمارا معاشرہ کیسا ہے کہ جو شخص تمام عمر ایماندارانہ زندگی گزارتا ہے۔ وہ بڑھاپے میں اس قدر پریشان ۔ مَیں نے ان سے عرض کیا ،وہ مجھ سے عمر میں تقریباً 7/8سال بڑے ہیں اور مَیں ان کو اپنا بڑا بھائی تصور کرتا ہوں۔ مَیں نے ان سے عرض کیا کہ تمام عمر کی نیکی کا اجرا اب ایسے فقرے کہہ کر ضائع نہ کریں۔ ہمارے معاشرے کی گراوٹ کا حال یہ ہے کہ ایمانداری آدمی کی تعریف اور اس کی عزت افزائی کرنے کی بجائے ،اسے ایماندار ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک لمحہءفکریہ ہے۔

مزید :

کالم -