پنجاب کی ترقیاتی حکمتِ عملی

پنجاب کی ترقیاتی حکمتِ عملی
پنجاب کی ترقیاتی حکمتِ عملی

  

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے صوبہ پنجاب تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو چکا ہے۔مختلف غیر جانبدار اداروں نے صوبہ پنجاب کی کارکردگی کو دیگر تمام صوبوں سے بہترین قرار دیاہے ۔صوبہ پنجاب دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ محفوظ ، معاشی طور پر زیادہ متحرک ، انڈسٹری اور آئی ٹی میں ترقی یافتہ ہے جس کے نتائج شہریوں کی خوشحالی اور معیاری زندگی میں بہتری کی صورت میں برآمد ہوں گے ۔وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے مخالفین بھی ان کی خدمات اور اعلی کارکردگی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں ۔وزیراعلی محمد شہبازشریف نے گذشتہ روز پنجاب گروتھ سٹریٹجی 2018 کی افتتاحی تقریب میں خصوصی طورپر شرکت کی ۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،یونیسف ، ڈیفڈ اور دیگر ڈونر ایجنسیو ں کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی ۔چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیاتی عرفان الٰہی نے پنجاب کی ترقیاتی حکمت عملی 2018ء کے بارے میں شرکاء کو خصوصی بریفنگ دی ۔

پنجاب کی ترقیاتی حکمت عملی 2018ء ایک انقلابی اقدام ہے جس کے ذریعے سال 2018ء تک پنجاب میں شرح ترقی میں 8فیصد تک اضافے کا ہدف حاصل کیا جائے گا اور صوبے کی معیشت کا حجم بڑھایا جائے گا۔ 40لاکھ معیاری روز گار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔صوبے میں20لاکھ نوجوانوں کومارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مختلف فنون کی تربیت دی جائے گی۔پنجاب کی برآمدات میں ہر سال 15فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ 2018ء تک پنجاب میں نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کا ہدف 17.5ارب ڈالر مقرر کیا گیاہے۔طے کردہ ترقیاتی حکمت عملی پر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے گا ۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کا پنجاب (Punjab Growth Strategy ) ترقیاتی حکمت عملی2018ء کے بارے میں کہنا ہے کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی ٹیم نے ماہرین معیشت کی مشاورت سے بہترین ترقیاتی حکمت عملی مرتب کی ہے تاہم معاشرے کے عام آدمی کو تعلیم،صحت،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی منصوبہ بندی کئے بغیر ترقی کے اہداف کا حصول بے معنی ہے ۔انرجی سیکٹر، ایکسپورٹ بڑھانے اور مینوفیکچر نگ شعبے کے بارے میں پلاننگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہر بچے کو زیو ر تعلیم سے آراستہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرنا ہوگی۔ماہرین معیشت ایسی پالیسی مرتب کرنے میں تعاون فراہم کریں جس میں نوجوانوں پر مشتمل ملک کی 60فیصد آبادی، خواتین اور اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں رہنمائی موجود ہو اور انہیں حقیقی معنوں میں با اختیار بنایا جا سکے۔ پاکستان خوش قسمت ملک ہے، جس کی 60فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے نوجوانوں کے چیلنج کو مواقع میں بدلنے کے لئے پلاننگ کرنا ہوگی اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے موثر حکمت عملی اپناناہے۔نوجوانو ں کو با اختیار اور روز گار کے مواقع فراہم کئے بغیر ہماری تمام منصوبہ بندی بے سود ہوگی۔اس چیلنج کو مواقع میں بدلنے میں کامیاب ہوں گے تو پنجاب اور ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے او ریہی ہماری گروتھ سٹرٹیجی کا اہم جزہونا چاہئے۔ 

پنجاب حکومت نے اس حوالے سے موثر اقدامات کئے ہیں ،ڈیفڈ کے اشتراک سے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ہزاروں بچے او ر بچیوں کو ہنرمند بنایا جا چکاہے۔ تعلیم او رصحت کے شعبے میں بھی انقلابی نوعیت کی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے تعلیمی فنڈ کے ذریعے ایک لاکھ ایسے ذہین بچے اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں، جن کے والدین اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے وسائل نہیں رکھتے۔حکومت نے صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے صاف پانی پراجیکٹ شروع کیاہے، جس کے لئے صوبے بھر میں ماہرین کی نگرانی میں سروے کرایا گیا ہے، جس کی روشنی میں اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہاہے۔جمہوریت عوام کی خدمت اور عوام کو خدمات کی فراہمی کا نام ہے۔عام آدمی کو بلا امتیاز سماجی انصاف کی فراہمی ،تعلیم، صحت ، روز گاراور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بغیر جمہوریت کے تقاضے پورے نہیں کئے جا سکتے۔پنجاب کی حکومت خدمت خلق ا ورعوام کو معیاری سہولتوں کی فراہمی کے مشن کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بہت سے ممالک جو ترقی کے لحاظ سے ہم سے پیچھے تھے وہ آج کہیں آگے نکل چکے ہیں ۔جنوبی کوریا پاکستان کے 5سالہ ترقیاتی منصوبے کے بلیوپرنٹ پر عمل کر کے آج ترقی کی منازل طے کر چکا ہے ۔ہم سے بعد میں آزادہونے والا مُلک چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے۔چین نے مشکل گھڑی میں پاکستان کی ترقی کے لئے 46ارب ڈالر کا تاریخی اقتصادی پیکیج دیاہے، جس میں 30ارب ڈالر سے زائد توانائی سیکٹرکے لئے ہیں ۔چین نے محنت ،جدوجہد اور انتھک کاوشوں سے بے مثال ترقی کی ہے او راس کے زرمبادلہ کے ذخائر 4ٹریلین کے قریب ہیں۔ پاکستان زرعی ملک ہے او ردنیا کاچوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا مُلک ہے اس کے باوجود ہم زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔پاکستان مشرق وسطی کے لئے گرین باسکٹ کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔اس کی بنیادی وجہ ہماری منصوبہ بندی کی کمزوریاں ہیں۔پنجاب حکومت 2013ء کے انتخابات کے بعد سے ترقیاتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔بے وقت کے دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نے ترقی کا سفر روکا اور ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر پیدا کی تاہم پنجاب حکومت نے ترقیاتی حکمت عملی 2018ء مرتب کی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ ، قانون، ایکسائیز و ٹیکسیشن پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب 2018ء تک لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دے گی، جس کے لئے سولر، کول اور ایل این جی پاور پراجیکٹس شروع کئے جا رہے ہیں، جبکہ قائداعظم سولر پارک نے کام شروع کر دیا ہے اور آئندہ سال تک اس کی پیداوار 1000میگاواٹ ہوجائے گی۔ غربت کے خاتمے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے پنجاب حکومت ہرسال 10لاکھ افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کرے گی اور 2018ء تک 20لاکھ گریجوایٹس ووکیشنل ٹریننگ فراہم کرے گی۔ پنجاب کی ایکسپورٹ کو ہر سال 15فیصد تک بڑھایا جائے گا، جبکہ گروتھ ریٹ کو 8فیصد تک لے جایا جائے گا۔ میلینیم ڈویلپمنٹ اہداف کو 2018ء تک حاصل کر لیا جائے گا۔ تاہم سرمایہ کاری کی فضا سازگار بنانے کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے اور پنجاب حکومت نے اس میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بھی پنجاب میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بہتر ہے اور پرائیویٹ سیکٹر انویسٹمنٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب کی زیادہ ترآبادی دیہات میں رہتی ہے، لہٰذا زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبہ کو فوکس کرکے پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں تاکہ زراعت کے شعبہ میں زیادہ سے زیادہ ترقی ہو۔پنجاب حکومت کا مشن کوالٹی آف لائف کو بہتر بنانا ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ مقامی صنعت کی ضرورت کے مطابق نوجوانوں کو ووکیشنل ٹریننگ فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار مہیا ہوسکے۔ پنجاب حکومت 2کول پاورپراجیکٹس کے علاوہ 1200 میگاواٹ ایل این جی پاور پراجیکٹس بھی لگا رہی ہے، جبکہ چائنہ کی 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے 22بلین ڈالر انرجی پراجیکٹس کے لئے ہے۔

مزید :

کالم -