معیشت ، سیاست اور سازشیں

معیشت ، سیاست اور سازشیں
معیشت ، سیاست اور سازشیں

  

خدا خدا کرکے اور کم و بیش دس سال بعد ملک میں امن وامان کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اور قومی معیشت کا سفر مثبت سمت میں جاری ہے۔ ماہرین اور معاشی مشاہدہ کار ادارے پاکستان کے بارے میں اچھی خبریں دے رہے ہیں۔گزشتہ ہفتہ ’’دی اکانومسٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان معاشی استحکام کی طرف جا رہا ہے اور ملک کے اندر کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے حوصلہ افزاء ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ اس وقت پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار 4.4 فیصد ہے اوردی اکانومسٹ نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آئندہ برس یہ شرح 4.7 فی صد ہوگی جو کہ گزشتہ آٹھ سال میں سب سے زیادہ ہوگی۔موجودہ مالی سال کے دوران جولائی 2014ء سے مارچ 2015ء تک اشیاء کی قیمتوں میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ گزشتہ دس سال کے دوران سب سے کم شرح ہے۔ اسی سال کے دوران پاکستان کے مرکزی بنک نے دو دفعہ شرح منافع میں کمی کی ہے ۔ اس کے علاوہ افراطِ زر کی شرح میں کمی ہوئی ہے ، زرِ مبادلہ کے ذخائر دو سال کے دوران پانچ ارب ڈالر سے اٹھارہ ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں اور سٹاک ایکسچینج اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ دو روز قبل ورلڈ بنک نے بھی پاکستان کے حوالے سے ایسی ہی حوصلہ افزاء رپورٹ جاری کی ہے۔رپورٹ میں ان عناصر کا ذکر کیا ہے، جن کی بدولت بہتری آئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں ، حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کے معاشی اصطلاحی پروگرام پر عمل درآمد کی بدولت پاکستانی معیشت میں استحکام آیا ہے۔

گزشتہ سال کی سیاسی بے چینی اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجودمیکرو اکنامک انڈیکیٹر مثبت ہیں۔رپورٹ کے مطابق معیشت کا بیرونی ڈھانچہ نازک ہے، لیکن یہ تیزی سے بہتر ہو رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا بیرونی خسارہ مالی سال 2014- 2015 ء کے پہلے چھ ماہ میں جی ڈی پی کا 0.8 فیصد ہے جو کہ اعتدال پر سمجھا جاتا ہے اور امید ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام پر 1.2 فیصد تک رہے گا۔ عالمی بنک کہتا ہے کہ یہ نتائج بیرونِ ممالک پاکستانی محنت کشوں کی ترسیلات کے بھی مرہونِ منت ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی رپورٹوں کے یہ چیدہ چیدہ نکات ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے کر جارہی ہے۔اس وقت صرف معیشت ہی بہتر نہیں ہو رہی ہے، بلکہ پاکستان کی مجموعی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہتر حکمتِ عملی کی بدولت کامیابیاں ملی ہیں۔ عسکری اور سیاسی قیادت تمام ملکی مسائل کے لئے متحد نظر آ رہی ہے۔ اس اتحاد کی بدولت وہ ملکی مسائل بھی حل ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جنہیں ناسور سمجھا جانے لگا تھا۔ قیادت ملکی مسائل اور ان مسائل کی وجوہات کے خاتمہ کے لئے پُرعزم ہے۔ اس سب کے باوجود فی الحال پاکستان کو صرف امن و سلامتی اور معاشی استحکام کا راستہ ملا ہے اس راستے پر سفر جاری رہے گا تو ہی ایک مضبوط،پرامن، بہتر ، خوشحال اور خود مختار پاکستان کی منزل تک پہنچا جاسکتا ہے۔

روشن مستقبل کے لئے موجودہ عسکری و سیاسی قیادت اور سیاسی استحکام لازم و ملزوم ہیں۔ لیکن کچھ اندرونی اور بیرونی طاقتیں سیاسی ماحول کو ایک دفعہ پھرعدم استحکام کی طرف لے جانا چاہتی ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں ابھی تک بالغ نہیں ہو سکیں اور چور دروازوں سے راہِ اقتدار تلاش کرتی رہتی ہیں۔ اس کوشش میں وہ اکثر جانے انجانے میں ہمارے دشمن کے ایجنڈے پر عمل کرنے لگتی ہیں اور ملک کو مستحکم نہیں ہونے دیتیں۔ آج کل ملک کے اندر الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں اور جوڈیشل کمیشن کی سرگرمیوں نے ایک بار پھر سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ چوکوں، چھکوں اور وکٹیں گرانے کے مقابلے ہو رہے ہیں۔ ابھی ایک دھرنے کے زخم بھرے نہیں، شرمندگی ختم نہیں ہوئی کہ دوبارہ دھرنوں کے سلسلے شروع ہو چکے ہیں۔ صورتِ حال اور بیانات 2014 ء کی طرف لوٹتے نظر آ رہے ہیں، صرف کنٹینرز کی کمی ہے۔ الیکشن ٹربیونل کی طرف سےNA-125 سے خواجہ سعد رفیق صاحب کی نااہلی اور بعد میں سپریم کورٹ کی طرف سے اس فیصلہ کی معطلی نے سوشل میڈیا پر دونوں جماعتوں کے چاہنے والوں کے درمیان گالم گلوچ کا سلسلہ شروع کروا دیا ہے۔ دوسری طرف NA-122 کے بارے میں بھی حکمران پارٹی اور پی ٹی آئی متضاد دعوے کر رہی ہیں۔

نادرا سکین رپورٹ کے مطابق 93000 ووٹ تصدیق نہیں ہوسکے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اسمبلی میں بیان دیا تھا کہ60 سے 70فیصد ووٹ تصدیق نہیں ہو سکیں گے۔ یہ ووٹ کیوں تصدیق نہیں ہوسکتے؟ پی ٹی آئی اس منطق کو سمجھنے سے قاصر ہے اور وہ اس انتظامی بے ضابطگی کو دھاندلی کہتی ہے۔ میرے نزدیک نادراکی رپورٹ پر ابھی مزید کارروائی ہونی چاہئے اور میرا مشورہ یہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل ان 93ہزار ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروا کر دونوں پارٹیوں کے غیر تصدیق شدہ ووٹوں کے اعدادوشمار میڈیا کو فراہم کرے۔ ان 93ہزار ووٹوں میں سے اگر پی ٹی آئی کو اسی تناسب سے ووٹ پڑے ہیں، جس تناسب سے تصدیق شدہ ووٹ ہیں تو اس کا مطلب ہے کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔ اگر ان غیرتصدیق شدہ ووٹوں کا تناسب تصدیق شدہ ووٹوں سے بہت زیادہ مختلف ہے تو پھر گڑبڑ ہے۔ میری اپنی رائے میں ان غیر تصدیق شدہ ووٹوں کے پیچھے اصل وجہ یہ ہے کہ نادرا کے پاس 2004 ء یا اس قبل جاری ہونے والے شناختی کارڈز کا بائیومیٹرک ریکارڈ نہیں ہے، اس بات کی تصدیق گزشتہ ماہ موبائل سِموں کی بائیومیٹرک تصدیق کے دوران ہوچکی ہے اور وہ تمام لوگ جن کے شناختی کارڈز 2004 ء یا اس قبل کے بنے ہوئے تھے ان کی سموں کی بائیومیٹرک تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر آپ سیاہی سے کسی کاغذ پر انگوٹھا لگاتے ہیں تو سیاہی کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے ہربار ایک سے فنگر پرنٹ نہیں آتے۔

میرا دعویٰ ہے کہ عمران خان صاحب کسی کاغذ پر اپنے انگوٹھوں کے دس نشانات لگا کر نادرا کے پاس چلے جائیں اور ان کی تصدیق کروا لیں، آدھے سے زیادہ تصدیق نہیں ہو ں گے۔ الیکشن ٹربیونل کے علاوہ جوڈیشل کمیشن بھی روزانہ کی بنیاد پر انکوائری کر رہا ہے اور سیاسی پارٹیوں سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کیا رنگ لائے گی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے، لیکن میڈیا میں چند سازشی عناصر نے ایک بار پھر ایک مذموم پراپیگنڈہ شروع کر دیا ہے جس طرح دھرنوں کے دوران ہر روز امپائر کی انگلی کھڑی کروائی جاتی تھی اسی طرح اب کہا جارہا ہے کہ حکومت کو دسمبر 2015 ء سے پہلے لپیٹ دیا جائے گا۔ جوڈیشل کمیشن پی ٹی آئی کے حق میں ہی فیصلہ دے گا۔ میری سمجھ سے بالا ہے کہ ایک عرصہ بعد پاکستان میں امن قائم ہوا ہے اورمعیشت بہتر ہوئی پھر یہ لوگ کیوں ملک کو دوبارہ استحکام کی پٹری سے اتارنا چاہتے ہیں؟ پاکستان کے دشمنوں کا بھی یہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو کبھی سیاسی استحکام نصیب نہ ہو اور آپ بھی یہی چاہ رہے ہیں؟ اگر آپ ایک دفعہ پھر امپائر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تو آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ عسکری قیادت دہشت گردوں اور بیرونی خفیہ طاقتوں سے لڑ کر، جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کے اندر جو استحکام لا رہی ہے وہ پھر سے سیاسی عدم استحکام کیوں چاہے گی؟

ہمارے سیاست دانوں کی ناپختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آرہی ہے، لیکن سیاسی پارٹیوں کی طرف سے عجیب عجیب اور بے تکے اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں۔ ایک حالیہ باوثوق خبر کے مطابق بھارت نے پاک چائنا اکنامک کوریڈور کو ناکام بنانے کے لئے راء کا ایک خفیہ شعبہ قائم کر دیا ہے اور اس کو تیس کروڑ ڈالر کے فنڈز بھی فراہم کر دیے ہیں۔ ’’را‘‘ کا یہ شعبہ براہِ راست مودی کی نگرانی میں کام کرے گا۔ مکتی باہنی کے ذریعے پاکستان سے بنگلہ دیش کو علیحدہ کرنے کے بعد بھارت کا پاکستان کے خلاف یہ سب سے بڑا خفیہ آپریشن ہوگا۔ بھارت نے اسی طرح کالاباغ ڈیم کو بھی ناکام بنانے کے لئے خفیہ آپریشن کیا تھا اور اس خفیہ آپریشن کے ذریعے پاکستان میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے لئے سیاست دانوں تک کئی ملین ڈالرز پہنچائے تھے۔ مودی سرکار کواس دفعہ شاید اتنی محنت نہ کرنی پڑے، کیونکہ ہمارے مفاد پرست سیاست دان اس منصوبے کوکالا باغ ڈیم بنانے کے لئے کافی ہیں۔ میں سوچتا ہوں اور غور کرتا ہوں کہ جب بھی ملک استحکام کی طرف گامزن ہوتا ہے توہماری حزبِ اختلاف اور بھارت کے مقاصد ایک کیوں ہو جاتے ہیں؟ ہمارے دشمنوں کی بھی یہی پالیسی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں عدم استحکام قائم رکھا جائے اور ہمارے سیاست دان بھی یہی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف صاحب نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے، جو وہ پاکستان کے اندر بھارتی اور دیگر ایجنسیوں کی مداخلت کو روکنے جارہے ہیں ۔ مَیں چاہتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتوں کی بھی سکریننگ ہو اور جو سیاست دان بیرونی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ان کی نشاندہی کرکے انہیں بھی کٹہرے میں لایا جائے۔

مزید :

کالم -