امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (1)

امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (1)
امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (1)

  



پاکستان میں امن و امان کی دگرگوں صورتِ حال اور اس میں روز بروز تنزلی نے قوم کے اعصاب شل کر دیئے ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ہر فرد کو اس قدر غیر محفوظ بنا دیا ہے کہ خوف اور مایوسی کے مہیب سائے ہر طرف پھیلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ خوف معاشرے کے ہر شعبۂ زندگی میں سرایت کر چکا ہے،کیونکہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران انتہا پسندی کے واقعات میں اب تک پچاس ہزار سے زائد نفوس اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ اس عرصے میں دہشت گردی کے اتنے بڑے بڑے واقعات وقوع پذیر ہو چکے ہیں کہ ان پر قوم اب تک خون کے آنسو بہا رہی ہے۔ امن و امان قائم کرنے کے لئے موجود ادارے ان میں سے ہر واقعہ کے بعد کمزور سے کمزور تر ہوتے نظر آتے ہیں۔انتہا پسندی نے ملک میں اپنی جڑیں اس قدر گہری اور مضبوط کر لی ہیں کہ اب قوم کی طرف سے سامنے آنے والی داستانیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ملک کا امن و امان بد نظمی کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا نظر آ رہا ہے۔ ہمیں ان اسباب کا کھوج لگانے کی کوشش کرنی چاہئے جو اس بد انتظامی اور بگاڑ کا باعث ہیں۔ ملک میں امن و امان کی عمومی صورت حال تو بگڑتی ہی جا رہی ہے، لیکن پاکستان کے صنعتی ہب اور عروس البلاد کراچی میں پچھلے کئی سال سے صورت حال جس نہج پر جا رہی ہے وہ انتہائی قابل تشویش ہے۔

اگرچہ گزشتہ سب حکومتوں نے اپنے تئیں بظاہر ایسے اقدامات اُٹھائے،جن سے شہریوں کو ان کا امن واپس کرنے میں مدد ملے، لیکن اس سب کے باوجودکامیابی کا حصول ہنوز ایک سراب دکھائی دیتا ہے۔ ان کاوشوں میں کامیابی کے لئے پولیس کے علاوہ رینجرز اور فوج کا استعمال بھی مفید ثابت نہیں ہوا، بلکہ پچھلے دو سال میں رینجرز کے بھرپور استعمال کے باوجود وہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے جو شہریوں کے لئے سکون اور طمانیت کا باعث ہوں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سب سے اہم رول مقامی پولیس کا ہوتا ہے، لیکن ماضی قریب کے تجربات سے ظاہر ہے کہ اس اہم ترین ادارے کی گرفت معاملات پر اس قدر ڈھیلی پڑھ چکی ہے کہ حالات اب مایوسی کی حدود کو چھو رہے ہیں۔ ملک بھر میں عمومی طور پر اور کراچی میں خصوصاً ان اداروں کی کارکردگی کے علاوہ بھی کئی عوامل کا عمل دخل ہے، لیکن مندرجہ ذیل سطور میں اپنی توجہ پولیس کی کارکردگی اور ان سے منسلک عوامل پر مبذول رکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ ان پہلوؤں پر بات کریں جن کی وجہ سے پولیس کا موجودہ نظام کریش ہونے کے بالکل نزدیک پہنچ چکا ہے۔ معاملات اس قدر بگاڑ کا شکار ہیں کہ ایک نشست میں ان کا احاطہ کرنا اور حالات کی درستگی کے لئے تجاویز مرتب کرنا نا ممکن ہے، اس لئے ہماری کوشش ہو گی کہ اس سلسلے میں گہرائی میں جا کر معاملے کے سب پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی جائے۔ ہماری یہ کاوش فی الحال پولیس کے کردار اور اس سے جڑے ہوئے معاملات تک محیط ہو گی۔

اس اہم ترین ادارے میں بھرتی کے قواعد و ضوابط تو موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد ناپید ہے۔ اگرچہ جسمانی اور دماغی معیار کے اعتبار سے محکمے میں قواعد موجود ہیں، لیکن بھرتی کے موجودہ ماحول میں ان پر عمل درآمد دکھائی نہیں دیتا۔ پرچی سسٹم کی بنیاد پر رنگروٹ بھرتی ہوتے ہیں، جو قواعد سے استثنا حاصل کر لیتے ہیں،یوں غیر معیاری افراد اس اہم ادارے میں ملازمت حاصل کر لیتے ہیں۔ بھرتی کرنے والے مجاز افسران قانون اور قاعدے سے ہٹ کر سیاسی مداخلت کے تحت ان لوگوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی اس سیاسی مداخلت نے کرپشن کے دروازے کھولے اور اب یہ نظام مکمل طور پر پراگندہ اور اندر سے بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے۔ رنگروٹوں کو پولیس میں داخلے کے بعد جس ٹریننگ سے گزارہ جاتا ہے، اس کا معیار اس قدر پست ہے کہ اس سے گزر کر آنے والے سروس کے ممبران کی قابلیت کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ جن اداروں میں ٹریننگ کا اہتمام ہوتا ہے، ان کے سربراہان کا انتخاب بھی نظام کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ یہ لوگ جو ٹریننگ کے ان اداروں کی سربراہی کے لئے منتخب ہوتے ہیں، ان کو خود بھی ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اُن کی تعیناتی بھی کسی اصول کے تحت نہیں ہوتی۔

ٹریننگ کے ان اداروں کے یہ افسران محکمے کے رنگروٹ اہلکاروں کو کتنا مشاق بنا سکتے ہیں، اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ یہ افسران جن کے اندر نہ تو لیڈ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی جذبہ، وہ پولیس فورس کو کس قدر فعال کر سکتے ہیں،یہ بھی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان اداروں میں نہ تو ٹریننگ کے جدید طریقے اپنائے جاتے ہیں اور نہ ہی قانون کی تعلیم مہیا کرنے کے انتظامات ہوتے ہیں۔ مزید برآں ٹریننگ کا عرصہ نہایت ہی قلیل ہوتا ہے۔ ٹریننگ کا زیادہ زور صرف جسمانی ورزش پر ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ رنگروٹ اکثر ٹریننگ کا عرصہ پورا کرنے سے پیشتر ہی سیاسی سفارش سے فیلڈ میں اپنی ڈیوٹی لگوا لیتے ہیں۔ ان حالات میں یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ اس قسم کی ادھوری اور غیر معیاری ٹریننگ حاصل کرنے والے پولیس سروس کے ممبران عملی زندگی میں کیا خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں فورس کا ایک معتدبہ حصہ سیاسی انعام و اکرام کے نتیجے میں بھرتی شدہ ہوتا ہے، جو اپنی عملی سروس کے زمانے میں سیاسی وابستگیوں کی بنا پر ہی اپنے فرائض منصبی ادا کرتاہے۔(جاری ہے)

ان لوگوں سے امن و امان کی بحالی اور عوام کے مسائل کا ادراک رکھنے کی امید کرنا عبث نہیں تو اور کیا ہے۔یہی لوگ جو سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہوتے ہیں،اپنے سیاسی آقاؤں کے احکامات کو سرکار کے آرڈرز سے زیادہ معتبر سمجھتے ہیں، اسی لئے ان کے نزدیک نظم و نسق کی بہتری ان کے فرائض میں کہیں جگہ نہیں پاتی، بلکہ سیاسی وابستگی کو ہی اپنی ترقی کا زینہ بناتے اور اپنا کیرئر اسی طرح گزار جاتے ہیں، اس لئے امن و امان کے لئے ان کی خدمات کہیں نظر نہیں آتیں۔ ایسی بھرتی شدہ اور ٹریننگ یافتہ پولیس فورس کی نمائندگی کے لئے جن افسران کا انتخاب کیا جاتاہے، وہ بھی اگر ایسے لوگ ہوں جو فیڈرل کیڈر سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کا احتساب کوئی صوبائی حکومت نہ کر سکتی ہو تو پھر ان سے اچھے اعمال کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہی افسران جن کو اوائل سروس میں اپنے صوبے میں تعیناتی نہیں دی جاتی، وہ بھی سفارش کے ذریعے اس قاعدے سے استثنا حاصل کر کے اپنے رہائش کے صوبے میں تعیناتی حاصل کر لیتے ہیں،پھر صوبائی انتظامیہ کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ بھی نہیں سمجھتے۔ کیا ایسی پولیس کے حکام عوام کی بہتری کی سوچ اپنے اندر سمو سکتے ہیں؟۔۔۔ ہرگز نہیں۔

ایسے پولیس حکام جو صوبائی حکومت کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ نہ سمجھتے ہوں، اُن پر صوبائی انتظامیہ کی گرفت کتنی مضبوط ہو سکتی ہے؟۔۔۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ صوبے کی اپنی پولیس فورس کی تشکیل کی جائے۔ ہر صوبے کو اپنی پولیس فورس کے قیام کے لئے قانون اور آئین میں ضروری ترمیم کرنی چاہئے تاکہ پوری پولیس اور اس کے حکام کو احساس رہے کہ وہ صوبے کی حکومت کے سامنے جوابدہ ہے ۔۔۔ اگر سفارش سے مبرا صوبائی سروس کا قیام عمل میں لایا جائے تو معاملات کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کیونکہ امن وامان کا قیام صوبائی معاملہ ہے، اس لئے فیڈرل کیڈر سے صوبے میں تعینات ہونے والے افسران کی تعداد بہت محدود ہونی چاہئے اور زیادہ ڈیوٹی صوبے کے حکام کو ہی ادا کرنی چاہئے۔ فیڈرل کیڈر کے حکام اپنی نوکری کے لئے سیاسی امداد کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں،یوں یہ حکام احتساب کے شکنجے سے بچ جاتے ہیں، کیونکہ صوبائی حکومت اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس کے علاوہ جو جونیئر افسران ہوتے ہیں، وہ بھی سیاست کے بل بوتے پر ہی اپنا مقام بناتے ہیں۔ اگر کسی وقت ان پر کڑا وقت آتا ہے، تو وہ بھی وقتی طور پر، کیونکہ سزا و جزاکا تصور ان کے بارے میں بالکل عنقاً ہو چکا ہے، اِسی لئے پولیس فورس تباہی کے کنارے تک پہنچ چکی ہے۔ ان حالات میں ہماری یہ تجویز ہے کہ صوبائی پولیس کیڈر کو بڑھایا جائے اور اس میں بھرتی کا نظام باقاعدہ بنایا جائے تاکہ انتظامی معاملات صوبائی حکومت کے براہ راست دائرہ اختیار میں آ جائیں۔ بھرتی کے لئے ہر صوبے کے پبلک سروس کمیشن کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جائے۔

ٹریننگ فراہم کرنے والے اداروں کی اصلاح اور بعد از ٹریننگ فیلڈ میں نوکری کے لئے چُنے جانے والے افراد کا چناؤ صرف پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہونا چاہئے۔ اس مرحلے کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ کام کرنے کے ماحول میں تبدیلی پیدا ہونی چاہئے۔ پولیس کی تنظیم نو بھی اتنی ہی ضروری ہے، جتنی اس کی استعداد کار میں بہتری پیدا کرنا، کیونکہ استعداد کار کا براہ راست تعلق حالات کار سے ہوتا ہے۔ تھانوں کی حالت زار پر غور کرنے کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مقامات پولیس کی استعداد کار میں معاون ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں پولیس تھانے عقوبت خانوں کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں امن، سکون اور تحفظ کی بجائے خوف کی فضا پائی جاتی ہے، ہر شخص اُن میں داخل ہوتے ہوئے گھبراتا ہے۔ ان اداروں کے اندرونی حالات اتنے دگر گوں ہیں کہ لوگ اپنی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے اُن کا رُخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ تھانے کے منتظمین کا رویہ دیکھ کر شکایت کنندگان کی ہمت جواب دے جاتی ہے، جہاں لوگوں کا واسطہ ناخواندہ قسم کے اہلکاروں سے پڑتا ہے، جو لوگوں کی اشک شوئی کی بجائے اُن کے خوف میں اضافہ کرتے ہیں۔ اپنی شکایات کے اندراج کے لئے عوام کو جو بے شمار پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وہ ایک ایسی داستان، جس کو سننے کا یارا ہم میں نہیں۔ یہاں پر اپنی شکایات کے اندراج کے لئے سفارش کے ساتھ پیسے کی چمک کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد جب شکایت درج کر لی جاتی ہے تو تحقیقات کا حصول اس سے بھی زیادہ مشکل ہے، جن خطوط پر تحقیقات ہوتی ہیں، اس پر بحث کے لئے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہو گی۔ قصہ مختصر عوامی بھلائی کے ان اداروں سے معاشرے کی توقعات بالکل پوری نہیں ہو پاتیں۔ (جاری ہے)

مزید : کالم