پاکستان واپس جانے کے ارمان اور درپیش خطرات

پاکستان واپس جانے کے ارمان اور درپیش خطرات
پاکستان واپس جانے کے ارمان اور درپیش خطرات

  

چار سال قبل لاہور ایسے شہر میں کہ جس کی بابت مشہور ہے کہ وہ کبھی سوتا نہیں، ہم بر سر نہر اور بیچ سڑک لُٹنے کے بعد جب واپس لندن پہنچے، تو کافی دل گرفتہ تھے۔ پاکستان سے دمِ واپسی مسافر اپنے بیگوں کے علاوہ کئی سارے غم بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ والدین، بہن بھائیوں، رشتے داروں سے بچھوڑے کے ساتھ ساتھ اپنی گلیوں، چار دیواریوں اور ہم جولیوں کی جدائی ہی کیا کم ہوتی ہے کہ پردیس میں دیس کی یاد بھی چین نہیں لینے دیتی۔ سالانہ تعطیلات کی آڑ میں اپنے ملک جانے والا مسافر واپسی پر جب کندھوں اور ہاتھوں میں سامان کا اور ذہن میں بہت ساری جدائیوں کا بوجھ اٹھائے بوجھل قدموں سے اپنی لاش مکان کی سمت گھسیٹتا چلا جاتا ہے، تو یہ کیفیت وہی جانتا ہے جس پر بیت جاتی ہے۔

اب کی بار بھی پاکستان نے والہانہ محبت عطا کی۔ میں اس عنایت پر اللہ کا بے حد شکر ادا کرتا ہوں۔ چار ہفتوں کا یہ مختصر سا قیام انتہائی بھرپور، فرحت آفرین اور سکون بخش تھا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت سارے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سارے عرصے میں کوئی ایک دن بھی ایسا نصیب نہیں ہوا کہ جس میں ٹی وی تو دُور رہا کوئی اخبار ہی دیکھ سکوں لہٰذا الحمدُ للہ ہر طرف سکون ہی سکون دیکھنے کو ملا۔ اب تو میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حتی الامکان بریکنگ نیوز کی دُنیا سے بچا جائے تو انسانی صحت پر اس کے کافی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ یقین کیجیے کہ مہینے بھر میں مجھے ملنے والے سبھی بے حد مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ افراتفری اور بے سکونی کی ساری آگ میڈیا کی لگائی ہوئی ہے، مگر اس میں مبالغہ آرائی کی آمیزش بہرحال ہے۔ دُنیا کا کوئی ایسا معاشرہ نہیں کہ جو سماجی آلودگیوں سے پاک ہو ،مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ پہلے خبر دینے کے خبط میں جھوٹی خبریں چل جائیں اور پھر چلتی ہی جائیں۔

لاہور سے اسلام آباد کو جاتے ہوئے مخدوم انٹر چینج سے اتر کر اگر آپ سرگودھا کی سڑک لے لیں، تو شاہینوں کے شہر سے کوئی لگ بھگ دس کلو میٹر پہلے چک 87 جنوبی آتا ہے۔ یہ چک دیکھنے کی میری شدید خواہش تھی اور اس کے لئے میں نے لندن سے ہی پروگرام ترتیب دے رکھا تھا۔ مولانا الیاس صاحب کی کمال عنایت کہ انہوں نے مجھے اپنے دینی تعلیمی ادارے میں آنے کی دعوت دی جو میرے لئے کسی اعزاز سے قطعی کم نہ تھی۔ میرے پاس وقت انتہائی کم تھا۔ واپسی کے دن بالکل قریب آن لگے تھے کہ مولانا صاحب نے یاد کر لیا۔ ایک ہی دن بچتا تھا اور پھر اُنہوں نے ابلاغِ دین کے لئے بیرونِ ملک تشریف لے جانا تھا۔ شام پانچ بجے میں لاہور سے نکلا اور عشاء کی نماز مولانا الیاس گھمن کی امامت میں پڑھنے کی سعادت پائی۔ مولانا کو مہمان کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ مولانا نے دفتر میں بلایا۔ اسے آپ حجرہ بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وہاں نشستوں کی بجائے زمین پر ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھا جاتا تھا۔ تھوڑی گفتگو کے بعد انہوں نے ساتھ والے کمرے میں پر تکلف کھانے کا اہتمام کیا۔ وقت کو قید کرنے کا جو سلیقہ مجھے وہاں دیکھنے کو ملا، آج تک کہیں ایسا قرینہ نہیں دیکھ سکا۔ ایک ایک پل کا ایسا حساب کہ جیسا نو دولتیے پیسے کا رکھتے ہیں۔ مولانا کے معاون خصوصی ایم فِل کے طالب علم ہیں اور کمال نوجوان ہیں۔ میں رانا صاحب کا نام بھول گیا ، مگر اُن کی شخصیت کبھی بھول نہیں سکوں گا۔ ان کی معیت میں مولانا کے فرزندِ ارجمند نے بھی ہمارا خوب ساتھ نبھایا۔ لائبریری، میڈیا سنٹر، مہمان خانے، کمرہ ہائے جماعت اور رہائشی بلاک کے علاوہ کانفرنس ہال اور اس کے علاوہ سڑک کی دوسری جانب لڑکیوں کے لئے بھی ایسا ہی بڑا ادارہ قائم تھا کہ جہاں روزانہ سینکڑوں طلباء و طالبات کے قیام و طعام کا مفت انتظام تھا۔

یہ صرف انتظام ہی نہیں، عمدہ انتظام تھا اور اس کے لئے اللہ وسائل بھی پیدا کرتا جا رہا تھا۔ اس مقصد کے لئے مولانا نے اپنی ایکڑوں زرعی زمین وقف کر رکھی تھی۔ یہ ایجوکیشنل کمپلیکس دیکھنے کے بعد میں ورطۂ حیرت میں چلا گیا کہ ہم مادی دُنیا کے باسی ایک مہمان کو ایک وقت سے زیادہ کھانا نہیں کھلا سکتے ، مگر یہاں تو آپ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو محض اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کھلائے چلے جا رہے تھے اور یہ سلسلہ سالہا سال سے چل رہا تھا اور نہ جانے کب تک چلتا رہے۔ میری مولانا سے کوئی قرابت یا رشتے داری نہیں۔ میں اپنی زندگی میں پہلی بار انہیں ملا تھا اور اپنی توقع سے کہیں بڑھ کر انہیں پایا۔ مولانا آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے مایوس نہیں کیا ورنہ کئی افراد کو ملنے کے بعد بے حد افسوس ہوتا ہے۔ آپ نے اپنی کتب کا جو سیٹ مجھے تحفہ دیا وہ مجھے بہت عزیز ہے اور اس کے بدلے اپنی جو کتاب میں نے آپ کو دی، وہ محض رسمِ دنیا کی خاطر تھی۔ قدرت کوئی ایسا ذریعہ پیدا کر دے کہ آپ سے کوئی مستقل تعلق پیدا ہو سکے۔ بچپن میں بھرے مجمعے کے سامنے بولنے کا مجھے بھی شوق تھا اور اسی شوق نے آپ سے متأثر کیا۔ آپ کا جوشِ خطابت روان پانی کی طرح ہے اسے جمود نہیں آنا چاہے اور آپ کا انداز بلاشبہ آپ کے وسیع مطالعہ کی دلیل ہے اس سچ کو بھی اگر آنچ آ گئی تو میرے جیسے ہزاروں مشتاقین کا دل ٹوٹ جائے گا۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے میرا تعلق بہت دیرینہ ہے۔ وہ میرے استاد ہیں اور اپنے معلم سے مجھے عقیدت بھی بہت ہے۔ پچھلے سال برطانیہ آمد پر اُنہوں نے ایک آدھ دن مجھے بھی میزبانی کا شرف بخشا جس پر میں اُن کا ممنونِ احسان ہوں۔ اُنہوں نے ایک دن اپنے تعلیمی ادارے میں مجھے بلایا۔ یہ نشست جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور صحافی برادری کے باہمی تعارف کی غرض سے رکھی گئی تھی۔ اس میں جماعت کی تقریباً ساری مرکزی قیادت موجود تھی اور صحافیوں میں سے جن کے نام اب تک یاد رہ سکے ہیں ان میں سے جناب مجیب الرحمان شامی کے علاوہ الطاف حسن قریشی، اوریا مقبول جان، سجاد میر، رؤف طاہر، حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر اجمل نیازی ہیں۔ یہ تعارفی تقریب بھی انتہائی اہم اور پُر وقار اور پُر مغز تھی۔ اس کے بعد ایک رات پراچہ صاحب نے مجھے اپنے گھر کھانے پر بھی بلایا۔ آپ نے مجھے کھانا بھی کھلایا، تحائف بھی دیے اور سماجی روایت کے مطابق کیش بھی دیا۔ میرے لئے اُن کی یہ محبت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ میں آج جو بھی ہوں اور جیسا بھی ہوں، پراچہ صاحب کو منفی کر کے کبھی کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اُن کے پہلے ہی بے شمار احسان تھے اور اب بھی مجھے اُنہوں نے مزید قرض دار کر دیا۔

میری موجودگی میں مختلف ٹی وی چینلز کی طرف سے انہوں نے کم و بیش درجن بھر کالیں سنیں اور اپنی جماعت کی کھل کر ترجمانی کی۔ رات گہری ہو چلی تھی اور میں نے دبے دبے الفاظ میں اجازت چاہی، تو انہوں نے آرام سے بیٹھنے کا حکم دیا۔ تھوڑی دیر میں ایک نجی ٹیلی ویژن والے کیمرے لئے انٹرویو کے لئے آ گئے، تو مجھے آنا پڑا۔ سیاسی نظریات کو اگر ہم ایک لمحے کے لئے بھول جائیں، تو اپنی قومی سیاست میں ہمیں ایسے لوگ بہت کم نظر پڑتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ، پاکباز بھی ہوں اور پاک دامن بھی۔ بولنے کا ہنر بھی جانتے ہوں اور دلیل سے بات منوانے کا گُر بھی۔ میں نے تو اُن کے شخصیت کے جتنے بھی پرت پلٹے ہیں، ان سے میری عقیدت بڑھی ہے، کم چنداں نہیں ہوئی۔ ایسے نابغوں کا وجود ارضِ پاک کے لئے ایک انمول تحفے سے کسی طور کم نہیں۔ بنیادی طور پر ہم مردہ پرست قوم ہیں اور ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم عظیم لوگوں کی عظمت کے قائل اُن کی وفات پر ہی ہوتے ہیں۔ جیتی جاگتی زندگی میں تو ہم نے نفرت و عصبیت کی ایسی عینک چڑھا رکھی ہوتی ہے کہ جس میں سے کسی کے اندر کا اچھا انسان نظر آ ہی نہیں سکتا۔ ہمیں اپنا یہ رویہ بدلنے کی بھی اشد اور فوری ضرورت ہے۔

ان دو اہم ملاقاتوں کے علاوہ رائل پام میں بھی باقاعدگی سے جانے کا اتفاق ہوا۔ نہر کنارے واقع اس مشہور کلب کا نام ذہن میں کئی مشکوک قسم کے وسوسے ڈال دیتا ہے ، مگر یہاں دیرینہ دوست جواد گل کا اصرار اور محبت کھینچ لاتی رہی، ورنہ مجھے ایسے ماحول میں کبھی کشش محسوس نہیں ہوئی، بہرحال اخلاقاً گِل صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔ اس کے علاوہ صحافی دنیا کے ایک گمنام مشقتی جناب کفیل احمد سے ان کے دفتر میں دو ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ ایک مؤقر روزنامے کے چیف نیوز ایڈیٹر ہیں، لیکن جس سادگی اور ایمان داری کی زندگی گزار رہے ہیں اس سے اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ گویا کہ میں ان کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکا ، لیکن کم وقت بھی ایسا معیاری تھا کہ دہائیوں پر محیط لگتا ہے۔ کفیل صاحب کے لئے میری دلی دعا ہے کہ اللہ اُن کو ترقیاں دے اور وہ راستہ بھی دکھا دے کہ جس سے گزر کرکوئی مزدور معراج پا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آگے بڑھنے کے لئے صرف قابلیت ہی کافی نہیں ہوتی۔ صلاحیت کے علاوہ کچھ دیگر خواص کا ہونا بھی ضروری ہے تب جا کر آسودگیاں ملتی ہیں۔ جب تک یہ سارا ماحول نہیں بدلتا ہمیں خود کو اسی ماحول کے مطابق ڈھالنا پڑے گا تب جا کے خواہشات کی دال گلے گی۔ کفیل صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے عبید اللہ عابد صاحب سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ ان کی نوازش کہ انہوں نے بھی مجھے اپنے دفتر بلایا اور تواضع کے ساتھ ساتھ انتہائی پُر مغز گفتگو بھی کی۔ وہ ایک قومی اردو روزنامے کے سنڈے میگزین سے وابستہ ہیں اور مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ حالاتِ حاضرہ سے کس قدر آگاہ ہیں۔

کچھ عرصہ قبل اُن کا دو سال کا معصوم بیٹا ایک حادثے میں انتقال کر گیا تھا اور وہ اس صدمے سے ابھی تک مکمل طور پر سنبھل نہیں سکے۔ میں ان کے لئے بھی دعا گو ہوں۔ رائے صابر حسین صاحب کا شمار میرے اچھے دوستوں میں ہوتا ہے۔ وہ کچھ عرصے سے بیمار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسری زندگی عطا کی ہے اور اب وہ صحافی میدان میں عملی طور پر واپس آ گئے ہیں۔ رائے صاحب ایک نجی ٹی وی میں کام کرتے ہیں۔ مجھے اس بات کا افسوس رہے گا کہ ان کے حکم کے باوجود ان کے دفتر نہیں جا سکا، لیکن ان سے دو ملاقاتیں ہوئیں جو بہت معلومات افزا رہیں۔ میں ان کی صحتِ کاملہ کے لئے بھی خلوصِ دل سے دعا کرتا ہوں۔ ان کے علاوہ اسلام آباد، راولپنڈی، مری، نارووال اور کامونکی کا بھی ایک سے زیادہ مرتبہ چکر لگا۔ بہت سارے دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ سعید الرحمان صاحب اور جناب توقیر عباس اولکھ کا شکریہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے بھی میزبانی کا حق ادا کر دیا۔ سمند پار رہنے والوں کے دلوں میں ہر آن پاکستان بستا ہے ،مگر وہ آئے روز پیش آنے والی وارداتوں اور مبالغہ آمیز خبروں سے گھبرا کر وہیں کے وہیں بیٹھے اور کڑھتے رہتے ہیں۔ بیرونِ ملک رہنے والے ہر پاکستانی کا دلی ارمان یہ ہے کہ اس کا اپنا وطن ایسا ہو کہ کسی کو در بدر کی خاک نہ چھاننی پڑے، لیکن ہمارے اربابِ بست و کشاد اناڑی قصاب کی طرح پردیسیوں کے ارمانوں کا بھی خون کرتے چلے جا رہے ہیں اور ازل سے بہنے والے خون کا یہ سلسہ نہ جانے کب تک مزید چلے گا۔

مزید :

کالم -