جدوجہد کے 27سال

جدوجہد کے 27سال
جدوجہد کے 27سال

  



پاکستان عوامی تحریک 25 مئی کو اپنا 27واں یوم تاسیس منارہی ہے۔سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے آج سے 27سال قبل 25 مئی 1989 ء کو عوامی تحریک کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے سیاسی جماعت کا اعلان کرتے ہوئے یہ عزم کیا کہ ریاست کا ہر شہری برابر ہے۔ تعلیم، صحت، انصاف،روزگار اور قومی وسائل پر سب کا یکساں حق ہے اور یہ حق دلوائیں گے۔پاکستان عوامی تحریک نے قانون کی حکمرانی کے لئے ظلم کے اس نظام کو چیلنج کیا اور اس کے کارکنوں نے جانوں کے نذرانے دئیے ۔ہزاروں کارکنوں نے قید و بند کی سختیاں جھیلیں، قائدین نے جھوٹے مقدمات اور مالی مشکلات کا اور بدترین کردار کشی مہم کا سامنا کیا اور آج بھی عوامی تحریک کی قیادت اور اس کے کارکن اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے پرعزم اور پرامید ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس وطن عزیز میں ایک دن مصطفوی انقلاب کا سویرا ضرور طلوع ہوگا کوئی بھوکا سوئے گا اور نہ کوئی چھت کے بغیر رہے گا۔ کسانوں کو سرکاری زمین مفت ملے گی ۔ انصاف اور مساوات کا نظام ہو گا۔ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اس 27سالہ سیاسی سفر میں اپنے خطابات اور بیانات کے ذریعے قوم بالخصوص نوجوانوں کو سیاسی شعور دیا انہیں ان کے آئینی ،قانونی حقوق کی شناخت کروائی ،حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے شفاف انتخابات اور انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ۔یہ جدوجہد صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ انتخابی اصلاحات اور شفاف انتخابات کے لئے انہوں نے لاکھوں کارکنان کے ہمراہ لانگ مارچ کیا اور پوری قوم کی توجہ آئینی الیکشن کمیشن اور شفاف انتخابات کی طرف مبذول کروائی مگر سٹیٹس کو کی قوتوں نے آئینی الیکشن کمیشن کو اپنے لئے خطرہ سمجھا اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے تحریری معاہدے سے منحرف ہو گئیں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور اس کی قیادت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جنہوں نے اس ظالم نظام کے خلاف 14 اگست 2014ء کو اسلام آباد میں دھرنا دیا ۔ہزاروں کارکنان نے موسم کی شدت کے باوجود اپنے آئینی ،قانونی، حق کا استعمال کرتے ہوئے ارباب اختیار کی توجہ ریاستی مظالم اور نظام کی نحوست کی طرف مبذول کروائی ۔اس دھرنے کی قابل ذکر اور قابل فخر بات اس کا نظم و ضبط تھا۔ 70دن تک پاکستان کے دارالحکومت کے انتہائی حساس علاقے میں احتجاج کرنے کے باوجود ایک گملا نہیں ٹوٹا اور حکومت کی گولیوں، لاٹھیوں کے سامنے خون بہانے والے کارکنوں نے قانون ہاتھ میں نہیں لیا اور انتہائی پرامن اور باوقار طریقے سے اپنا احتجاج رجسٹرڈ کروایا۔ڈاکٹر طاہر القادری سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کی مضبوطی تین طریقے سے ممکن ہے۔(اول) جمہوریت کی بنیاد مستحکم آئینی و قانونی روایات اور اقدار پر ہونی چاہیے۔اس کے لئے آئینی الیکشن کمیشن کی تشکیل اور آئین کے مطابق الیکشن کا انعقاد خشت اول ہے ۔ انتخابی عمل میں بے ضابطگی ،بددیانتی ،کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے (دوئم) جمہوریت چیک اینڈ بیلنس کے نظام سے مضبوط ہوتی ہے اس کے اندر آئینی ،قانونی ،انتظامی اور عوامی چیک اینڈ بیلنس اتنا سخت ہوتا ہے کہ کسی کے بچ جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، مگر افسوس ہماری جمہوریت میں چیک اینڈ بیلنس نام کی کوئی چیز نہیں ہے یہاں تک کہ مقتدر جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیاں ،کابینہ اور اراکین اسمبلی بھی واضح نظر آنے والی کرپشن اور بے ضابطگیوں پر قیادت سے بازپرس نہیں کرتیں کیونکہ جمہوریت کے نام پر ایک مک مکا کا نظام رائج ہے۔ ایک ہی جماعت کے لوگ ایک دوسرے کو اپنے اپنے مفادات پر بلیک میل کررہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے اپنے اراکین کے ووٹ لے کر اقتدار حاصل کرتے ہیں۔ اراکین اسمبلی نے اپنے اپنے اضلاع اور حلقوں میں مرضی کے ایس ایچ او ڈی پی او لگوا کر اپنی الگ ریاست قائم کرنی ہوتی ہے اسی مفادات کے بندھن اور مک مکا کے نظام کو جمہوریت کانام دیا گیا ہے۔اس نظام میں سیاسی مخالفین سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن اس کی ایک مثال ہے۔چیک اینڈ بیلنس کے فقدان کے باعث ہماری جمہوریت ظالمانہ نظام کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔(سوئم) جمہوریت کی کامیابی کا تیسرا راز عدلیہ کی بالادستی ہوتا ہے۔جب حکومتیں اور پارلیمنٹ آئین و قانون سے متجاوز اقدامات کی مرتکب ہوتی ہیں تو عدلیہ ان کا راستہ روکتی ہے مگر افسوس پاکستان میں عدلیہ اس طرح ایک مضبوط آئینی کلیدی فورم نہیں بن سکی جس کی کسی بھی بے مثال جمہوری معاشرے میں ضرورت ہوتی ہے۔ 8سا ل تک اس ملک کو آئینی بلدیاتی اداروں سے محروم رکھا گیا اور سپریم کورٹ کی بار بار ہدایات کے باوجود الیکشن نہیں کروائے گئے اور اگر الیکشن ہوئے بھی تو ابھی تک انہیں اختیارات نہیں دئیے گئے ،بلدیاتی الیکشن کو ہوئے چھ ماہ ہو گئے مگر بجٹ ایڈمنسٹریٹر دے رہے ہیں یہ عدلیہ کے فیصلے کی اور آئین کی توہین ہے۔اسی طرح آئین کا آرٹیکل 25-Aکہتا ہے کہ 5سے 16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ریاست اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہے اور آئین کے اس آرٹیکل کے تحت بل تو پاس ہوئے مگر بائی لاز تیار نہیں ہوئے اور نہ ہی آئین کا آرٹیکل 25-A آج تک کسی صوبے میں نافذ ہو سکا اگر عدلیہ حقیقی معنوں میں آزاد ہوتی تو یقیناًاس معاملے پر حکومت عملدرآمد کی پابند ہوتی۔معزز ججز کے ریمارکس اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ ملک میں رول آف لا ء نہیں ہے، گڈگورننس نہیں ہے، کرپشن ہے، عوام کے بنیادی حقوق سلب کر لیے گئے، تعلیم، صحت، صاف پانی، انصاف کا حق چھین لیا گیاتو سربراہ عوامی تحریک کا انقلاب ایک باوقار ،آزاد اور آئینی عدالتی نظام کے قیام اور تشکیل سے عبارت ہے۔سربراہ عوامی تحریک ہمیشہ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ دنیا کی ممتاز جمہوریتیں اور ممالک اور بین الاقوامی ادارے اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ (1) جمہوریت صرف انتخاب کا نام نہیں ہے یہ ایک مکمل نظام ہے۔اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ الیکشن صحیح معنوں میں شفاف ہوں مگر قیام پاکستان سے لے کر آج تک جتنے الیکشن بھی ہوئے ان کی کریڈیبلٹی مشکوک رہی ہے۔ زندہ جس ملک میں الیکشن شفاف نہ ہوں وہاں حقیقی جمہوریت کیسے آسکتی ہے جو اس کی پہلی شرط ہے (2) جمہوری نظام میں عوام کی شفاف اور انصاف پر مبنی شراکت ناگزیر ہوتی ہے مگر یہاں پر صرف وہی لوگ انتخابی عمل کا حصہ بنتے ہیں جو کروڑوں ،اربوں روپے خرچ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔جب ایک طرف کروڑوں روپے خرچ کرنے والا ہو تو دوسری طرف علم اور اہلیت کی بنیاد پر حصہ لینے والا ہو مگر جیت کروڑوں والے کی ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابی عمل کا شفاف نظام موجود نہیں ہے۔(3)حقیقی جمہوری نظام میں ہر شخص کو بات کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس کی عزت ،جان اور مال کو تحفظ حاصل ہوتا ہے مگر انتخابی عمل کے دوران طاقتور کمزوروں کی جان تک لے لیتے ہیں ان کے روزگار کو ان کی عزت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اس طرح اہل لوگوں کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا جاتا ہے اور پھر ان کے خلاف ریاستی اداروں پولیس کا استعمال کیا جاتا ہے اور انہیں سبق سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ دوبارہ سٹیٹس کو کی قوتوں کو چیلنج کرنے کی جرأت نہ کریں (4)مثالی جمہوری معاشرے میں میڈیا کی آزادی ناگزیر اور صحافیوں کی رائے اور تنقید کا احترام کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں مشکوک مینڈیٹ والے حکمران میڈیا کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں پاکستان عوامی تحریک نے اپنے 27 سالہ سیاسی سفر میں ’’ سٹیٹس کو‘‘کی قوتوں کو چیلنج کیا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کا سامنا کیا جس میں 14 بے گناہوں کو دن دیہاڑے شہید کر دیا گیا 85سے زائد کو گولیاں سے چھلنی کر دیا گیا جن میں بیشتر معذور ہو چکے ہیں اور دو سال گزر جانے کے بعد بھی شہداء او رزخمیوں کے ورثاء کو انصاف نہیں ملا۔ پاکستان کی تو کیا دنیا کی تاریخ کا یہ واحد کیس ہے جس میں شہداء کے ورثاء کو انصاف دینے کی بجائے پولیس نے ان کے خلاف قتل کرنے کا مقدمہ درج کر لیا اور یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت لاہور میں سماعت پذیر ہے 24 مئی 2016 ء کے دن بھی پولیس کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروائے گئے چالان کی سماعت ہوئی اور عوامی تحریک کے 42زخمی کارکنان کو بطور قاتل انسداد دہشت گردی کی عدالت کے کٹہرے میں اس ظالم نظام نے کھڑا کیے رکھا۔

مزید : کالم