معاشرے میں تبدیلی کیلئے تعلیم کو پہلی ترجیح دینا ہو گی: مجیب الرحمن شامی

معاشرے میں تبدیلی کیلئے تعلیم کو پہلی ترجیح دینا ہو گی: مجیب الرحمن شامی

لاہور(خبر نگار)ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تین روزہ کانفرنس کے دوسرے روز تعلیم اور میڈیا کے کردار کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ معاشرے کی تبدیلی کے لئے تعلیم کے شعبہ کو پہلی ترجیح دینا ہو گی۔بالخصوص اس میں پرائمری تعلیم کی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے جی ڈی پی میں زیادہ سے زیادہ بجٹ تعلیم کیلئے مختص کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میڈیا بھی یونیورسٹیوں کی تخلیق ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیو ں کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دودھ دہی اور میڈیا مکھن ہے، انہوں نے کہا کہ اب آپ نے جو کچھ سکھایا ہے اس کو دیکھ رہے ہیں اور اس کو بھگت رہے ہیں، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹرز یعنی نجی یونیورسٹیوں کو میڈیا نے نہیں بلکہ یونیورسٹیوں نے میڈیا ہاؤسز نکالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین تعلیمی اداروں نے ہماری سیاست اور تعلیم پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں، جس میں علی گڑھ یونیورسٹی ایک زندہ مثال آپ کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنی یونیورسٹی اور تعلیم کو ترجیح نہیں دیں گے اس وقت معاشرے کو بہتری کی جانب نہیں لیجا سکتے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس جانب توجہ دینا چاہئے اور شعبہ کو پہلی ترجیح دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ یونیورسٹیوں کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ دینا چاہئے۔ اس میں تعلیم پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے حکومت کو بجٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ تعلیم کیلئے مختص کرنا ہو گا اور بالخصوص اس میں پرائمری تعلیم کی جانب زیادہ توجہ دینا کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی کیلئے تعلیم کو پہلی ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو مسائل کی صحیح نشان دہی کرنا چاہئے اور اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یونیورسٹیوں اور میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دونوں شعبوں کو ملکر معاشرے کو ترقی کی جانب لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی اس حوالے سے اپنا برابرکا کردارادا کرنا چاہیے۔ اس موقع پر چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار حسین نے کہا کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایچ ای سی کا محکمہ اب منزل کی جانب چل پڑا ہے۔ تاہم اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے اور امید کی جاتی ہے کہ تمام یونیورسٹیوں کو اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا اور بالخصوص نوجوانوں کی امیدوں پر پورا اترنا ہو گا۔اس موقع پر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ تعلیم اور میڈیا کے دونوں شعبوں کو امپروومنٹ کی ضرورت ہے۔ اس میں دونوں شعبوں کو مل کر ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے اور کوئی بھی ادارہ اکلوتا اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس میں میڈیا کی افادیت کو بھی سامنے رکھنا ہو گا اور تعلیم کی افادیت کو بھی سمجھنا ہو گا۔ اس موقع پر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ تعلیم اور میڈیا دونوں ایسے شعبے ہیں کہ ان کی بغیر زندگی کے تمام پلرز نامکمل ہیں۔ تعلیم کے شعبہ میں استاد کو بنیادی مقام دینا ہو گا اور اس میں میڈیا سے ایسی ہی امید کی جاتی ہے تاکہ معاشرے کو ایک مقام کی جانب لایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے لئے ریسرچ کی گرانٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے اس کے لئے ماہر ترین اساتذہ یعنی PHD اساتذہ کی تعداد کو پڑھانا ہو گا۔اس موقع پر سینئر تجزیہ نگار سجاد میر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تحقیق کی کمی ہے۔ وگرنہ عام تعلیم تک محدود رہیں گے اور ہائیر ایجوکیشن سے محروم رہیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹیوں میں زیادہ سے زیادہ ریسرچ پر توجہ دی جائے اور ریسرچ کیلئے بے شمار طلباء کو ریسرچ کیلئے باہر جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ک جامعات کا بنیادی مقصد تعلیم کی جانب توجہ اور ماہر تعلیم پیدا کرنا ہونا چاہئے۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2فیصد نہیں بلکہ باقی ممالک میں کئی گنا تعلیم کے شعبہ کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ جی ڈی پی کا تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرے۔اس موقع پر نعیم مسعود نے تعلیم اور میڈیا کے کردار کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن اور میڈیا کا معاملہ ایسا ہے کہ دونوں جہاں کھڑے ہیں، وہاں ان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کو اہل علم کے علاوہ اہل نظر بھی ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوالٹی ریٹ بڑھنا چاہئے، اس موقع پر سینئر صحافی اجمل جامی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بالخصوص یونیورسٹیوں کو اپنے ماحول کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اس موقع پر حبیب اکرم نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں بہتری کے لئے عمارتوں کو بلند کرنا ضروری نہیں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے کہ اس سے معاشرے اور تعلیمی اداروں کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کو ختم کرنا ہو گا، اس موقع پر صغریٰ صدف نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کی ضرورت ہے اس میں یونیورسٹیوں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ کو میڈیا کے ساتھ ایک لنک رکھنا چاہئے۔ اس میں پوزیشن ہولڈرز بچوں کو میڈیا کے ذریعے زیادہ ان کی کوریج ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں میڈیا اور تعلیم کے شعبہ کو ملک کر کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ساراملبہ یونیورسٹیوں پر ڈالنا زیادتی ہے کہ اس میں معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا 9سرکاری اور 72پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ اس کے لئے 41ارب روپے کے فنڈز دیئے جاتے ہیں جو کہ ناکافی ہیں ، اس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دینا ہوں گے۔ اس موقع پر امجد اسلام امجد نے کہا کہ تعلیم اور میڈیا کو مل کر معاشرے کی آنکھ بننا ہو گا ۔ اس میں یونیورسٹیوں اور میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس موقع پر احمد جاوید نے کہا کہ تعلیم دینے والوں کو تعلیم کے شعبہ کو مکم طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے اور میڈیا کو بھی چلانے والوں کو میڈیا کے اصولوں کو جاننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد ہی تبدیلی ہے ۔ اس سے معاشرے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...