اتحاد امت کا بیانیہ (3)

اتحاد امت کا بیانیہ (3)
 اتحاد امت کا بیانیہ (3)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

توہین اور گستاخ کے فتاویٰ سے اجتناب :گستاخ رسول ﷺکو سزا دینا اسلامی حکومت کا کام ہے کیونکہ کوئی گستاخ رسولﷺہے یا نہیں ہے اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اگر عوام کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو وہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شک کی بنیاد پر بھی لوگوں کو قتل کریں گے جس کی مثالیں موجود ہیں ۔قانون کو ہاتھ میں لینا جرم ہے اس لیے اس پر مقدمہ چلایا جائے۔


آپ دوسروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں:اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن مجید میں بطور اصول واضح کر دی ہے کہ ہر شخص اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔ کسی شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے سکتا ہے۔ ہر فرد اپنے اعمال اور اقوال کا ذمہ دار ہے۔ ارشاد فرمایا ''یہ کہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کو (آخرت میں)وہی ملے گا جو اُس نے (دنیا میں)کمایا ہے۔(النجم:۔(


فرقہ وارانہ اختلاف کی مذمت اور باہمی محبت کی تلقین: اسلا م میں مسلکی منافرت اورمذہبی انتہا پسندی کی ہرگز گنجائش نہیں۔ سورۃ الحجر کی آیت 91،92میں اللہ کا فرمان ہے۔اور جنھوں نے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا آپ ﷺکے پروردگار کی قسم ، ہم ان سب کاضرور مواخذہ کریں گے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے، جن لوگوں نے اپنے مذہب کو بانٹ دیا اور فرقہ ،فرقہ ہو گئے آپﷺ کا اُ ن سے کوئی تعلق نہیں۔اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہ انھیں جتا دے گا جووہ کرتے رہتے ہیں۔(سورۃ انعام کی آیت (159) ۔۔۔ قرآن کی بہت سی آیتوں میں مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا گیا ہے اور مسلکی اختلاف کو مسلمانوں کی قوت میں کمزوری کا باعث بتایا گیا ہے۔ ۔۔۔ ارشاد ربانی ہے، 'اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو(آل عمران :)
قرآن پاک میں ارشاد ہے اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ )متفرق اور کمزور ہو کر(بزدل ہو جاوَ گے اور تمہاری ہوا )یعنی قوت (اکھڑ جائے گی ۔ )الانفال، :) سرور کائناتﷺنے فرمایامسلمانوں کی باہمی محبت اور مودت کی مثال ایسی ہے ،جیسے ایک ہی جسم ہو، جس میں ایک عضو کو تکلیف پہنچے، تو ساراجسم بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم۔رقم ، باب تراحم الموَمنین و تعاطفھم۔ ؍البخاری رقم، باب رحمۃ الناس و البھائم)


یونس بن عبدالا علیٰ ، امام شافعی کے خاص تلامذہ میں سے تھے، کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے زیادہ عقل مند انسان کوئی نہیں دیکھا،میرا ان کے ساتھ ایک مرتبہ کسی مسئلہ پر مناظرہ ہو گیا، کچھ عرصہ کے بعد جب میری ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم اس کے باوجود بھائی بھائی رہیں چاہے کہ ہمارا کسی ایک مسئلے میں بھی اتفاق نہ ہو۔ یعنی تمام مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کے باوجود اخوت کے رشتے میں کوئی فرق نہ آئے۔ (فرقہ وارانہ ہم آہنگی برصغیرکی دینی روایت میں برداشت کا عنصر، مفتی محمد زاہد، نیریٹو پرائیویٹ لمیٹڈاسلام آباد)۔۔۔


سماجی روابط معاشرے کی ضرورت ہیں : کسی مسئلے کے بارے میں اگر ہم سمجھتے ہیں کہ کسی گرو ہ سے ہمارا اختلاف ہے اور ہمار ے پاس اس سلسلے میں منطقی دلائل موجود ہیں تو ہمیں اس مسلک یا گروپ سے ہی قطع تعلقی اختیار نہیں کر لینی چاہئے۔ اختلافات کے باوجود سماجی روابط رکھنے اورملنے جلنے میں ہی معاشرے کی بہتری ہے۔۔۔۔ تمام مسالک ایک دوسرے کے بارے میں آگاہی حاصل کر کے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔دوسرے مسلک کو امت مسلمہ کا حصہ سمجھتے ہوئے بین المسالک اتحاد قائم کرنا دین اسلام میں مطلوب ہے۔ ارشاد ربانی ہے، 'اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو(آل عمران :)اس آیت میں واضح طور پر فرقہ پرستی اور مسلکی اختلاف کی نفی کی گئی ہے۔ یہ آیت اخوت و اتحاد کی دعوت اور تفرقہ و انتشار کی مذمت، دونوں پہلووَں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ ظہور اسلام کا مقصد تمام نوع انسانی کو ایک مرکز پر لانا اور ایک دائمی وحدت کے رشتہ میں منسلک کرنا ہے۔ سرور کائناتﷺ نے فرمایامسلمانوں کی باہمی محبت اور مودت کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک ہی جسم ہو، جس میں ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو ساراجسم بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم-)


مسئلہ :فرقہ وارانہ دہشت گردی میں فریق مخالف کے خلاف تشدد کے لئے مذہبی دلائل اور دینی اصطلاحات کا استعمال (نہی عن المنکر،فتنہ، جہاد و قتال کے احکام وغیرہ)
فتنہ وفساد کا خاتمہ: لوگوں کے مصالح کا حصول اور مفاسد کا خاتمہ شرعی احکام کی علت ہے ۔ ایسے امور جن کا تعلق براہ راست عوام اور معاشرہ سے ہے ، ان پر رائے دینے سے اگرچہ وہ درست ہی کیوں نہ ہوفتنہ و فساد کا خطرہ ہو تومصلحت عامہ کے تحت رائے دینے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ اسلام میں فتنہ و فساد کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔سورۃ ابقرۃ میں ارشاد ہے فتنہ پردازی تو قتل سے بھی بدتر ہے۔ اگر ہر گروہ دوسرے کو فتنہ قرار دے کر اس کے سدباب میں لگ جائے تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا۔ گلی گلی محلے محلے قتل وغارت کا میدان گرم ہو جائے تو اس سے بڑھ کر فتنہ و فساد کیا ہو گا ۔شریعت کا تقاضا احترام آدمیت ہے۔ فتنہ و فساد کے خوف کی وجہ سے حق بات کہنے سے رک جانا ہی قرین مصلحت ہے ۔اسی وجہ سے اسلام نے مسلم ریاست میں حکمران کی اطاعت لازمی قرار دی ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو۔ مسلمانوں کے مابین سفک الدماء اور قتل و قتال کو ایک بہت بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے کتاب الفتن کے پہلے باب میں لکھا ہے کہ امام یا حکمران کی اطاعت کرنا ہی بہتر ہے، ایسے خروج کی بجائے جس میں خون کی ندیاں بہنے کا امکان ہو۔ تمام مسالک کے پاس اپنے عقائد پر مذہبی دلائل موجود ہیں۔فقہائے کرام کے بقول کسی دوسرے مسلک کے اعمال کوجنہیں وہ اپنے عقائداور اجتہاد کی بناء پر جائز قرار دیتے ہیں ،برائی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انہیں بزور طاقت منع کرنا مسلمانوں کے مابین مزید انتشار کا سبب بنے گا۔


جنگ اور جہاد میں ظلم اور جارحیت کی نفی:جہادکاجارحانہ تصورایسے مسلم متشددین نے پیش کیاہے جوانیسویں صدیں میں جہادی تحریکوں سے وابستہ تھے، یاانکے بانی تھے اوراپنی سیاسی سوچ کے تحت سیاسی اہداف کیلئے قوت کے استعمال کو جائزسمجھتے تھے۔ جہادکے ا س جدید سیاسی تصور نے اسلام کے جنگی اصولوں کو پامال کیا اور مسلمانوں کودہشت گردوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔علمائے کرا م نے جہادکے حقیقی تصور کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔ اسلام نے قتال کو ایک اعلی مقصد کے تابع کرتے ہوئے اس میں جارحیت کے تمام عناصر کی نفی کی۔ جو لوگ جنگ میں شامل نہیں، غیر مسلح ہیں، ان پر اسلحہ اٹھانے سے منع کیا۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، نہتی آبادیوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ بنایا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اسلامی لشکر کو مشرکین کی طرف روانہ فرماتے تو یوں ہدایات دیتے : کسی بچے کو قتل نہ کرنا، کسی عورت کو قتل نہ کرنا، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا، جنگ میں حائل درختوں کے سوا کسی دوسرے درخت کو نہ کاٹنا، کسی انسان کا مثلہ نہ کرنا، کسی جانور کا مُثلہ نہ کرنا، بدعہدی نہ کرنا اور چوری و خیانت نہ کرنا۔بیہقی، السنن الکبریٰٰ، 990، رقم17934(


نہی عن المنکر کی شرائظ: علماء کرام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے چار شرائط کا ہونا ضروری قرار دیتے ہیں پہلی شرط یہ ہے کہ وہ منکر جس سے روکا گیا ہے اس کے منکر ہونے پر مسلمانوں کے مابین اتفاق ہو اور شریعت کے ٹھوس اور واضح الفاظ یا قطعی قواعد و ضوابط سے اس کا'منکر 'ہونا ثابت ہو۔ حدیث میں مذکور لفظ 'منکر'یا برائی کا اطلاق صرف اس حرام کے اوپر ہی کیا جاتا ہے جس کو چھوڑنے کا شارع نے تاکیدی حکم دیا ہو، جب کہ اس حرام کا ارتکاب کرنے والا عذاب الٰہی کا مستحق بھی ٹھہرتا ہو۔مگر ایسے امور جن کے بارے میں قدیم یا جدید علمائے اجتہاد کا اختلاف ہو، یعنی اس امر کے جائز ہونے اور ممنوع ہونے کے بارے میں علماء متفق نا ہوں، تو یہ اس 'منکر'کے دائرے میں داخل نہیں جس کو ہاتھ کی قوت سے روکنا واجب ہے۔ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ کا ایک قول ہے، اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ ایسا عمل کر رہا ہے ،جس میں علماء کا اختلاف ہے اور تمہاری رائے اس کے خلاف ہو تو اسے مت روکو۔منکر کا ظاہری ارتکاب دوسری شرط یہ ہے کہ منکر کا ارتکاب ظاہری ہو، خفیہ نہ ہو۔ اگر کوئی شخص اسے لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھتا ہے اور اپنے بند دروازوں کے اندر ایسا کرتا ہے تو کسی کے لئے اس کے بارے میں نگرانی کے آلات یا خفیہ تصویری کیمروں یا منکر کے ارتکاب کے شک میں اس کے گھر میں چھاپہ مارنا جائز نہیں۔ حدیث کے الفاظ واضح نشاندہی کرتے ہیں جو تم میں سے کسی منکر کو دیکھے وہ اسے بدل دے۔ یعنی روکنے کا حکم منکر کے دکھائی دینے اور مشاہدے میں آ سکنے سے مشروط ہے۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -