بل میں بلوچستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو شامل نہ کرنا باعث حیرت

بل میں بلوچستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو شامل نہ کرنا باعث حیرت
بل میں بلوچستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو شامل نہ کرنا باعث حیرت

  

تجزیہ سہیل چوہدری

ایک تاریخی پیش رفت کے نتیجہ میں خیبر پختونخواسے ملحقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا ریفارمز بل کی قومی اسمبلی سے منظوری سے اب باقاعدہ قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں ، انگریز نے متحدہ ہندو ستان اورا فغانستان کے مابین بفرزون کے طورپر زیر انتظام قبائلی علاقہ قائم کیا تھا جہاں عام قوانین نافذ العمل نہیں تھے ، جس کی بناء پر فاٹا میں بسنے والے لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے نہ ہی جمہوری تقاضوں کے مطابق گورننس تھی ،اب فاٹا ریفارمز بل کی سینٹ سے منظوری کے بعد یہ آئینی ترمیم کے نتیجہ میں قبائلی علاقوں کا خصوصی درجہ ختم ہوجائیگا اور وہاں بسنے والوں کونہ صرف بنیادی انسانی حقوق میسر ہونگے بلکہ انہیں جمہوری طرز حکمرانی بھی نصیب ہوگا ، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے بر سر اقتدار آتے ہی فاٹا ریفارمز بل پر کام شرو ع کردیا تھا اور اس حوالے سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی نے ڈ ھائی سال تک اس ایشو پر عرق ریزی کی لیکن اس کمیٹی کی سفارشات پرعملدرآمد ملک میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے ایک کٹھن کام نظر آتا تھا ، جبکہ حکومت کے اپنے اہم اتحادی جمعیت علماء اسلا م کے سربراہ مولانا فضل الرحمن فاٹا کے خیبر پختونخوامیں انضمام کے سخت مخالف تھے ، وہ چاہتے تھے فاٹا کو الگ صوبہ کا درجہ دیا جائے کیونکہ جے یو آئی واحد ملک کی سیاسی و مذہبی جماعت تھی جسے فاٹا میں بلا شر کت غیرے پذ یر ا ئی حاصل تھی ، اس بناء پر فاٹا اگر الگ صوبہ بنتا تو شائد جے یو آئی ایک طویل عرصہ تک اس صوبے پر بغیر کسی اپوزیشن کے راج کر سکتی تھی ، اس طرح حکومت کے ایک دوسرے اتحادی محمود اچکزئی بھی فاٹا کے خیبر پختونخوا کے انضمام کے حق میں نہیں تھے ، دریں اثنا پاک فوج نہایت شجاعت سے فاٹا کے علاقوں سے دہشتگردی ختم کر چکی تھی اور عسکری حلقوں کا بھی خیال تھا اگر ان قبائلی علاقوں میں عمدہ گورننس فراہم نہ کی گئی تو یہاں دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل سکتاہے ، اس بناء پر حکومت نے اس زیر التوا اہم ایشو پر پیش رفت کی ، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس ایشوپر حکومت کا ساتھ دیا اور حکو مت نے اپنے اتحادیوں کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے وسیع تر قومی اتفاق رائے کے مطابق اس بل کو قومی سمبلی سے منظور کرواکر ملک کی آئینی تاریخ میں اس کا سہرا اپنے سر سجالیا ، حتیٰ کہ قومی اسمبلی کے وقار کو با ربار مجر و ح کرنیوالی جماعت تحریک انصاف کے اراکین اور اس کے چیئرمین عمران خان نے بھی اس قانون سازی میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ کے بارے میں ان کے مختلف مواقع پر ریمارکس کے نتیجہ میں انہیں گزشتہ روز ایوان کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ، چونکہ حکومت اور پارلیمنٹ اپنی مدت کے آخر ی دنوں میں ہے اور آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کے موسم کی بناء پر کورم کا مسئلہ بھی درپیش ہوا لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام دن اپنے چیمبر اور ایوان میں بیٹھ کر دو تہائی تعداد کی تکمیل کیلئے سر توڑ کوشش کی ، دوپہر 12بجے سے جاری اس میراتھن کا اختتام شام 6بجے خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اس ایشو پر پریس کانفرنس سے ہوا، اگرچہ اس قومی اتفاق رائے پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے کردار اداکیا تاہم حکومت نے جاتے جاتے اس اہم ترین ایشوپر کریڈٹ حاصل کرلیا ، اگرچہ خیبر پختونخوا و فا ق کے ماتحت قبائلی علاقوں کا یہ قدیم ترین ایشو تو سلجھ گیا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے اس بل میں بلوچستان میں وفاق کے زیر انتظام سرحدی قبائلی علاقوں کو شامل نہیں کیا گیا ، حالانکہ یہ اہم موقع تھا یک جنبش قلم بلوچستان میں وفاق کے زیر اہتمام خصوصی قبائلی کو قومی دھارے میں لانے کا ایک سنہری موقع گنوادیا گیاحالانکہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ خون ریزی لسانی جھگڑوں سمیت سیکورٹی کے حساس معاملات کے ڈانڈے بھی انہی علاقوں سے ملتے ہیں جبکہ وہاں بسنے والے بھی 21ویں صدی میں غلامی کے دور کی زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ سی پیک کے مستقبل کے حوالے سے بھی بلوچستان کے قبائلی علاقوں کو قومی دھا رے میں لانا وقت کی ضرورت ہے ، دوران پریس کانفرنس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی توجہ بھی اس اہم خلا کی جانب مبذول کرائی گئی لیکن انہوں نے اس ایشو کو بلوچستان کی صوبائی حکومت پرچھوڑدیا کہ اگر وہاں سے کوئی پہل ہو تو آئندہ حکومت اس ایشو سے نمبردآزما ہوسکتی ہے کہہ کر اس سے پہلو تہی کرلی، انہوں نے بتایا سیکشن 146بلوچستان میں لاگو نہیں ہوگا پاکستان کی تاریخ کی اس اہم ترین قانون سازی کے حوالے سے بلوچستان کو اس میں شامل نہ کرنا اس قانون سازی پرایک اہم ترین سوالیہ نشان ہے، دریں اثناء دارالحکومت میں پارلیمنٹ سے باہر سابق نااہل وزیراعظم نوازشریف کے پے درپے بیانات نے پید ا کررکھی ہے ۔ایک دن ان کے ناقدین کاتبصرہ ہوتا ہے میاں صاحب نے بہت سخت بیان دیا ہے اس سے ان کو اورانکی سیاست کو مزید مسائل کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے تو اگلے روزمیاں نوازشریف اس سے بھی سخت بیان داغ دیتے ہیں۔نوازشریف نے گزشتہ روز بھی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مریم نوازشریف کو کٹہرے میں لانے پر سخت ردعمل کااظہارکیا اورتنبیہ کی کہ سیاسی بنیادوں پر انتقام کو بیٹیوں تک لے جانے کے طرز عمل کے نتائج تمام فریقین کو بھگتنے ہونگے۔

تجزیہ سہیل چوہدری

مزید : تجزیہ