پی ایس پی سندھ کی تمام قومی اور صوبائی نشستوں پر انتخاب لڑے گی

پی ایس پی سندھ کی تمام قومی اور صوبائی نشستوں پر انتخاب لڑے گی

  

تجزیہ مبشر میر

پاک سرزمین پارٹی سندھ بھر کی تمام قومی اور صوبائی نشستوں پر انتخاب لڑے گی ،پارٹی ذرائع نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی سیاسی گروہ یا پارٹی سے انتخابی اتحاد نہیں کرے گی ۔پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس لحاظ سے کامیاب دکھائی دیتی ہے کہ اس نے ایم کیو ایم کے روایتی بیانیے مہاجرازم کی کمر توڑ کر پاکستان ازم کی بنیاد رکھی ہے جسے سندھ اور بلوچستان میں پذیرائی ملی ہے ۔ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کا جائزہ لیا جائے تو شہر کراچی اور اندرون سندھ خاص طور پر حیدرآباد اور میر پور خاص میں پی ایس پی منظم اور فعال پارٹی کے طور پر نظر آتی ہے ۔پارٹی ذرائع کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم کا مسلم لیگ (ن)سے سیاسی اتحاد کراچی میں کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے ہاں تنظیم نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔یہ بات بھی واضح دکھائی دیتی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے نئے صوبے کا نام لے کر سندھی مہاجر تنازعہ کھڑا کرنے کی دانستہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی ۔ایم کیو ایم ان کے خلاف ہڑتال کرنے کی طاقت نہیں رکھتی جبکہ پی ایس پی مہاجر سندھی سیاست کو دفن کرچکی ہے ۔ڈاکٹر فاروق ستار کا دھڑا سب سے کمزور دکھائی دیتا ہے ۔ان کی ہڑتال کی کال بھی بری طرح ناکام ہوئی تھی ۔وہ بہادرآباد گروپ سے بھی شرائط منوانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔الیکشن 2018کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا انتخابی نشان ’’پتنگ‘‘ کس کو ملتا ہے ۔اگر بہادرآباد گروپ یا پی آئی بی میں کسی کو بھی ملا تو یہ تاثر برقرار رہے گا کہ یہ ووٹ پتنگ کو نہیں بلکہ الطاف حسین بانی ایم کیو ایم کو جارہا ہے ۔پی ایس پی کو اپنے انتخابی نشان ڈولفن کو مقبول بنانے کے لیے بہت محنت کرنا ہوگی ۔گزشتہ دو سالوں میں ضمنی الیکشن کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ ایم کیو ایم نے اکثر ضمنی الیکشن میں شکست کھائی گویا ان کا انتخابی نشان پتنگ ،بانی ایم کیو ایم کی عدم موجودگی میں اپنی افادیت کھوتا چلاگیا اس لیے اب پی ایس پی کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے انتخابی نشان ڈولفن کو زبان زد عام کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائے ۔تحریک انصاف کی اہم رکن فوزیہ قصوری کی پی ایس پی میں شمولیت بھی اس بات کی غماز ہے کہ سید مصطفی کمال کے بیانیے کو پنجاب کی سیاسی شخصیات میں بھی پذیرائی ملنا شروع ہوگئی ہے ۔

پی ایس پی سندھ

مزید :

تجزیہ -