ایک خانہ خراب شہر کی یاد میں

ایک خانہ خراب شہر کی یاد میں

  



شکور پٹھان کی کتاب"میرے شہروالے"کی تقریب رونمائی کے موقع پر پڑھا گیا

جب یہ شہر قاری زاہر قاسمی کی تلاوت پہ جاگتا تھا اوربندو خان کی سارنگی سن کر سوتا تھا۔

جب رشید ترابی، احتشام الحق تھانوی اور شفیع اوکاڑوی خطابت کے جوہر دکھاتے تھے اور مفتی محمد شفیع اور بابا ذہین شاہ تاجی علم کے گوہر رولتے تھے

جب شاہد احمد دہلوی موسیقی کے سبق یاد کرواتے تھے اور استاد جھنڈے خان کے قصے سناتے تھے۔

جب مولوی عبدالحق مشفق خواجہ کو تحقیق کے گر سکھاتے تھے اور جمیل جالبی اور ابوالخیر کشفی تنقید کے نئے نئے دبستانوں سے روشناس کرواتے تھے۔

جب کرار حسین ، سید سبط حسن اور حسن عسکری علم کے دریا بہاتے تھے اور سلیم احمد اور قمر جمیل نئی شمعیں جلاتے تھے۔

جب سیماب اکبر آبادی وحی منظوم لکھتے تھے اور آرزو لکھنوی سریلی بانسری بجاتے تھے۔

جب جوش ملیح آبادی یادوں کی برات سناتے تھے اور قمر جلالوی شاگردوں کی منڈلیاں سجاتے تھے۔

جب ابن صفی عمران اور فریدی کی داستان سناتے تھے اور شکیل عادل زادہ استاد بٹھل اور بابر زماں خان کے قصے رولتے تھے۔

جب ملا واحدی دلی کی بھولی بسری کہانیاں سناتے تھے اور بہزاد لکھنوی ، لکھنو کے حکیم بڈھن سے ملواتے تھے۔

جب ابراہیم جلیس ، ابن انشا اور مشتاق احمد یوسفی گدگداتے تھے اور ظریف جبل پوری، سید محمد جعفری اور دلاور فگار پھلجھڑیاں چلاتے تھے

جب خواجہ معین الدین اور احمد علی اسٹیج پر مسکراہٹ بکھیرتے تھے اور حسینہ معین اور کمال احمد رضوی چھوٹی اسکرین پر۔

جب حکیم مولانا مولوی مرزا ماہر بیگ ماہر جا بہ جا ہر مسافر پہ ہے لازم صبر کرنا چاہیے کے مصرعے لکھتے پھرتے تھے اور سلطنت مغلیہ کے چشم و چراغ اور وارث اصلی استاد محبوب نرالے عالم شہر کی سڑکوں پر چنا جور گرم کی صدائیں لگاتے تھے۔

جب فضل احمد کشمیر والا کوسیجن کو نہرو کی یتیم بیٹی کو سمجھانے کے لیے خطوط لکھتے تھے اور علامہ مشرقی کے فرزند شہر کی دیواریں سیاہ کرکے شفاف تحریک چلاتے تھے۔

جب ماہرالقادری اور ادیب رائے پوری آمنہ کے لال کی مدح سرائی کرتے تھے۔ اور آل رضا اور نسیم امرہوی محمد کے نواسے کے مرثیے سناتے تھے۔

جب وحید ظفر قاسمی اور خورشید احمد نعتوں کی نوا سنجی کرتے تھے اور کجن بیگم سوز و سلام اور سچے بھائی نوحے پڑھتے تھے۔

جب غلام فرید صابری عبدالہ شاہ غازی کے مزار پر بھردو جھولی مری یامحمد کا نذرانہ پیش کرتے تھے اور ان کے بعد ان کا بیٹا امجد ، علی کے ساتھ زہراکی شادی کی روایت سناتا تھا۔

جب شوکت صدیقی خدا کی بستی آباد کرتے تھے اور قرۃ العین حید ر ہاوسنگ سوسائٹی کی بنیادیں رکھتی تھیں۔

جب ہاجرہ مسرور اور فردوس حیدر کہانیاں سناتی تھیں اور زہرا نگاہ اور پروین شاکر اپنی غزلوں سے شاعری کو مالا مال کرتی تھیں۔

جب سراج الدین ظفر اور عزیز حامد مدنی غزل کو نیا لہجہ عطا کرتے تھے اوررسا چغتائی اور جون ایلیا غزل کے پرانے مضامین کو تازگی عطا کرتے تھے۔

جب محسن بھوپالی نظمانے اور حمایت علی شاعر ثلاثی ایجاد کرتے تھے اور احمد ہمیش، قمر جمیل اور افتخار جالب نثری نظم کی تحریک چلاتے تھے۔

جب تابش دہلوی اور محشر بدایونی دن کو رات بناتے تھے اور عبید اللہ علیم اور جمال احسانی راتوں کو دن میں بدلتے تھے۔

جب رئیس امروہوی روز ایک تازہ قطعہ لکھ کر عوام اور ارباب حکومت کو آئینہ دکھاتے تھے اور شوکت تھانوی اور مجید لاہوری طنز و مزاح کے تیر برساتے تھے۔

جب جمیل الدین عالی جیوے جیوے پاکستان اور دوہے سناتے تھے اور صہبا اختر میں بھی پاکستان ہوں ، تو بھی پاکستان ہے اور نظموں سے مشاعروں کو گرماتے تھے۔

جب وحید مراد اور ندیم بڑی اسکرین پر جگمگاتے تھے اور مہدی حسن اور احمد رشدی پس پردہ گنگناتے تھے۔ جب زیبا ، دیبا ور شمیم آرا فلموں میں چہچہاتی تھیں اور شہناز اور مہناز بیگم سر بکھراتی تھیں۔

جب علن فقیر اور عابدہ پروین شاہ کی وائی گاتے تھے اور عالم گیر اسپین اور شہکی اور حسن جہاں گیر ایرانی دھنوں پر دھوم مچاتے تھے۔

جب فضل احمد کریم فضلی فلمی دنیا میں چراغ جلاتے تھے اور الیاس رشیدی ان کی روشنی اپنے نگار خانے میں محفوظ کرتے تھے۔

جب سہیل رعنا کوکو کورینا کی دھن بناتے تھے اور مسرور انور اسے شاعری سے سجاتے تھے۔

جب ظہیر عباس سنچریوں پر سنچریاں اور جاوید میاں داد چھکوں پر چھکے لگاتے تھے۔ اورعمر قریشی اور جمشید مارکر اس کا آنکھوں دیکھا حال سناتے تھے۔

جب انوار احمد خان اور اصلاح الدین تمغوں پر تمغے جیت کر وطن کی جھولی میں ڈالتے تھے اور روشن خان اور جہاں گیر خان ریکارڈز پر ریکارڈز توڑتے چلے جاتے تھے۔

جب اتوار کی صبح کا آغاز حامد میاں کے گھر سے ہوتا تھا اور عاشور کی شام غریباں کا اختتام ناصر جہاں کے سلام آخر پر۔

جب صادقین مصوری میں شاعری کرتے تھے اور گل جی، آذر زوبی، بشیر مرزا اور علی امام نئے دبستانوں کی کھوج لگاتے تھے۔

جب رتھ فاؤ جذامیوں کے علاج کے لیے ہسپتال بناتی تھیں اور جمشید نصروانجی بابائے کراچی کہلاتے تھے۔

جب ایدھی نوزائیدہ بچوں کو جھولے اور نازائیدہ بچوں کو کفن دیتا تھا اور حکیم محمد سعید اور سرجن جمعہ مسیحائی کرتے تھے۔

جب محمد علی حبیب اور آغا حسن عابدی نئے نئے بنک بناتے تھے اور آدمجی ، عائشہ باوانی اور داود صنعتوں کے ساتھ ساتھ شہر میں تعلیمی ادارے بھی قائم کرتھے تھے۔

جب بیکن ہاوس اور سٹی اسکول نہیں بلکہ پیلے اسکولوں میں پڑھنا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا اور اے ایم قریشی اور مولوی ریاض الدین اسلامیہ اور جناح کالج جیسے کالجوں میں مستقبل کے معمار تیار کرتے تھے۔

جب زیڈ اے بخاری ، ضیا محی الدین اور طلعت حسین آواز کا جادو جگاتے تھے ، عرش منیر، صفیہ معینی اور رینوکا دیوی بیگم خورشید مرزا کے روپ میں ہر گھر میں احترام کا مرکز بن جایا کرتی تھیں اور ہمارے لطف اللہ خان چپکے چپکے ان کی آوازیں محفوظ کرتے تھے۔

جب فاطمہ جناح آمریت کو لکارتی تھیں اور بے نظیر بھٹو مارشل لا کی سختیاں سہتی تھیں۔

جب علی مختار رضوی صدر کے قہوہ خانوں میں چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرتے تھے اور معراج محمد خان تن تنہا انقلاب کی آمد کی چاپ سنتے تھے۔

جب ادیب الحسن رضوی مشتاق احمد گورمانی کی کار کو آگ لگاتے تھے اور کشور غنی، منور غنی ، خوش بخت عالیہ ، شفیع نقی جامعی ، ظہور الحسن بھوپالی اور دوست محمد فیضی کی کامیابی ہر گھر کے بچوں کی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔

آپ میں سے بیشتر نے وہ زمانہ دیکھا ہے اور کچھ نے یقینا‘‘ نہیں۔ جنہوں نے وہ زمانہ دیکھا ہے ان کے لیے شکور پٹھان کی کتاب میرے شہر والے ، ایک شہر آشوب ہے اور جن لوگوں نے وہ زمانہ نہیں دیکھا ان کے لیے ایک جہان حیرت۔ اسے پڑھیے اور سوچیے کہ ہم نے بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں قدم رکھا ہے یا شاید اچانک کئی صدی پیچھے چلے گئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم