پی پی 200، مسلم لیگ ن کے رہنماءاور امیدوار حاجی محمد ایوب نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا، ان کے بارے میں وہ تمام باتیں جو شاید آپ کومعلوم نہیں

25 مئی 2018 (15:39)

ساہیوال (محمد اکرام جٹ سے)صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 200چیچہ وطنی سے مسلم لیگ ن کے رہنمااور امیدوار حاجی محمد ایوب نے مختلف دیہاتوں کے نمائندگان کیساتھ مشاورتی اجتماع کے بعد انتخابی مہم کا آغاز کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق حاجی محمد ایوب کا تعلق چیچہ وطنی کے نواحی گاؤں 39/12 ایل سے ہے۔ ان کے والد چودھری محمد اسماعیل متوسط طبقہ کے زمیندار اور کاروباری شخص تھے جنہیں علاقہ میں نیک نامی اور شرافت کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حاجی محمد ایوب نے 14 فروری 1962 کو جنم لیا۔حاجی محمد ایوب نے میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول ساہیوال سے کیا تاہم باپ کی ناگہانی وفات کے بعد انہیں کاروبار کی دیکھ بھال کرنا پڑی۔ وہ سبزی منڈی چیچہ وطنی میں آڑھت کے کاروبار سے وابستہ ہو گئے اور مسلسل 13،14 سال انجمن آڑھتیاں سبزی منڈی چیچا وطنی کے صدر رہے اور اب تاحیات سرپرست کے عہدہ پر فائز ہیں۔حاجی محمد ایوب نے ہمدرد فاؤنڈیشن چیچہ وطنی کے صدر کی حیثیت سے بھی سماجی خدمات سرانجام دی ہیں جبکہ خاندانی طور پر مذہبی رجحان رکھنے کی وجہ سے وہ دارالعلوم حفصہ للبنات کے مہتمم اور جامعہ اسلامیہ جامع مسجد بلاک 12 چیچہ وطنی کے صدر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

سیاست میں وہ اپنے کزن چودھری زاہد اقبال کی وجہ سے آئے۔ جن کے 2008ءمیں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد وہ انکی غیر موجودگی میں انکے دستِ راست کے طور پر عوامی مسائل کے حل کے لیے پیپلز ہاو¿س چیچہ وطنی میں موجود رہے۔2013ء کے انتخابات کے بعد دونوں کی راہیں اگرچہ جدا ہو چکی ہیں تاہم حاجی محمد ایوب نے اسی حلقے سے مسلم لیگ ن کو ٹکٹ کے لیے درخواست دے دی ہے جہاں سے 2002ء میں انکے خاندان نے پی پی پی کی طرف سے ملکی سیاست میں قدم رکھا تھا۔قبل ازیں ان کے خاندان کا رائے خاندان سے قریبی تعلق رہا تھا۔ حاجی محمد ایوب کے مطابق ان کا خاندان شروع سے ہی مسلم لیگی رہا ہے اور وہ بھی مسلم لیگی قیادت پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔وہ پر امید ہیں کہ حلقے کی سیاست، دھڑے بندی اور ان کی پارٹی خدمات کے عوض انہیں امیدوار نامزد کیا جائے گا اور وہ کامیابی حاصل کریں گے۔

حاجی ایوب نے بتایاکہ گزشتہ انتخابات میں این اے 162 پر پی پی 200 کے پولنگ سٹیشنز پر انہیں 47 ہزار سے زائد ووٹ ملے تھے اور انہیں آج بھی اپنی برادری کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے۔پی پی 200 میں آرائیں برادری کا ووٹ سب سے زیادہ ہے جبکہ دیگر بڑی برادریوں میں گجر، راجپوت، ڈوگر اور جٹ شامل ہیں۔ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں حاجی محمد ایوب کا کہنا ہے کہ وہ علاقہ کے ان تمام دھڑوں کے سرکردہ افراد سے دوبارہ مشاورت کر کے مستقبل کی سیاست کا فیصلہ کریں گے جنہوں نے انہیں امیدوار نامزد کر کے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے،عوام سے تعلق کو نبھانا اور انکی صحیح معنوں میں نمائندگی کرنا ہی میری سیاست کا مرکز و محور ہے۔

مزیدخبریں