نیک خواہشات کا تبادلہ…… محض سفارتی مشق یا ……

نیک خواہشات کا تبادلہ…… محض سفارتی مشق یا ……

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے مودی سے مل کرکام کرنے کا منتظر ہوں، وزیراعظم نریندر مودی نے مبارکباد کے جوابی ٹویٹ میں کہا ہے کہ آپ کی نیک تمناؤں پرمیں آپ کا شکرگزار ہوں، مَیں نے ہمیشہ خطے میں امن اور ترقی کو ترجیح دی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان ہندوستانی عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہوئے نریندر مودی سے مذاکرات کے لئے تیار ہے ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر پہلی ترجیح رہے گا۔

مودی پہلی مرتبہ بھی پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیل کر برسر اقتدار آئے تھے اپنی پانچ سالہ حکومت میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا،اُن کے اسی طرزِ عمل کی وجہ سے اسلام آباد میں سارک سربراہ کانفرنس منعقد نہ ہو سکی اور اب تک کسی بھی رکن ملک میں اس کا انعقاد نہیں ہو سکا،کیونکہ دستور کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں جو کانفرنس ہونا تھی جب تک وہ نہ ہو جائے یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یوں بھارتی رویئے کی وجہ سے سربراہ کانفرنس کا انعقاد اب تک رُکا ہوا ہے اور سارک کانفرنس بھی خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکی، اب پاکستان اور بھارت شنگھائی تعاون کونسل کے رکن بن گئے ہیں، جس کا بنیادی مقصد ہی ہمسایوں کے تعلقات کو بہتر بنانا ہے،لیکن جب سے دونوں ممالک نے اس تنظیم کی رکنیت اختیار کی ہے اچھی ہمسائیگی کی جانب کوئی پیشرفت نہیں کی، بلکہ پلوامہ واقعہ کے بعد تو کشیدگی انتہائی سطح پر پہنچ چکی تھی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وہ تاریخیں بھی دے دی تھیں، جن کے دوران بھارت،پاکستان پر میزائل حملے کی تیاری کر رہا تھا،اس دوران مودی بھی اپنی انتخابی مہم میں پاکستان کے خلاف تقریریں کر رہے تھے اور اپنے عوام کو اپنی فوج کے کارناموں کی جھوٹی کہانیاں سُنا سنا کر ووٹ مانگ رہے تھے جس میں انہیں کامیابی ہوئی۔

مودی نے دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے تو امکان ہے کہ وہ انتہا پسندی کا اپنا پرانا ایجنڈا مکمل کریں گے،جس کا انہوں نے آغاز کیا ہُوا ہے،22کروڑ مسلمانوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور پارلیمینٹ میں اُن کی نمائندگی ریکارڈ کم ہو گئی ہے۔ پہلے بھی مسلمان آبادی کی نسبت کم تعداد میں پارلیمینٹ کے رکن منتخب ہوتے تھے،لیکن بی جے پی کے350ارکان میں توایک بھی مسلمان نہیں، کیونکہ کسی مسلمان کو ٹکٹ ہی نہیں دیا گیا تھا۔2014ء میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، مودی عہد کے آغاز ہی میں گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو قتل کرنا معمول بن کر رہ گیا تھا، گایوں کے ریوڑ لے جاتے ہوئے چرواہوں کو قتل کیا گیا، کسی کے گھر، ریفریجریٹر سے گوشت برآمد ہوا تو اسے اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا، مساجد پر حملے ہوئے اور مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکا گیا، بدقسمتی سے اتنی وسیع آبادی کے باوجود مسلمانوں کو کوئی ایسی قیادت نہیں مل سکی، جو اُن کو نام نہاد سیکولر بھارت میں باعزت مقام دِلا سکے، کانگرس یا دوسری پارٹیوں کے ٹکٹ پر جو مسلمان منتخب ہوئے ہیں وہ بھی بوجوہ مسلمانوں کے حق میں موثر آواز نہیں اُٹھا سکیں گے،اِس لئے مودی کا یہ دوسرا عہد بھی اُن کے لئے عذاب بنا رہے گا تاہم امکان یہ ہے کہ ردعمل میں مسلمان بھی کسی نئے سیاسی لائحہ عمل پر غور کے لئے مجبور ہو جائیں۔

مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے لئے مودی کا سارا دور ایک عذابِ مسلسل اور ڈراؤنے خواب کی حیثیت رکھتا تھا، اس پورے عرصے میں سیکیورٹی فورسز کے مظالم اپنی انتہاؤں کو چھوتے رہے، ہڑتالیں، شٹ ڈاؤن، کرفیو، تشدد، گولی اور لاٹھی معمول بن گئے، کشمیریوں نے روزانہ کی بنیاد پر اپنے نوجوانوں کے جنازے اٹھائے پورے پانچ سال کا عرصہ اسی عالم میں گزرا، مودی نے مسلمان ریاست کا وزیراعلیٰ ہندو کو بنانے کی کوشش کی۔اگرچہ اب تک تو یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں،لیکن وہ اگلے پانچ سال بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی اور باہر کے لوگوں کو کشمیر میں جائیدادیں خریدنے کا حق دِلانے کے لئے آئین میں ترمیم کا عمل شروع کیا جو تاحال کامیاب نہیں ہوا،لیکن اب وہ اپنے اس منصوبے پر دوبارہ عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اگرچہ کشمیر کی قیادت اس کے خلاف ہے اور مودی کو متنبہ کیا ہے کہ اس کوشش کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا،لیکن تازہ کامیابی کے نشے میں سرشار مودی اپنی کوششیں ترک نہیں کریں گے۔

مودی کے پورے عہد میں کشمیر کی کنٹرول لائن کا محاذ مسلسل گرم رہا، جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں، بھارتی سیکیورٹی فورسز نے کنٹرول لائن کے ساتھ اپنے کھیتوں میں کام کرتے زمینداروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا، کنٹرول لائن کے ساتھ محو ِ پرواز پاکستانی طیارے پر بھی گولیاں برسائی گئیں، اور فوجیوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی رہی، ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دینا تھا جب بھی کسی ریاست میں انتخابات یا کہیں ضمنی انتخابات ہوتے یہ سلسلہ تیز کر دیا جاتا، لوک سبھا کی حالیہ انتخابی مہم میں تو بھارتی رہنماؤں نے انتہا کر دی اور پاکستان پر حملے کی کھلم کھلا دھمکیاں دیں۔ فضائی حملہ کرکے پاکستانی علاقے میں بم گرائے گئے، اگر ان دھمکیوں کا مقصد الیکشن جیتنا تھا تو یہ مقصد تو حاصل کر لیا گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب نریندر مودی ہوش کے ناخن لیں گے؟

وزیراعظم عمران خان اگرچہ مودی کو چھوٹے ذہن کا ایسا آدمی قرار دے چکے ہیں جو بڑے عہدے پر متمکن ہو گیا ہے،لیکن اب انہوں نے مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لئے نئی کوششیں کی جائیں گی۔ مودی نے بھی جواب میں ایسی ہی مثبت خواہش کی ہے،لیکن کیا یہ نیک خواہشات محض رسمی سفارتی الفاظ ہیں یا ان میں کوئی روح بھی ہے اس کا اندازہ تو آنے والے دِنوں میں ہو گا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں ممکن ہے عمران خان اور مودی کا مصافحہ ہو جائے،لیکن ماضی میں ایسے مصافحوں کی حیثیت فوٹو سیشن سے زیادہ نہیں رہی، نواز شریف نے بھی ایسا ہی مصافحہ کیا تھا اور اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں ڈاکٹر من موہن سنگھ سے بات چیت کی تھی،پرویز مشرف تو چل کر آگرہ گئے تھے، حالانکہ انہیں واجپائی کا بس پر لاہور آنا پسند نہیں آیا تھا،لیکن آج تک تعلقات کی بہتری کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی، اگر کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اچانک پُراسرار انداز میں یہ اُٹھا ہوا قدم رُک جاتاہے اور واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اب دیکھنا ہو گا، نیک خواہشیں کوئی رنگ دکھاتی ہیں یا محض کاغذ پر لکھے ہوئے بے روح الفاظ ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ