مودی…… ہم اور کشمیر؟

مودی…… ہم اور کشمیر؟
مودی…… ہم اور کشمیر؟

  


بھارتی انتخابات کی تکمیل اور نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی نتائج و عواقب پر بات شروع ہو گئی ہے،بی جے پی اتحاد نے وزیراعظم مودی کی قیادت میں یہ انتخاب جیت لئے ہیں اور ان کو لوک سبھا میں اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، مخالف کانگرس اتحاد کے سربراہ راہول گاندھی نے شکست تسلیم کر لی اور اس انتخاب کو بھارتی عوام کا واضح فیصلہ قرار دیا ہے۔

اب مودی کے کردار اور بھارتی حکومت کے آئندہ رویے پر بات شروع ہو گئی ہے۔ہمارے نزدیک دو تین خبریں اہم ہیں پہلی تو یہ کہ مقبوضہ کشمیر میں وانی شہید کے ایک اور ساتھی کو شہید کر دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام اور حریت پسندوں کی جدوجہد کے خلاف بھارتی فوج کے مظالم کی تازہ ترین مثال ہے۔ یہ حکمت عملی اسرائیل بھارت طویل مشاورت کا نتیجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی فلسطینی جدوجہد کو کچلنے کے طریق کار پر عمل شروع ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ان نوجوانوں کو چُن چُن کر شہید کیا جاتا ہے، جن کے بارے میں اطلاع ہو کہ وہ عوامی حقوق کی جدوجہد میں شریک اور سرگرم ہیں، وانی اور دوسرے نوجوانوں کی شہادتیں اِسی حکمت ِ عملی کا نتیجہ ہیں۔

اس کے ساتھ ہی دوسری خبر پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کا بیان ہے کہ نئی حکومت اور نئے انتخابات دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ ہموار کریں گے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ کرتارپور راہداری کے حوالے سے دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات مقررہ تاریخ27مئی کو ہی ہوں گے۔ بھارتی انتخابی ماحول کے درمیان یہ مذاکرات بھی شکوک کی زد میں تھے، اسی دوران پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ٹویٹ کا تبادلہ ہے،وزیراعظم عمران خان نے مودی کو جیت پر مبارکباد دی اور توقع ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے امن کے لئے مل کر کام کریں گے، مودی کی طرف سے فوری جواب دیا گیا، مبارکباد کا شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا گیا کہ انہوں نے ہمیشہ امن کے لئے کام کیا ہے۔

مودی نے جس انداز سے اپنی انتخابی مہم چلائی اس سے یہ تجزیہ ہی بہتر ثابت ہوا کہ انتہا پسندانہ نظریات اور ہندوتوا کے پرچار نے بی جے پی کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بی جے پی کی نشستوں کی تعداد اور بعض اہم صوبوں میں کامیابی سے ثابت ہوا کہ مودی کے انتہا پسندانہ ہندو قومیت کے فلسفے اور پرچار نے اچھے بھلے ذہنوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ہمارے ایک ترقی پسند دوست کو بہت غصہ ہے وہ مغربی بنگال کی بات کر رہے تھے وہاں بھی انتہا پسندانہ نظریات ہی نے متاثر کیا اور اس صوبے میں بھی مودی کو پذیرائی مل گئی، ہمارے انہی مہربان نے نتیجہ اخذ کیا کہ ترقی پسندی یا بائیں بازو کے نظریات ہَوا ہو گئے ہیں، ان کی یہ بات درست ہے، مودی کی فتح میں ہندو قوم پرستی ہی اہم ترین وجہ ہے اور انہوں نے پاکستان کو نشانے پر رکھ کر جس طرح اشوکا دور کی واپسی اور ہندو قوم کی برتری کا پرچار کیا اس نے متاثر کن کردار ادا کیا اور اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر بھارت میں نظریاتی تبدیلی آئی اور اب تو بائیں بازوکے حامی بھی قوم پرست ہی بن گئے اور یہ کامیابی مودی کے ہندوتوا کے فلسفے اور حکمت عملی کی ہے۔

ہم ورلڈ پنجابی کانگرس اور لاہور پریس کلب کے وفود کے ساتھ قریباً پانچ بار بھارت جا چکے ہیں،اس دوران انتہائی تعلیم یافتہ ماہرین تعلیم، صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں سے صرف ملاقاتیں ہی نہیں ہوئی تھیں،بلکہ تبادلہ خیال اور مجالس مذاکرہ میں خیالات سننے کا بھی موقع ملا تھا، ہم نے جو نتائج اخذ کئے وہ بتائے بھی تھے کہ یہ اہل ِ ترین لوگ بھی دوستی کے تو قائل ہیں۔ حقوق انسانی کی مثالیں بھی دیتے اور مانتے ہیں، حتیٰ کہ اظہارِ خیال کے حامی اور انتہا پسندی کے بھی خلاف ہیں تاہم ان کا یہ سارے کا سارا موقف ان کے اپنے قومی وجود کے حوالے سے ہے اور مجموعی طور پر یہ بھی سبھی ہندو قوم پرستی کے قائل اور اپنی شرائط پر دوستی چاہتے ہیں،ان لوگوں کے نزدیک پاکستان اور بھارت میں کوئی مسئلہ یا تنازعہ نہیں، کشمیری بھارت کے ساتھ ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جو لہر ہے وہ پاکستان کی مداخلت کے باعث ہے۔ ورنہ کشمیر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ حضرات تب بھی اور اب بھی قائل ہیں کہ خطے میں امن کے لئے دونوں ممالک کو تجارت کی راہ ہموار کرنا اور تجارت شروع کرنا چاہئے کہ اس طرح ایک دوسرے کے تعلقات بڑھتے اور میل جول ہوتا ہے، اسی سے اندازہ لگا لیں کہ مودی نے اس بار جب انتہا پسندانہ نظریات کے ساتھ انتخابی مہم کو عروج پر پہنچایا تو ایسے ”انصاف پسند“ حضرات بھی اس کے ساتھ ہو لئے۔

ہمارے یہ ترقی پسند دوست بہت برہم ہیں، کہ مغربی بنگال والوں نے نظریئے سے بغاوت اور دشمنی کی ہے ان کو یہ یاد نہیں رہا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہوا، ہمارے ترقی پسند رہنماؤں نے اس معروضی حقیقت کو تو60ء، 70ء کی دہائی میں نظر انداز کیا تھا کہ پاکستان میں بھاری ترین اکثریت مسلمانوں اور دین ِ اسلام پر ایمان رکھتی ہے اور اگر اسلامی شعائر کی مخالفت ہو گی تو یہ حضرات ان کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے،اس دباؤ کو 1970ء میں پیپلزپارٹی نے محسوس کیا اور مولانا کوثر نیازی نے پہلی بار سوشلزم ہماری معیشت کے حوالے سے اسلامی سوشلزم کی بات کی اور جسے بعد میں محمد حنیف رامے نے مساوات محمدیؐ کے عنوان سے آگے بڑھایا، یوں انتخابی عمل میں پیپلزپارٹی کو فائدہ پہنچا اور کفر کے فتوؤں کے باوجود مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل ہو گئی اور اسی اکثریت کی بنیاد پر 1972ء میں اس آدھے پاکستان کی حکومت بھی ملی، سو اب یقین کر لینا چاہئے کہ سوویت یونین کے فلسفہ کمیونزم کی ترقی پسندانہ شکل کے بعد چین میں بھی نظریاتی تبدیلی ہوئی اور اب روس اور چین بھی قوم پرستی ہی کے رنگ میں مبتلا نظر آتے ہیں۔اگرچہ نظام میں معمولی تبدیلی ہوئی اور ان کی جمہوریت ان کے اپنے انداز کی ہے، اِس لئے نئے رجحانات ہی کو سامنے رکھ کر حکمت ِ عملی مفید ہو سکتی ہے،لکیر پیٹنا چھوڑ دیں۔

مزید : رائے /کالم