”پاکستانیوں کے مغالطے“

”پاکستانیوں کے مغالطے“
”پاکستانیوں کے مغالطے“

  

ہمارا ایک قومی المیہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں کتابیں قلم سے نہیں، قینچی سے تیار ہوتی چلی آتی ہیں۔ عہدِ حاضر میں الا ماشاء اللہ، فرد فرد اداکار ہو گیا ہے۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ الفاظ یا افکار کی چوری! سرقہ ہی سرقہ!! لوگوں کو بوجہ اہلِ قلم میں اپنا نام لکھوانے کا چسکا ہے۔ یار لوگ اس کے لئے کون سا حیلہ اور بہانہ اختیار نہیں کرتے؟ سستی شہرت کے طلب گاروں کی ایک لمبی قطار لگی ہے۔ یہ پروپیگنڈے کا دور ہے، لہٰذا جو ”تعلقاتِ عامہ“ کے گُر سے آگاہ ہیں، وہ راکھ کو بھی سونا بنا کر نہ صرف پیش کرنے بلکہ بیچنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بس ایک دھوکا ہی دھوکا ہے۔اس سے قطع نظر یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اکثر لکھتے وہ لوگ ہیں، جو پڑھتے بالکل بھی نہیں۔ میرا نپا تلا خیال ہے کہ اکثر مصنفین، جو درحقیقت مولفین کہلوانے کے بھی مستحق نہیں، اِدھر نگلتے اور اُدھر اُگل دیتے ہیں۔ ایک جغالی ہے کہ کرتے جاتے ہیں۔ ایک اور اذیت ناک پہلو! متعدد سطحی لوگ پہلے پیسے دے کر لکھواتے اور پھر اسی طورچھپواتے ہیں۔ یہ دھندہ کون اور کہاں کر رہا ہے؟ کون اور کہاں نہیں کر رہا؟

ہر روز مختلف النوع بیسیوں کتابیں چھپتی ہیں جن کے پڑھنے کو دل کم بہت ہی کم رضامند ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ٹھہرا کہ سال بھر میں شاید ہی کوئی کتاب، جسے واقعی کتاب قرار دیا جا سکے، چھپتی ہو۔ چند روز ہوتے ہیں احمد جواد بٹ نے یاسر پیرزادہ کے کالموں کا تازہ مجموعہ، عنایت کیا۔ ”پاکستانیوں کے مغالطے“…… ان کے ہفتہ وار کالم ”ذرا ہٹ کے“ کا ماحصل ہے۔ میں نے بے دلی سے ورق گردانی کا آغاز کیا تو کتاب کاروبار معمول سے کافی مختلف لگی اور پھر گویا اس میں کھو سا گیا۔ یہ ایک معرکے کی چیز ہے۔ عقبی سرورق سے پتہ چلا کہ یہ ان کی چوتھی کتاب ہے! ذرا ہٹ کے…… ذرا ہٹ کے (2)اور بیانیے کی جنگ!!کتاب میں کیا ہے؟ کیا نہیں ہے؟؟ ان کا اسلوب سہل اور سلجھا ہوا ہے۔ اندازِ تحریر بالکل عوامی۔ ترددنہ تکلف۔ آمد ناکہ آورد۔ انہوں نے مسجع و مقفی کی ترتیب و تشکیل میں جان نہیں کھپائی، یہاں تک کہ بعض جگہ لگتا ہے کہ جملہ عامیانہ ہو گیا ہے، حالانکہ وہ سلاست و سادگی کا شاہکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی اسے رنگا رنگ پھولوں کا گلدستہ کہے تو بھی کچھ غلط نہ ہو گا۔ معلومات کے اعتبار سے سات سُروں کا ایک بہتا دریا، جو الفاظ کے کناروں میں مقید ہے۔

تجزیہ، تبصرہ، محاکمہ، تحقیق، تنقید، طنز، مزاح، ادب، مذہب، سائنس، تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تصوف!! گاہ گاہ ان کے نقطہ ء ہائے نظر سے مجھے اختلاف بھی ہے۔ اکثر انہوں نے حتمی فیصلہ سنا دیا ہوا ہے، حالانکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ قوی رُخ! یاسر پیرزادہ کے خلوص کامل کی بناء پر کہیں بھی مناظرے کی گنجائش نہیں نکلی۔ کتاب پڑھ کر یاسر پیرزادہ، جو میرے لئے ایک اجنبی آشنا کا درجہ رکھتے ہیں،سے گلہ بھی پیدا ہوا۔ اے کاش! وہ اپنے تئیں محض کالم نگاری تک محدود نہ رکھیں، کیونکہ وہ آفاقی موضوعات میں سے کسی پر قلم اٹھانے کا ذوق و قابلیت رکھتے ہیں۔یہ ان پر قومی قرض ہے کہ قومی نشوونما و ارتقاء یا ملتِ اسلامیہ کے زوال کے اسباب پر کتابی صورت میں ضرور لکھیں جو ان شاء اللہ العزیز ایک لافانی و لازوال کاوش ہو گی۔یاسر پیرزادہ ایک بڑے باپ کے بیٹے ضرور ہیں،لیکن وہ صرف عطاء الحق قاسمی صاحب کی رعایت سے نہیں جانے جاتے۔ وہ خود آپ اپنا تعارف ہیں۔ انہوں نے اپنی جگہ خوب بنائی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ انہیں اپنے والد ماجد کے روشن حوالے کے بغیر شاید لکھنے کے زیادہ مواقع نہ مل پاتے، لیکن خوش قسمتی سے وہ اپنے باپ کی عزت میں اضافے کا سبب ٹھہرے ہیں۔

مزید : رائے /کالم