افطار پارٹی سے خوفزدہ حکومت

افطار پارٹی سے خوفزدہ حکومت
افطار پارٹی سے خوفزدہ حکومت

  

ایک افطار پارٹی پر حکمران جماعت کی وزارتوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا۔ وہ پاکستان کی موجودہ مجموعی سیاسی اخلاقی نفسیات کا سیدھا مظاہرہ ہے۔ واضح طور پر دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومتی عمال اس حوالے سے کِس قدر حساس واقع ہوئے ہیں۔حالانکہ یہ ایک سیدھی سادی روایتی تقریب بھی قرار دی جا سکتی تھی۔ ابھی چند روز قبل پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے گورنر ہاؤس میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ اس میں اخبار نویسوں اور الیکٹرانک میڈیا کے کارکنوں کو شرکت کی دعوت دی۔ مدیران اخبارات کی تنظیم کے رہنما جناب عارف نظامی نے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو افطار پارٹی میں مدعو کیا۔ ماہ صیام میں افطار پارٹی دراصل اسلامی ممالک میں ایک مذہبی تقریب کی بجائے سماجی تقریب کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر تقریب خالص پیشہ ورانہ اور ایک جیسے خیالات اور میدانِ عمل کے لوگوں پر مشتمل ہوگی تو اس میدان زندگی اور پیشہ کے بارے میں بھی گفتگو ہو گی۔ اگر خاندانی اور سماجی ہو گی تو پھر خاندانی معاملات، دوستوں کے حال احوال،گپ بازی، افواہوں اور ایک دوسرے کے حوالے سے اڑنے والی اچھی بُری خبروں پر حاشیہ آرائی بھی ہو گی۔ سو بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی سیاست دانوں پر مشتمل تھی اور چونکہ ان کا تعلق حزب اختلاف سے تھا تو ظاہر ہے کہ معاملہ حکومتی کارکردگی اور اپوزیشن کے متعلق حکومتی رویہ سے ہی تعلق رکھتا ہو گا، لیکن ہمارے وزیراعظم اور ان کی نہایت ہنر مند مشیر اطلاعات نے اسے ابو بچائیے تقریب کا نام دیا اور وزیراعظم نے چند ”شرپسندوں“ کا اجتماع قرار دیا، جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ایک ایسی صورت حال میں جب پاکستان تاریخ کے بدترین معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے اور کہتے ہوئے دل درد سے بھر آتا ہے کہ آج پاکستان کا روپیہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے، حتیٰ کہ اس ملک کے روپے یعنی افغانی جو گزشتہ چالیس سال سے مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔ اس بنگلہ دیش سے بھی جسے ہم بھوکے بنگالیوں کا علاقہ کہتے تھے، جس کی پٹ سن کے زرمبادلہ سے ہم نے اسلام آباد کی سڑکیں تعمیرکی تھیں۔ اپنے ازلی دشمن بھارت کا تو ذکر ہی کیا تو ہم نے بھارت کے روپے کے بدلے اپنے روپے کو آدھا کر لیا ہے۔ گزشتہ دس ماہ میں پاکستان کے ساٹھ لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ مہنگائی نے تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ تقریباً تیس فیصد کم کر دی ہے کہ مہنگائی تیس فیصد بڑھی ہے۔ بچوں کی سکول کی فیسیں بڑھ چکی ہیں اور سرکاری سکولوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ نہ ہی سرکاری سکولوں کی تعلیم میں بہتری ہوئی ہے۔

دہشت گردی میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔ بلوچستان خاص طور پر نشانے پر ہے۔ ہمارے دوست اب ماضی کے قصے بیان کررہے ہیں۔کبھی حمید گل کبھی میجر عامر اور کبھی ضیاء الحق کی افسانوی کہانیاں بیان ہو رہی ہیں۔ جن کے اقدامات کانتیجہ ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ میجر عامر جیسے لوگ خلوص دل سے اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور فرض ادا کرتے ہیں، کیا مسلم لیگ (ن) کو یہ علم ہے کہ اس کے انداز حکومت نے پاکستان کے غریب متوسط اور محنت کش طبقے کو کس طرح ملک کی سیاست سے باہر کر دیا ہے۔ روپے کو ہر معاملہ میں اولیت دے کر آج ملک کی سیاست ہی ارب پتیوں کی لونڈی بن چکی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، حتیٰ کہ اے این پی جیسی بزعم خود سیکولر نظریاتی جماعت بھی ارب پتی سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہے۔ بلوچستان آج بھی سرداروں کی گرفت میں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کو فکر صرف اس بات کی ہے کہ اپوزیشن اکٹھی ہو رہی ہے۔ اس بات کی فکر ہر گزنہیں کہ آج عوام کے لئے افطار پارٹی کا تصور کس قدر موہوم ہو چکا ہے۔ وہ آج بھی مسجدوں اور نام نہاد مخیر حضرات کے لگائے گئے کیمپوں میں قطار باندھے افطار کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔ ایک افطار پارٹی بلاول کے محل میں ہو گی۔ کوئی گورنر ہاؤس کے لان میں بھی ہوگی، لیکن کسی کو تھر میں افطار کے لئے پانی کی بوند کو ترستے اور غذائی کمی سے جاں بلب بچے کی یاد نہیں آ رہی ہے۔ بلاول ہاؤس، بنی گالہ، گورنر ہاؤس اور جاتی امراء کے مکینوں کی سیاسی افطار پارٹیاں عوام کے لئے ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

مزید : رائے /کالم