مہنگائی کے جن

مہنگائی کے جن
مہنگائی کے جن

  


کہا جاتا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں شیطان قید میں ہوتا ہے۔ شیطان کی اس مبینہ قید کے دوران مہنگائی کے جن بے قابو ہو جاتے ہیں اور پاکستان کے طول و عرض میں جو کچھ کرتے ہیں انہیں مہذب الفاظ میں غنڈہ گردی قرار دیا جاسکتا ہے۔ حکومت رمضان بازاروں کے ذریعے مہنگائی کے جنوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سرکاری طور پر مختلف اشیاء پر اربوں کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ ان کوششوں کے نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں مگر میڈیا کے نزدیک خبر ہمیشہ بری ہوتی ہے۔ اس لئے ان رمضان بازاروں میں قابل اعتراض چیزیں تلاش کی جاتی ہیں اور انہیں میڈیا کی سکرین پر اجاگر کیا جاتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ رمضان بازاروں میں سب اچھا ہوتا ہے۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ سب اچھا کرنے کے لئے انتطامیہ خاصی دوڑ دھوپ کرتی ہے۔ ایک مزاح نگار کے بقول انگریز عورتیں عام طور پر خوبصورت ہوتی ہیں مگر پاکستانیوں کا کمال یہ ہے کہ وہ بدصورت انگریز عورتیں نہ صرف تلاش کر لیتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ شادی بھی کر لیتے ہیں۔ اچھے رپورٹر کی نظر بھی ہمیشہ خامیوں پر پڑتی ہے اور زیادہ اچھا رپورٹر وہ ہوتا ہے جو تاج محل میں بھی نقص تلاش کر لیتا ہے اور اپنی مہارت سے یہ ثابت کر دیتا ہے کہ شاہ جہاں نے عجوبہ عالم کے ذریعے کوئی کمال نہیں کیا۔ ویسے تاج محل تو ہمارے ساحر لدھیانوی کو بھی پسند نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک شہنشاہ نے اپنی دولت کا سہارا لے کر ہم جیسے غریبوں کی محبت کا مذاق اڑایا ہے۔ ہم رمضان بازاروں کے نقادوں کو ساحر لدھیانوی قرار نہیں دے سکتے۔ کیونکہ انہیں بہتر بنانے کی ضرورت تو سب ہی محسوس کرتے ہیں۔ تیل کا ڈالر سے تعلق ہوتا ہے۔ بہت سی دوسری چیزوں کی مہنگائی کے لئے بھی آپ ڈالرکو ذمہ دار قرار دے سکتے ہیں۔ مگر مہنگائی کے جن ہر چیز کی مہنگائی کا ذمہ دار ڈالر کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ڈالر کے عروج کے پیچھے اب تک کسی نے امریکی سازش تلاش نہیں کی۔ حالانکہ ڈالر اور امریکہ کے تعلق کا سب کو علم ہے۔

ماہ رمضان میں ایک طرف مہنگائی کے جن سرگرم عمل ہوتے ہیں تو دوسری طرف کارخیر کرنے والے بھی کم نہیں ہوتے۔ مخیر حضرات زکوۃٰ دیتے ہیں۔ ان حضرات کی زکوۃٰ سے ہی پاکستان کے بہت سے ہسپتال اور دوسرے فلاحی ادارے کام کرتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے افطاری اور سحری کرانے والے بھی اکثر مقامات پر نظر آتے ہیں۔ بعض کالعدم تنظیموں پر تو یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ زکوۃٰ کی رقم کو نوجوانوں کو جنت میں پہنچانے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔تاہم اب سرکاری اور غیر سرکاری کوششوں سے ایسے معاملات پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

ماہ رمضان کا مقدس مہینہ اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لے کر آتا ہے۔ مگر بعض پرہیزگار روزہ دار غیر معمولی سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسلام مسافروں، مریضوں اور بچوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم ایسے متقی اور پرہیزگاروں کی کمی نہیں ہے جو غیر روزہ دار کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ وہ غیرمسلموں سے بھی احترام رمضان کی توقع کرتے ہیں۔ ماہ رمضان میں شاہراہوں پر پانی کے کولر بندکر دیئے جاتے ہیں۔ چند سال پہلے کراچی میں گرمی کی وجہ سے سینکڑوں اموات ہوئی تھیں۔ محمدحنیف کا خیال تھا کہ اس کی ایک وجہ لوگوں کی پرہیزگاری بھی تھی جنہوں نے اپنے کولر بند کر دیئے تھے اور گرمی کی شدت میں وہ پانی سے محروم ہو گئے تھے۔ چند عشرے قبل احترام رمضان کا غیر معمولی اہتمام کیا جاتا تھا اور اس امر کو یقینی بنایا جاتا تھا کہ کسی غیرروزہ دار کو کھانے کے لئے کچھ نہ ملے۔ ہمارے ایک دوست کے مطابق ایک دن ان کے ایک سپرنٹنڈنٹ دفتر سے اچانک غائب ہو گئے۔ اگلے روز وہ بارہ بجے دفتر آئے تو ان سے غیر حاضری کی وجہ دریافت کی۔اس پر موصوف نے بتایا کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے انہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ انہیں بھوک لگی تو انہوں نے اشیائے خورونوش کی تلاش شروع کر دی۔ انہیں کسی دوست نے بتایا کہ رمضان میں اسٹیشن پر دکانیں کھلی ہوتی ہیں۔ انہوں نے ویگن پکڑی اور اسٹیشن کے ایک ہوٹل پر کھانا منگوایا۔ ابھی انہوں نے کھانا شروع نہیں کیا تھا کہ اس ہوٹل پر مجسٹریٹ نے چھاپہ مار دیا اور لوگوں کے ٹکٹ چیک کرنے شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے موقعہ واردات سے دوڑ لگائی۔پلیٹ فارم پر ایک ٹرین کھڑی تھی۔ وہ اس میں سوار ہو گئے۔ کچھ دیر بعد وہ ٹرین چل پڑی اور اس ٹرین کا پہلا سٹاپ ساہیوال تھا۔ ساہیوال سے وہ واپس لاہور کیسے پہنچے یہ ایک الگ داستان ہے۔ تاہم ہم یہاں ضرور عرض کریں گے کہ جہاں رمضان کا احترام لازم ہے وہاں اسلام نے لوگوں کے لئے جو آسانیاں پیدا کی ہیں ان کا احترام بھی لازم ہے۔

مغرب کی عیسائی دنیا میں کرسمس اور ایسٹر بڑے زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران ہر دوکاندار سیل لگا دیتا ہے۔ تقریباً ہر چیز کی قیمت خاصی کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ تہوار کی خوشیاں انجوائے کر سکیں۔ مگر ہمارے ہاں رمضان المبارک اور عیدالفطر جیسے مقدس مواقع پر مہنگائی کے جن سرعام ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے قومی کردار کے اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رمضان میں ویسے تو ہر سال بہت کچھ ہوتا ہے اس سال فواد چودھری نے رویت ہلال کمیٹی کو ہی ناراض کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اجلاس پر چالیس لاکھ خرچ ہوتے ہیں اور چاند دیکھنے والا معاملہ سائنسی ہے اور اسے سائنسدانوں کے ذریعے حل کرایا جا سکتا ہے۔ فواد چودھری کی اس تجویز پر مفتی منیب صاحب تو باقاعدہ روٹھ گئے۔ برسوں سے وہ چاند دیکھ رہے ہیں، چاند کا اعلان کر رہے ہیں اور اب تو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مفتی منیب اگر عید کا اعلان نہیں کریں گے تو گویا عید ہی نہیں ہو گی۔ پشاور کے ایک مفتی بھی ہر سال ایک روز پہلے عید کرانے کے لئے معروف ہیں۔ عید کے معاملے میں اس اختلاف رائے پر دکھ کا اظہار بھی کیا جاتا ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ یہ مفتی حضرات ایک رونق ہی لگا دیتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم