ایسٹ انڈیا کمپنی سے آئی ایم ایف تک(1)

ایسٹ انڈیا کمپنی سے آئی ایم ایف تک(1)

جدید مغربی تہذیب دُنیا کی واحد تہذیب ہے جس کا اپنے بارے میں کیا گیا ہر دعویٰ جھوٹاہے۔ جدید مغرب خود کو ”مہذب“ کہتا ہے، اور جدید مغرب کی تاریخ بدتہذیبی سے بھری ہوئی ہے۔ جدید مغرب خود کو ایمان دار کہتا ہے اور جدید مغرب کی تاریخ لوٹ مار سے اٹی ہوئی ہے۔ جدید مغرب انسانی آزادی کو پوجتا ہے، مگر جدید مغرب کی تاریخ دوسری اقوام کو مسلسل غلام بنانے کی تاریخ ہے۔ مغرب خود کو ”عقل پرست“ یا Rational کہتا ہے، مگر مغرب سے زیادہ Irrationalکوئی نہیں، مغرب خودکو جمہوریت پسند کہتا ہے، مگر مغرب مسلم دُنیا میں کہیں اسلامی تحریکوں کو جمہوری طریقے سے اقتدار میں آتے نہیں دیکھ سکتا۔ مغرب ”مساوات“ کا دعویدار ہے، مگر اسے ”عدم مساوات“ سے زیادہ کچھ عزیز نہیں۔ آئیے مغربی اقوام کی لوٹ مار، ان کی بدتہذیبیوں اور ان کے تخلیق کئے ہوئے انسانی جہنم پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

مغربی اقوام کا تصورِ ذات یہ رہا ہے کہ اْن کی طرح کوئی نہیں ہے۔ ہٹلر جرمن قوم کو دُنیا کی سب سے برتر قوم سمجھتا تھا۔ برطانیہ نے اپنے نام کے ساتھ ”عظیم“ لگاکر خود کو Great Britainبنایا ہوا ہے۔ امریکی اپنے آپ کو دُنیا کا خدا سمجھتے ہیں، مگر مغربی اقوام نے نوآبادیاتی دور میں اپنی نوآبادیوں کو اس طرح لوٹا کہ مغربی اقوام کو چور اور ڈاکو قرار دینا چوروں اور ڈاکوؤں کی توہین ہے۔

اُتسا پٹنائک (Utsa Patnaik) دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر امریطس (Professor Emeritus)ہیں۔اُتسا پٹنائک کی تحقیق کے مطابق انگریزوں نے بھارت پر قبضے کے بعد 1765ء سے 1938ء تک 45 ہزار ارب ڈالر یا 45 ٹریلین ڈالر کی لوٹ مار کی، اور یہ رقم ہندوستان سے برطانیہ منتقل کی۔ (ہندوستان ٹائمز 30 اکتوبر 2018ء)

اُتسا پٹنائک نے اس دعوے کو اپنے ایک انٹرویو میں بھی دہرایا۔ یہ انٹرویو www.livemint.com پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اُتسا سے پوچھا گیا:

”آپ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کہا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان سے45ہزار ارب ڈالر برطانیہ منتقل کئے۔ کیا آپ اس رقم کو تناظر مہیا کرتے ہوئے بتا سکتی ہیں کہ اس رقم سے ہندوستان کی معیشت میں کیا فرق واقع ہوسکتا تھا؟“

اس کے جواب میں اُتسا پٹنائک نے کہا:

”جی ہاں یہ رقم برطانیہ منتقل ہوئی۔ یہ رقم ہندوستان میں انگریزوں کی مرکزی حکومت کے مجموعی بجٹ کا 26 سے 36 فیصد تھی، اور اگر یہ رقم ہندوستان میں رہتی تو ہندوستان زیادہ ترقی یافتہ ہوتا۔ (اس لوٹ مار کی وجہ سے) ہندوستان میں 1900ء سے 1946ء تک فی کس آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہوا، حالانکہ 1929ء سے تین دہائیاں قبل عالمی معیشت کے دائرے میں ہندوستان Surplus earnings کے اعتبار سے دُنیا کا دوسرا بڑا ملک تھا،چونکہ ہندوستان کی ساری آمدنی برطانیہ لے اڑا، اِس لئے ہندوستانی معیشت کا انجماد قابل ِ فہم ہے۔ یہ بات تکلیف دہ معنوں میں حیران کن ہے کہ 1911ء کے دوران ہندوستان کے شہریوں کی اوسط عمر صرف 22 سال تھی، چونکہ انگریزوں نے ہندوستانیوں پر بھاری محصولات عائدکئے ہوئے تھے،اِس لئے اس کا اثر غذائی اجناس کی دستیابی اور استعمال پر بھی پڑا۔ 1900ء میں ہندوستان کا ہر شہری اوسطاً 200 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا، تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد 1946ء میں ایک عام ہندوستانی بمشکل 137 کلو گرام گندم کھا رہا تھا۔ یہ صورتِ حال دُنیا کے پسماندہ ترین ملک سے بھی بدتر تھی۔ 1770ء میں بنگال میں قحط پڑا اور خود انگریزوں کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق اُس وقت بنگال کی آبادی تین کروڑ تھی۔ قحط ان میں سے ایک کروڑ افراد کو نگل گیا“۔

انگریز قبضے کے دوران ہندوستان کے 45ہزار ارب ڈالر لوٹ کر لے گئے۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ 45 ہزار ارب ڈالر کتنی بڑی رقم ہے؟ اس وقت بھارت کا شمار دُنیا کی دس بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے اور اس کی مجموعی قومی پیداوار یاجی ڈی پی تقریباً دو ہزار ارب ڈالر ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ موجودہ ہندوستان 22 سال تک جو کچھ کمائے گا وہ اُس رقم کے برابر ہوگا جو ”عظیم برطانیہ“ لوٹ کر لے گیا۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار اس وقت 305 ارب ڈالرہے۔ اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان آئندہ 148 سال تک جو کچھ کمائے گا وہ 45 ہزار ارب ڈالر کے مساوی ہو گا، یعنی برطانیہ کی لوٹ مار پاکستان کے 148 سال کی آمدنی کھا گئی۔ اس کے باوجود برطانیہ ”مہذب“ ہے۔ ”عقل پرست“ ہے۔ ”روشن خیال“ ہے۔ ”انسان دوست“ ہے۔ ”مساوات“ کا قائل ہے۔ ”عظیم“ ہے، لیکن یہ برطانیہ کا واحد ظلم نہیں تھا۔ برطانیہ ہندوستان کے معاشی استحصال کے حوالے سے اور کیا کررہا تھااُتسا پٹنائک کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ کہتی ہیں:

”انگریزوں سے پہلے ہندوستان نوابین کے ماتحت تھا اور نوابوں نے بھی عوام پر بھاری محصولات عائد کئے ہوئے تھے، مگر انگریزوں نے ٹیکس کو تین گنا کردیا۔ چنانچہ انگریزوں کی حکومت نے اہل ِ ہندوستان کو قحط زدہ کردیا۔ انگریزوں نے مزید ظلم یہ کیا کہ وہ ہندوستانیوں سے ٹیکس کی صورت میں،جو رقم حاصل کرتے تھے اْس رقم سے وہ ہندوستان کی تیار کی ہوئی مصنوعات خریدتے تھے اور یہ مصنوعات خریدکر وہ برطانیہ بھیج دیتے تھے۔ اس کا طریقہ انہوں نے یہ بنایا ہوا تھا کہ ٹیکس وصول کرنے والا''Collector''ٹیکس وصول کرتا تھا۔ انگریز یہی رقم کسی اور شخص کو دے کر اُس سے مصنوعات کی خریداری کرا لیتے تھے،چنانچہ ہندوستانیوں کو معلوم بھی نہیں ہوپاتا تھا کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس سے انگریز ہندوستانیوں کی مصنوعات خرید رہے ہیں۔ اگر یہ دونوں کام ایک ہی شخص کرتا تو پھر ہندوستانی اصل کھیل سے آگاہ ہو جاتے۔ ان حقائق کا مطلب یہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستانیوں سے مصنوعات ”مفت“ خریدتی رہی“۔

اُتسا پٹنائک سے سوال کیا گیا:

“What happend to the money that was drain out of India? what was it used for?”

ترجمہ: ”اُس رقم کا کیا بنا جو ہندوستان سے برطانیہ بھیجی گئی؟ یہ کس مقصد کے لئے بروئے کار آئی؟“

اس سوال کا جواب ان کے الفاظ میں سنیے، انہوں نے کہا:

“The modern capitalist world would not exist with out colonialism and drain”

ترجمہ: ”مغربی اقوام کے برپا کئے ہوئے نوآبادیاتی دور اور ان کی لوٹ مار کے بغیر جدید سرمایہ دار دُنیا وجود میں نہیں آسکتی تھی“۔

جدید مغرب کی جھوٹی عظمت کی پشت پر کئی چیزوں کا تذکرہ موجود ہے۔ جدید مغرب نشا ثانیہ کی تحریک کا حاصل ہے۔ صنعتی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا پروردہ ہے۔ مغربی لوگوں کی عبقریت کا ساختہ ہے۔ اہل ِ مغرب کی محنت کا ثمر ہے، مگر اُتسا پٹنائک ٹھوس شہادتوں کی بنیاد پر کہہ رہی ہیں کہ مغرب کی سرمایہ دارانہ دُنیا نوآبادیاتی تجربے اور مغربی اقوام کی لوٹ مار اور استحصال کے بغیر خلق نہیں ہو سکتی تھی۔یہ امر ظاہر ہے کہ انگریز جو کچھ ہندوستان میں کر رہے تھے، وہی کچھ وہ دوسری نوآبادیات میں بھی کر رہے تھے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انگریز اگر صرف ہندوستان سے 45 ہزار ارب ڈالر لوٹ کر لے گئے تو انہوں نے اپنی تمام نوآبادیات میں کتنی زیادہ لوٹ مار کی ہوگی، لیکن یہ معاملہ صرف انگریزوں یا برطانیہ تک محدود نہیں۔ فرانسیسی بھی اپنی کالونیوں میں یہی کر رہے تھے۔اطالوی، پرتگالی، ولندیزی اور جرمن بھی اپنی اپنی نوآبادیات میں یہی گھناؤنا کھیل کھیل رہے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود تمام مغربی اقوام ”مہذب“ بھی ہیں، ”صاحب ِ علم“ بھی ہیں، ”صاحب ِ اخلاق“ بھی ہیں۔ مسلم دُنیا کے بوکھلائے مغرب زدگان ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ اہل ِ مغرب کی طرح کوئی ایماندار نہیں۔ان کی طرح کوئی ”مہذب“ نہیں۔ ان کی طرح کوئی ”عقل مند“ نہیں۔

آپ یہ خیال نہ کیجیے گا کہ اُتسا پٹنائک اپنے خیالات میں تنہا ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ایک صحافی اور دانش ور ایوب ملک نے مغرب کے ممتاز دانشور نوم چومسکی سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں نوم چومسکی نے کیاکہا، ملاحظہ فرمائیے۔ انہوں نے کہا:

”یہ خطہ (یعنی برصغیر) 17 ویں صدی میں دُنیا کا خوشحال ترین خطہ تھا۔ ٹیکسٹائل کی مقامی صنعت جو کہ اُس وقت یورپی صنعت سے زیادہ ترقی یافتہ تھی اسے انگریز تاجروں اور انگلستان میں آنے والے صنعتی انقلاب نے تباہ کردیا۔ کیا وجہ تھی کہ 18 ویں صدی تک یورپین سیاح ہندوستان، چین اور جاپان سے متاثر نظرآتے تھے؟ 1700ء کی دہائی میں جنوبی ایشیا صنعتی ترقی میں بہت آگے تھا اور 1820ء تک برطانیہ کے صنعت کار یہاں لوہے سازی کی تربیت لینے آیا کرتے تھے۔ ریل کے انجن بنانے کی جو صنعت بمبئی میں تھی، وہ ٹیکنیکل طور پر برطانیہ کی صنعت کے برابر تھی۔ انڈیا کی لوہے کی صنعت اور بھی ترقی کرسکتی تھی اگر برطانیہ کی جانب سے امپورٹ پر ڈیوٹیاں نہ لگائی جاتیں۔ یاد رہے ہندوستان نہ صرف صنعتی لحاظ سے انگلستان سے آگے تھا، بلکہ تہذیبی لحاظ سے بھی بہت آگے تھا۔ جتنی تعداد میں کتابیں صرف بنگال میں شائع ہوتی تھیں، اتنی تعداد میں پوری دُنیا میں شائع نہیں ہوتی تھیں۔ ڈھاکہ کا مقابلہ لندن سے کیا جاتا تھا۔ انگلستان نے سٹیل ہندوستان سے لے کر اپنی ٹیکسٹائل اور شپ بلڈنگ انڈسٹری بنائی تھی“۔ (روزنامہ جنگ 10ستمبر 2018ء)

اُتسا پٹنائک نے ایک اور اہم مسئلے پر روشنی ڈالی ہے، انہوں نے مسلمانوں اور انگریزوں، اور ان کی حکومتوں کے فرق کو واضح کیا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آج کل ہندوستان میں مغلوں کے دور کے بارے میں بھی طرح طرح کی باتیں ہورہی ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت کے لوگوں کے لئے مغل اور انگریز دونوں باہر سے آئے ہوئے یا Outsider تھے؟ اس سوال کے جواب میں اتسا نے کہا:

''The Mughals did come from outside, but then waves of migration have always come from outside. What the Mughals did was exactly what the Rajasthan Princes also did. They taxed the people, but in moderation, and spent all taxes within the country.They settled here and did not retain any permanent ties with their places of origin. Clearly, the Mughals can in no way be equated with the British because there was no export drive, no cheating of local producers, and no tax-financed annual drain out of the subcontinent.''

ترجمہ: ”مغل باہر سے آئے، لیکن اگر ایسا ہے تو تارکین ِ وطن کی لہر بھی باہر ہی سے آتی ہے۔ مغلوں نے وہی کیا جو راجستھان کے مقامی شہزادوں نے کیا۔ انہوں نے لوگوں پر ٹیکس لگائے، مگر اوسط درجے کے ٹیکس۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے عوام سے حاصل ہونے والی ٹیکسوں کی رقم ملک کے اندر ہی خرچ کی۔ مغل یہیں بس گئے اور انہوں نے اپنے آبائی علاقوں سے کوئی مستقل تعلق نہ رکھا،چنانچہ مغلوں کا موازنہ کسی طرح بھی انگریزوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہندوستان سے کوئی چیز باہر برآمد نہیں کی۔ نہ ہی انہوں نے مقامی پیداکاروں یا Producer کو دھوکہ دیا اور نہ ہی انہوں نے محصولات سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے مقامی مصنوعات خرید کر باہر بھیجیں“۔

اُتسا سے پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ سے لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے؟ اس کے جواب میں اُتسا نے کہا کہ صرف برطانیہ کو نہیں، بلکہ تمام مغربی اقوام کو لوٹی ہوئی رقم اپنی سابقہ کالونیوں کو واپس کرنی چاہئے،اور انہیں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا ایک حصہ ہر سال اس کے لئے وقف کرنا چاہئے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مغربی اقوام کا اخلاقیات سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ وہ لوٹی ہوئی رقم کیا واپس کریں گی،وہ تو اپنی سابقہ کالونیز کو گزشتہ پچاس سال سے قرضوں کے جال میں جکڑنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت ترقی پذیر ممالک 4 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف پاکستان کے بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر ہوگئے ہیں اورآئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کا قرض ملنے کے بعد پاکستان کا بیرونی قرض 107 ارب ڈالر ہوجائے گا۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم