خواجہ سرا ماڈل کامی سڈ پر 14 سالہ لڑکی کو ریپ کرنے کا الزام لگ گیا

خواجہ سرا ماڈل کامی سڈ پر 14 سالہ لڑکی کو ریپ کرنے کا الزام لگ گیا
خواجہ سرا ماڈل کامی سڈ پر 14 سالہ لڑکی کو ریپ کرنے کا الزام لگ گیا

  

کراچی (ویب ڈیسک) خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور ماڈل کامی سڈ پر سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے ریپ کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا الزام لگادیا،کامی سڈ اور ان کے ساتھیوں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ثنا نامی خواجہ سرا کو 2015 میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔یہ معاملہ دراصل اس وقت شروع ہوا جب فیس بک پر مناہل بلوچ نامی ایک خاتون نے کامی سڈ پر انہیں ڈرانے دھمکانے کا الزام عائد کیا تاہم کامی سڈ نے ایسے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔ 

ڈان نیوز کے مطابق اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں مناہل بلوچ نے کہاکہ ’ریپ کرنے والوں کو سپورٹ نہ کریں، چاہیں وہ کانز 2019 کا حصہ بھی بن گئے ہوں، ریپ کرنے والے کی کوئی ایک جنس نہیں ہوتی‘۔اس پوسٹ میں انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، تاہم مناہل کے مطابق کامی سڈ نے انہیں ذاتی پیغامات بھیج کر ڈرانے کی کوشش کی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پوسٹ کا کامی سڈ سے کوئی تعلق نہیں، کامی سڈ اس سے پہلے بھی لوگوں کو ایسے ہی ڈرا دھمکا چکی ہیں اور کامی سے کی گئی بات چیت کے سکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

بعدازاں مناہل نے ایک اور ای میل کے سکرین شاٹس اپنی نئی پوسٹ میں شیئر کیے، یہ ای میل انہیں شمائلہ بھٹی کے نام سے مشہور ہوئے کامیڈین محمد معز نے بھیجی تھی جس میں انہوں نے کامی سڈ پر بچوں کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا۔ محمد معز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ انہوں نے مناہل کو یہ ای میل بھیجی تھی جس میں کامی سڈ پر لگے ریپ کے الزامات کی تفصیل ہے۔محمد معز نے فیس بک پر بھی تصدیق کی کہ انہوں نے ہی مناہل کو ای میل بھیجی تھی۔

مناہل بلوچ کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد وومن ایکشن فورم کی ممبر اور وکیل شمائلہ حسین شہانی نے بھی کامی سڈ پر ریپ کرنے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا الزام لگایا۔شمائلہ نے کامی سڈ پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے ایک 14 سالہ مخنث لڑکی کا ریپ بھی کیا تھا، جس کا اب 18 یا 19 سال کی عمر میں انتقال ہوچکا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق  کامی سڈ نے اپنے اوپر لگنے والے الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا اور کہا کہ  'یہ گروپ میرے خلاف ہے، جس میں لوگوں کے ذاتی مفادات بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ میں کچھ نہیں کہہ سکتی، اب میری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آواز اٹھائیں گے، سب ہی جانتے ہیں کہ ماضی میں کس طرح خواجہ سراؤں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا گیا'۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح