طیارہ حادثہ، سندھ نے پنجاب فرانزک لیب کو تمام لاشوں کے ڈی این اے سے روک دیا مگر کیوں؟

طیارہ حادثہ، سندھ نے پنجاب فرانزک لیب کو تمام لاشوں کے ڈی این اے سے روک دیا ...
طیارہ حادثہ، سندھ نے پنجاب فرانزک لیب کو تمام لاشوں کے ڈی این اے سے روک دیا مگر کیوں؟

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز(پی آئی اے) کے طیارے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل تاخیر کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ سندھ حکومت نے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو تمام لاشوں کا ڈی این اے کرنے سے روک دیا ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق فرانزک ایجنسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی درخواست پر صرف سینئر بیوروکریٹ خالد شیر دل کی لاش کی شناخت کی اجازت ملی ہے جبکہ خالد شیر دل کی والدہ اور بھائی کے خون کے نمونے حاصل کر لئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا تھا کہ جامعہ کراچی کی لیب نے تمام لاشوں کے ڈی این اے لئے ہیں جس کے نتائج 21 روز بعد موصول ہوں گے۔

واضح رہے کہ فرانزک ٹیم پنجاب حکومت کے حکم پر ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے کراچی پہنچی ، دوروز قبل ہونے والے حادثے میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں سے اکثریت کی لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔

دوسری جانب 2 میتوں کی شناخت کیلئے پولیس سرجن آفس سندھ نے محکمہ داخلہ پنجاب سے رابطہ کیا ہے جبکہ گزشتہ روزسید دانش اور آصف فیاض راجہ کی شناخت شناختی کارڈ سے ہوئی تھی۔ حادثے میں جاں بحق ہوانے والے 34 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جن میں سے 26 لاشیں ورثاءکے حوالے کردی گئی ہیں۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد دور دراز کے علاقوں سے کراچی آئے ہیں لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کرنے میں مشکلات آ رہی ہیں جس کے باعث لواحقین کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے، کوشش ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کا عمل جلد از جلد مکمل کرلیا جائے اور اجساد خاکی لواحقین کے حوالے کردئیے جائیں۔

مزید :

قومی -