طیارہ حادثے کے بعد فضا سوگوار لیکن مسلسل تین دن سے یہ شخص متاثرین اور امدادی ٹیموں میں کیا چیز مفت تقسیم کررہا ہے؟ جان کر آپ بھی داد دیئے بنا نہ رہ پائیں گے

طیارہ حادثے کے بعد فضا سوگوار لیکن مسلسل تین دن سے یہ شخص متاثرین اور امدادی ...
طیارہ حادثے کے بعد فضا سوگوار لیکن مسلسل تین دن سے یہ شخص متاثرین اور امدادی ٹیموں میں کیا چیز مفت تقسیم کررہا ہے؟ جان کر آپ بھی داد دیئے بنا نہ رہ پائیں گے

  

کراچی(ویب ڈیسک) طیارہ حادثہ کے بعد جناح گرائونڈ میں سوگ اور کرفیو کا سماں ہے اور خوف کے بادل چھائے ہوئے ہیں، لوگ گھروں میں محصور ہیں وہیں بعض متاثرین ایسے بھی ہیں جن کے حوصلے آسمانوں کی طرح بلند ہیں۔انہی میں سے ایک جناح گرائونڈ کا غریب رہائشی خالد حسین بھی ہے جس نے طیارہ حادثے کے بعد کار خیر کی مثال قائم کردی۔ وہ پچھلے تین روز سے شدید گرمی میں متاثرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، میڈیا کے ارکان اور امدادی ٹیموں کو ٹھنڈا منرل واٹر مفت تقسیم کررہا ہے اور اس کار خیر میں اس کے ساتھ اس کا ایک کزن اور بہنوئی بھی شامل ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خالد حسین جناح گرائونڈ کے ایک چھوٹے سے مکان میں اپنی تین بیٹیوں اور اہلیہ کے ہمراہ کرائے پر رہتا ہے اور جناح گرائونڈ گاڑیوں کی صفائی کا کام کرکے اپنے بچوں کی روزی روٹی کماتا ہے۔ جس گلی میں جہاز گر کر تباہ ہوا اس گلی کی گاڑیاں بھی خالد حسین صاف کرتا تھا۔خالد حسین نے بتایا کہ وہ چندہ جمع کرکے سخت گرمی میں پیاسوں کو پانی پلا کر قلبی سکون محسوس کرتا ہے، وہ صبح سے شام تک پانی کی سیکڑوں بوتلیں مختلف افراد میں تقسیم کرتا ہے۔ خالد حسین نے بتایا کہ جس وقت جہاز گرا وہ ہمارے لیے قیامت صغرٰی کا منظر تھا جو نہ صرف ہمارے بلکہ ہمارے بچوں کے ذہنوں میں بھی نقش ہوگیا ہے، جہاز گرتے ہی زوردار دھماکا ہوا ، آگ کے شعلے بلند ہوئے اور پھر شدید قسم کا دھواں کافی دیر تک اٹھتا رہا۔

خالد حسین جہاز گرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگیا اور کہا کہ نیلی چھتری والے رب نے کرم کیا کہ ہماری جانیں محفوظ رہیں لیکن مسافر شہید ہوگئے، تین روز سے پورا علاقہ خوف کی لپیٹ میں ہے لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے بھی خوف محسوس کررہے ہیں خدا تمام متاثرہ مکینوں کو جلد اس صورتحال سے نکالے۔

خالد حسین کا کہنا تھا کہ متاثرہ گلی کو دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے، پوری گلی کھنڈرات کا نمونہ پیش کررہی ہے اور وہاں جاتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ ایک سوال پر اس نے بتایا کہ پانی کی بوتلیں پچھلے تین روز سے کم نہیں ہوئیں، جیسے ہی ختم ہوتی ہیں علاقے کی کوئی بھی مخیر شخصیت پانی کے کارٹن بھجوا دیتی ہے، جس کی وجہ سے الحمداللہ پینے کا پانی ختم نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ وہ دن میں 10 سے گاڑیاں صاف کرتا تھا تاہم ابھی کئی گاڑیوں کو طیارہ حادثے میں شدید نقصان پہنچا ہے جس سے اس کی ماہانہ آمدن پر بھی فرق پڑے گا لیکن کوئی بات نہیں، پالنے والی ذات رب کی ہے وہ میرا رزق وسیع کردے گا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -