نیکی نہیں رکے گی، کورونا کیخلاف فرنٹ لائن ورکرز کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کیلئے سرف ایکسل نے پھر بازی جیت لی

نیکی نہیں رکے گی، کورونا کیخلاف فرنٹ لائن ورکرز کے چہروں پر مسکراہٹ لانے ...
نیکی نہیں رکے گی، کورونا کیخلاف فرنٹ لائن ورکرز کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کیلئے سرف ایکسل نے پھر بازی جیت لی

  

کراچی ( پ ر)نیکیوں کا مہینہ ”رمضان المبارک “گزر چکا اورپاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں روز عید الفطر منارہے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ماضی کے برعکس یہ عید کچھ پابندیوں میں گزر رہی ہے لیکن شوال شرو ع ہونے کے بعدبھی کئی لوگوں نے اچھائی نہیں چھوڑی، اس پریشانی کے عالم میں بھی نیکیوں کا سفر چل رہا ہے اور کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور ان کی زندگی بچانے کے لیے طبی عملہ عید کے دنوں میں بھی اپنے پیاروں کے پاس گھروں میں جانے کی بجائے ہسپتالوں میں اپنے فرائض کی ادائیگی کرکے نیکی کے کام میں مصروف ہیں، یہی وہ ہیرو ہیں جنہیں کورونا وائرس جیسی موزی مرض بھی اچھائی سے نہیں روک پائی،وہ قوم اور ملک کیلئے قربانی دے رہے ہیں یہاں تک کہ کئی ڈاکٹروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کیا، بچوں نے بھی کورونا وائرس سے لڑائی میں مصروف ڈاکٹروں اورنرسوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور حوصلہ افزائی کے لیے پینٹنگز بنائی ہیں اور سرف ایکسل ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو لوگ اچھائی نہیں چھوڑتے۔

عید الفطر کے پرمسرت موقع پر سرف ایکسل ’نیکی نہیں رکے گی‘کے عنوان سے ایک مہم کا آغاز کررہاہے جس کا مقصد کرونا کیخلاف فرنٹ لائن پر برسرپیکار ڈاکٹر، نرسز اور دیگر طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنااور دباؤ کے اس ماحول میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہے، اسی مقصد کے حصول سرف ایکسل نے بچوں کی تیار کردہ آرٹ ورک ایک بڑے بورڈ کی شکل میں ایک ہسپتال کے باہر لگادیا جسے دیکھ کر طبی عملہ بھی دنگ رہ گیا،عید کے موقع پرفرائض انجام دینے کیلئے بیوی بچوں، ماں باپ سے دور ہسپتال میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے پہنچنے والاطبی عملہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس سے پہلے بھی سرف ایکسل ایسے اقدامات اٹھاتا رہتا ہے اوربچوں کی ڈرائنگ کیساتھ”نیکی نہیں رکے گی“ کے عنوان سے شروع ہونیوالی مہم کا مقصد اپنے گھروں سے دور طبی عملے کے جذبے کو سراہنا اوران کی قربانیوں کا اعتراف ہے۔ طبی عملہ بھی سرف ایکسل کے اس وژن پر کاربند ہے کہ نیکی نہیں رکے گی، حالات کیسے ہی ہوں۔ کورونا کے آغاز میں محدود وسائل کے باوجود طبی عملہ صف اول میں رہا، اپنی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی زندگیاں بچانے کیلئے متحرک رہا، یہاں تک کہ حفاظتی سامان دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اپنی جانیں تک قربان کردیں، ایسے تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سرف ایکسل اپنی روایات کے مطابق آگے آیا۔

پاکستانی بچوں اور سرف ایکسل نے پورا ماہ اور یہاں تک کے عید کے دن بھی فرائض میں مصروف ڈاکٹروں کی خدمات کا اعتراف خوبصورت پینٹنگ سے کیا جس میں کورونا کوڈاکٹر اپنے کندھوں پر اٹھا کر پھینک رہے ہیں، یہی نہیں بلکہ کورونا کا شکار بننے والے مریضوں کو تھامنے کے لیے بھی اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں،ایک طرف کورونا کا زور ہے تو ان کے آگے طبی عملہ بھی پھیل چکا ہے، ان پینٹنگز میں بچے ڈاکٹروں کو سیلوٹ کرتے بھی واضح دیکھے جاسکتے ہیں۔ایک ہسپتال کے باہر اپنی خدمات کے اعتراف میں بنائی جانیوالی پینٹنگز پر نظر پڑنے کے بعد ان حالات میں بھی فرائض کی ادائیگی کے لیے لبیک کہنے والے طبی عملہ کے چہرے بھی مسکراہٹ دکھائی دی اور سیلفیاں لینے لگے،سرف ایکسل کا مشن بھی پاکستان کی لاکھوں فیملیز کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہے اور یہ کہ حالات جیسے بھی ہوں ”نیکی نہیں رکے گی‘۔

مزید :

بزنس -