’’لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کی جائے اور اڑھائی بجے تک جگہ کا تعین کر کے آگاہ کیا جائے’’سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا

’’لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کی جائے اور اڑھائی بجے تک جگہ کا تعین کر ...
’’لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کی جائے اور اڑھائی بجے تک جگہ کا تعین کر کے آگاہ کیا جائے’’سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا

  

اسلا م آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے چیف کمشنر کو حکم دیتے ہوئے کہا لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کی جائے ، لانگ مارچ کی جگہ تک رسائی کیلئے ٹریفک پلان ترتیب دیاجائے اورڈھائی بجے تک متبادل جگہ کا تعین کرکے آگاہ کیا جائے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے اپنا احتجاج کریں اورگھروں کو جائیں،تحریک انصاف سے یقین دہانی بھی لیں گے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیئے کہ پولیس اور سیکریٹری داخلہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، اپنی ذمہ داریاں سمجھیں ۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو گرفتاریوں کا خطرہ ہے تو ہمیں نام دیں ہم حفاظتی حکم دیں گے،سپریم کورٹ نے سب کا تحفظ کرناہے ، کوئی کہیں بھی ہو ، پاکستان ادھر ہی ہے ، ملک ہے تو ہم ہیں، آپس کی لڑائیوں میں شہریوں کو مشکل میں مت ڈالیں ۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت دوپہر اڑھائی بجے تک ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کے باعث راستوں کی بندش اور چھاپوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لینے کی اجازت دی اور سیکریٹر داخلہ، چیف کمشنر ، کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا ۔عدالت نے وفاقی اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی طلب کیا ۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے درخواست دائر کر رکھی ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہاہے جس میں مختصر وقفہ کیا گیاہے ۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ، سکول اور ٹرانسپورٹ بند ہے ،معاشی لحاظ سے ملک ناز ک دوراور دیوالیہ ہونے کے درپے ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت معیشت سے متعلق آبزرویشن دینے سے گریز کرے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں جو ہو رہاہے وہ سب کو نظر آرہاہے ،کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کرا دیا جائے گا ،پریس رپورٹس کے مطابق تمام امتحانات ملتوی ، سڑکیں بند، کاروبار بند کر دیئے گئے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے تفصیلات کا علم نہیں، معلومات لینے کا وقت دیں ،جسٹس مظہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ، ملک میں کیا حالات ہیں؟ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسلام آباد میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ، سکول اور ٹرانسپورٹ بند ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سکولوں کی بندش سے متعلق شائد آپ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دے رہے ہیں، میڈیا کی ہر رپورٹ درست نہیں ہوتی ، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سکولوں کی بندش اور امتحانات ملتوی ہونے کے سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے ،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خونی مارچ کی دھمکی دی گئی ،بنیادی طور پر راستوں کی بند کے خلاف ہوں ،عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امتحانات ملتوی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری ہواہے ،آئین میں کہیں درج نہیں کہ احتجاج کیلئے پورا ملک بند کر دو ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں یہ بھی کہیں درج نہیں کہ اسلحے سے لیس افراد کو روکا نہ جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر اسلحہ بردار لوگ ہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے دیکھ لیں گے ، ماضی میں بھی احتجاج کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی ،میڈیا کے مطابق پی ٹی آئی نے احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ سے معلوم کرتاہوں کہ درخواست پر کیا فیصلہ ہوا۔

صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس وکلا کو بھی گھروں میں گھس کر گرفتار کر رہی ہے ،سابق جج ناصرہ جاوید کے گھر میں بھی رات گئے ، پولیس نے چھاپہ مارا،مظاہرین اور حکومت دونوں ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے ، شعیب شاہی نے دلائل دیئے کہ ابھی تو احتجاج شروع ہوا ہی نہیں ہواتو مسلح افراد کہاں سے آ گئے ، مولانا فضل الرحمان دومرتبہ سر ی نگر ہائی وے پر دھرنا دے چکے ہیں،بلاول کو بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کر چکے ہیں ،ابھی بھی مظاہرین کیلئے جگہ مختص کی جا سکتی ہے ۔

سپریم کورٹ نے چیف کمشنر کو حکم دیتے ہوئے کہا لانگ مارچ کیلئے مناسب جگہ فراہم کی جائے ، لانگ مارچ کی جگہ تک رسائی کیلئے ٹریفک پلان ترتیب دیاجائے ۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے اپنا احتجاج کریں اورگھروں کو جائیں۔ عدالت عظمیٰ کا کہناتھا کہ لانگ مارچ کی جگہ تک رسائی کیلئے ٹریفک پلان ترتیب دیاجائے ۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی وکیل کوقیادت سے ہدایت لینے کیلئے ڈھائی بجے تک مہلت دیدی ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی سے یقین دہانی بھی لیں گے،۔سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈھائی بجے تک متبادل جگہ کا تعین کرکے آگاہ کیا جائے۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیل پی ٹی آئی نے عدالت سے کہا کہ جے یو آئی نے جہاں دھرنا دیا تھا ہمیں وہ جگہ دے دیں ، تمام رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹائے جائیں ، فوجداری جرم کے بغیر گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے ، چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی بنایا جائے ،  کسی پر فوجداری مقدمہ ہے تو اس کیلئے عدالتیں موجود ہیں ،  وکلاء کو ہراساں نہ کیا جائے ، دفاتر میں چھاپے نہ مارے جائیں ، لاہور میں 500 وکلاء کو گرفتار کیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سب محب الوطن  شہری ہیں ، سپریم کورٹ ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہی ہے ،  سیاسی مسائل کیلئے جمہوری طریقہ کار اپنایا جائے ۔ اٹارنی جنرل  نےعدالت کو بتایا کہ   وزیر اعظم کچھ دیر  میں مذاکرات کیلئے وزراء کی ٹیم نامزد کریں گے ،  وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ سارا معاملہ عدالت سے باہر حل ہو، سیاست دانوں کے مسائل کا حل پارلیمنٹ ہے ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی والوں سے کہیں  کہ پارلیمنٹ میں واپس آجائیں ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیا کہ یہ سیاسی بات ہے ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی والوں سے پوچھیں  یہ پر امن طور پر واپس کب جائیں گے ۔ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ یہ سیاسی فیصلے  ہوتے ہیں ، ہمارا نئے انتخابات کا مطالبہ ہے ۔

 سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے اقدامات پر سخت برہمی کا اظہار کیاہے ، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پولیس کا کام گاڑیاں توڑنا اور آگ لگانا ہے ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ لاہور میں ایک گھر سے اسلحہ برآمد ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ احتجاج روکنے کیلئے چھاپے اور گرفتاریاں غیر قانونی ہیں،پی ٹی آئی کو موٹروے یا فیض آباد بند نہیں کرنے دیں گے ،شیلنگ اور لاٹھی چارج کے حوالے سے باضابطہ حکم جاری کریں گے ۔

تحریک انصاف کی جانب سے عدالت میں استدعا کی گئی کہ جن کارکنوں گرفتار کیا گیا انہیں رہا کیا جائے ، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ایم پی او کے تحت ہونے والی ایف آرز نہیں چلیں گی ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایم پی او کے حوالے سے بھی حکم نامہ جاری کریں گے ۔

سپریم کورٹ نے شیلنگ فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی ، جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایک گھنٹے میں کچھ نہیں ہو گا ، اٹارنی جنرل کو ہدایات لینے دیں ، عدالت سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ،حکومت اور پی ٹی آئی میں روابط اور اعتماد کا فقدان ہے ،انشاءاللہ عدم توازن ختم ہو جائے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -