آئین شکنی کرنے پر  پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جائے ، عظمیٰ بخاری نے اپنی ہی حکومت سے مطالبہ کر دیا

آئین شکنی کرنے پر  پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جائے ، عظمیٰ بخاری نے اپنی ہی ...
آئین شکنی کرنے پر  پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جائے ، عظمیٰ بخاری نے اپنی ہی حکومت سے مطالبہ کر دیا

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری اپنی ہی وفاقی حکومت کے خلاف پھٹ پڑیں اور کہا کہ کیا عمران خان اتنا لاڈلہ ہے کہ  آئین شکنی کرے اور ریاست اس کا منہ دیکھے ؟، آئین شکنی کرنے پر پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جائے ۔

طلال چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پچھلے لانگ مارچ میں کیا نہیں ہوا،  کیا پارلیمنٹ پر حملہ نہیں کیا  گیا  ، اینٹیں مار مار کر عصمت جنیجو کو زندگی و موت کی دہلیز پر نہیں پہنچا دیا گیا ، پی ٹی وی کی نشریات بند نہیں کرائی گئیں ، پارلیمنٹ پر حملہ نہیں کیا گیا ،سول نافرمانی کی تحریک نہیں چلائی گئی ،  میں آج اپنی قیادت سے پوچھنا چاہتی ہوں  اور اس  میں عوام کی تائید بھی شامل ہے ، جب عمران خان کے اقدامات کو سپریم کورٹ آئین شکنی قرار دے چکی ، قومی سلامتی کے ادارے فلاپ فلم قرار دیکر ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں تو اب تک ان کے خلاف آئین شکنی کے مقدمات درج کیوں نہیں ہوئے ؟۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ   عمران خان کی تحریک انتشار پر فوری  طور پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی ہوں ،  ایک شخص جو اشتہاری ملزم تھا ، جسکی کابینہ اشتہاری ملزم تھی  وہ ملک کا وزیر اعظم بن گیاجبکہ  دوسرا ملزم صدر پاکستان بن گیا ، پارلیمنٹ سمیت دیگر اداروں پر حملہ کرنے والے صدر اور وزیر اعظم بن گئے ، اگر اس وقت انہیں سزا ملی ہوتی تو حالات یہ نہ ہوتے  ،  اس شخص نے آئین شکنی کو  وطیرہ بنا لیا ہے  ،  نواز شریف  بڑے دل کے مالک ہیں  وہ  اپنی فیملی کے ساتھ بد سلوکی  کو تو  بھول جائیں گے مگر انہیں بھی  آئین شکنی کو نہیں بھولنا چاہئے ۔

عظمی بخاری نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ملک میں  آئین عمرانیات چلے گا جس میں بتایا گیا کہ کیسے اداروں پر  لعنتیں بھیجنی ہیں ، کیسے اداروں کو دھمکا کر  اپنی مرضی کے فیصلے لینے کی کوشش کرنی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) نے 126 دن کا فساد بھگتا مگر اف نہیں کی ، مگر یہ لوگ  کب تک  ملک کو نقصان پہنچائیں گے ، یہ اتفاق نہیں کہ  عمران خان آج دھرنا دے رہے ہیں اور آج کے ہی دن آئی ایم یف سے بات ہو رہی ہے ، عمران خان  نے پہلے بھی دھرنا اس وقت دیا جب  چینی صدر آ رہے تھے ۔ وفاق سے پوچھنا ہے کہ کیا  22 کروڑ کے ملک کو ان جنونیوں کے سرپر چھوڑ دینا چاہئے ۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ  عمران خان نے اپنے لانگ مارچ کیلئے  جہاد کا لفظ استعمال کیا ہے ، سپریم کورٹ کا فیصلہ  بھی موجود ہے  کہ  کوئی انسان خود سے جہاد کا فیصلہ نہیں  کرے گا ، صرف ریاست یہ لفظ استعمال کر سکتی ہے  ،  وفاقی حکومت سے التجا کرتی ہوں کہ  مزید کھلواڑ نہیں  ہونا چاہئے ،   پاکستان کا مقدر عمران خان جیسے ذہنی مریض  نہیں ، نوا ز شریف، شہباز شریف ہیں ، اس فتنے سے نمٹنا وفاق کی ذمہ داری ہے  جو انہیں   پوری کرنی چاہئے  ، ان کے خلاف  آئین شکنی کے مقدمت درج ہونے چاہئیں ۔ 

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -